Sunday , October 21 2018
Home / Top Stories / تلگودیشم ارکان کو ملاقات کیلئے وقت دینے سے وزیر ریلوے کا انکار

تلگودیشم ارکان کو ملاقات کیلئے وقت دینے سے وزیر ریلوے کا انکار

پیوش گوئیل پر چندرا بابو کی برہمی ، ریاست کی توہین کا الزام،پارلیمنٹ میں آواز اٹھانے کا فیصلہ

امراوتی۔/14مارچ، ( پی ٹی آئی) آندھر اپردیش کے چیف منسٹر اور تلگودیشم کے صدر این چندرا بابو نائیڈو نے اپنی پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ کو ملاقات کیلئے وقت دینے سے وزیر ریلوے پیوش کمار کے انکار پر سخت برہمی کا اظہار کیا ۔ جس کے ساتھ ہی بی جے پی اور تلگودیشم کے درمیان تعلقات میں پہلے ہی پیدا شدہ کشیدگی مزید سنگین شکل اختیار کرلی۔ چندرا بابو نائیڈو نے امراوتی سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ دہلی میں اپنی پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ سے خطاب کیا اور انہیں اپنی ریاست کیلئے خصوصی موقف اور اس کی آمدنی میں ہونے والے خسارہ کا مسئلہ اٹھانے کی ہدایت کی۔ چندرا بابو نائیڈو نے کہا کہ ارکان کو چاہیئے کہ وہ اس مسئلہ کو پوری شدت کے ساتھ اٹھائیں کیونکہ فینانس بل کی منظوری کے بعد پارلیمنٹ کا اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی ہوسکتا ہے۔ انہوں نے ارکان پارلیمنٹ سے کہا کہ وہ ریاست کے حقوق کے لئے پارلیمنٹ میں جاری اپنی لڑائی میں شدت پیدا کریں اور عوام کی اُمنگوں کی ترجمانی کریں۔ نائیڈو نے کہا کہ ’’ فینانس بل کی عجلت میں منظوری کے بعد آئندہ دو دن میں پارلیمانی اجلاس ملتوی ہوسکتا ہے۔ چنانچہ آپ ہمارے تمام مسائل اٹھائیں اور ایوان ان پر بحث کریں۔‘‘ چندرا بابو نائیڈو نے کہا کہ مرکز اس ریاست کی تشویش پر موثر ردعمل کے اظہار میں ناکام ہوتے ہوئے عوام میں برہمی و ناراضگی پیدا کررہا ہے۔ تلگودیشم ارکان پارلیمنٹ کو ملاقات کا وقت دینے سے وزیر ریلوے پیوش گوئیل کے انکار پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے چندرا بابو نائیڈو نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ بی جے پی آیا تلگودیشم کی حلیف ہے یا پھر وہ وائی ایس آر کانگریس کی حلیف ہے۔ چندرا بابو نائیڈو نے جو اس مسئلہ پر عملاً برہم نظر آرہے تھے سوال کیا کہ ’’ آخر کس طرح وہ ( بی جے پی؍ وزیر ریلوے ) اپنے دوست ارکان پارلیمنٹ کو ملاقات کا وقت دینے سے انکار کرسکتے ہیں اور اس کے برخلاف اپوزیشن (وائی ایس آر کانگریس ) رکن پارلیمنٹ کو ملاقات کی اجازت دیئے ہیں۔ ایسی توہین کرنے والے وہ ( گوئیل ) ہوتے ہی کون ہیں۔ کیا یہ ریاست کی توہین نہیں ہے؟۔‘‘ چندرا بابو نائیڈو نے اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے اپنے ارکان پارلیمنٹ سے مزید کہا کہ ’’ قومی میڈیا سے آپ کو یہ کہہ دینا چاہیئے کہ ہم کوئی غیر ضروری مطالبات نہیں کررہے ہیں۔ بلکہ ہم صرف ( آندھرا پردیش تنظیم جدید ) قانون پر عمل آوری کا مطالبہ کررہے ہیں۔‘‘

تروپتی مندر میں 25کروڑ روپئے
مالیتی منسوخ شدہ نوٹوں کے بنڈل
تروپتی۔/14 مارچ، ( پی ٹی آئی) تروملا کے لارڈ وینکٹیشورا مندر میں 25کروڑ روپئے مالیتی منسوخ شدہ نوٹوں کے بنڈلس پائے گئے ہیں۔ اس مندر کے ایک عہدیدار نے کہا کہ 500 اور 1000 روپئے کے منسوخ شدہ کرنسی نوٹوں کو لاکھوں بھکتوں نے اپنی مرادیں پوری ہونے پر ہنڈی میں ڈالا تھا۔ انہوں نے کہا کہ 8 نومبر 2016 کو مرکز کی جانب سے نوٹ بندی کے چند ماہ بعد یہ ڈپازٹ کروائے گئے تھے۔ مندر چلانے والے ادارہ کے تروملا تروملا تروپتی دیوستھانم کے ایڈیشنل فینانشیل اڈوائزر اور چیف اکاؤنٹس آفیسر او بالاجی نے کہا کہ بھکتوں کی طرف سے چڑھائی گئی نقد رقم کی بھینٹ سے وابستہ جذبات کو ملحوظ رکھتے ہوئے دیوستھانم نے ریزرو بینک آف انڈیا کو کرنسی کی تبدیلی کے لئے ایک مکتوب روانہ کیا ہے اور مثبت جواب کا انتظار کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منسوخ شدہ نوٹوں کے بنڈل مندر میں ہی محفوظ رکھے گئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT