Saturday , June 23 2018
Home / شہر کی خبریں / تلگودیشم اور بی جے پی اتحاد کیخلاف قرارداد کی منظوری

تلگودیشم اور بی جے پی اتحاد کیخلاف قرارداد کی منظوری

گریٹر حیدرآباد تلگودیشم قائدین کا اجلاس، آج چندرا بابو کی رہائش گاہ پر دھرنا اور ہنگامی اجلاس

گریٹر حیدرآباد تلگودیشم قائدین کا اجلاس، آج چندرا بابو کی رہائش گاہ پر دھرنا اور ہنگامی اجلاس

حیدرآباد ۔ 5 اپریل (سیاست نیوز) گریٹر حیدرآباد تلگودیشم پارٹی قائدین نے آج پارٹی سٹی آفس میں اجلاس منعقد کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی سے تلگودیشم اتحاد کے خلاف قرارداد منظور کی۔ اجلاس کی صدارت جنرل سکریٹری گریٹر حیدرآباد تلگودیشم پارٹی مسٹر ایم این سرینواس نے کی۔ اجلاس میں بی جے پی ہٹاؤ ۔ تلگودیشم بچاؤ کے نعرے لگاتے ہوئے پارٹی قیادت کی جانب سے جاری کوششوں کو روکنے کا مطالبہ کیا گیا۔ اس اجلاس میں دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے قائدین تلگودیشم، بی جے پی اتحاد کی مخالفت کررہے تھے۔ اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ 6 اپریل کو مسٹر این چندرا بابو نائیڈو کی قیامگاہ واقع جوبلی ہلز پر بڑے پیمانے پر دھرنا منظم کیا جائے۔ علاوہ ازیں 6 اپریل کو ایک اور ہنگامی اجلاس صدر گریٹر حیدرآباد تلگودیشم پارٹی مسٹر ٹی سرینواس یادو کی زیرصدارت منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ مستقبل کی حکمت عملی تیار کی جاسکے۔ تلگودیشم قائدین نے اس اجلاس کے دوران اپنے خطاب میں کہا کہ ریاست میں تلگودیشم پارٹی کا مضبوط کیڈر ہے اور تلگودیشم پارٹی اپنے بل بوتے پر انتخابات میں حصہ لینے کے موقف میں ہے۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے بموجب تلگودیشم پارٹی قائدین نے اجلاس میں اس بات کا بھی فیصلہ کیا ہیکہ اگر تلگودیشم، بی جے پی کے درمیان انتخابی مفاہمت ہوتی ہے تو ایسی صورت میں دونوں شہروں سے تعلق رکھنے والے تلگودیشم قائدین باغی تلگودیشم امیدوار کی حیثیت سے پرچہ نامزدگی داخل کریں گے۔

اس اجلاس میں جناب مظفر علی خان، جناب علی مسقطی، جناب شہباز احمد خان، مسٹر پی ایل سرینواس، مسٹر ایم گوپال کے علاوہ دیگر قائدین موجود تھے۔ تلگودیشم قائدین نے دعویٰ کیا ہیکہ تلگودیشم پارٹی ایک سیکولر سیاسی جماعت ہے اور اس جماعت کا بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ اتحاد پارٹی کی شبیہہ کو بگاڑنے کا سبب بنے گا۔ اجلاس میں موجود قائدین نے کہا کہ پارٹی کیڈر بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہمراہ کام کرنے کیلئے قطعی طور پر تیار نہیں ہے اور اس بات سے مسٹر نائیڈو کو واقف کروا دیا گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے بھی تلگودیشم سے اتحاد کے خلاف جاری مہم کا تذکرہ کرتے ہوئے قائدین نے کہا کہ جب بی جے پی بھی نہیں چاہتی کہ اتحاد ہو اور خود تلگودیشم قائدین و کارکنوں میں بھی اس انتخابی مفاہمت پر ناراضگی پائی جاتی ہے تو ایسی صورت میں یہ انتخابی مفاہمت ناکام ثابت ہوگی۔ اجلاس میں اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ ریاستی صدر بھارتیہ جنتا پارٹی مسٹر جی کشن ریڈی کو کس طرح شکست سے دوچار کیا جائے۔ اس موقع پر موجود قائدین نے فیصلہ کیا کہ وہ بہرصورت جی کشن ریڈی کو شکست سے دوچار کرنے کیلئے کام کریں گے خواہ وہ حلقہ اسمبلی عنبرپیٹ سے مقابلہ کریں یا پھر حلقہ پارلیمان سکندرآباد سے مقابلہ کریں ان کے خلاف تلگودیشم کیڈر کام کرے گا۔

TOPPOPULARRECENT