Wednesday , June 20 2018
Home / شہر کی خبریں / تلگودیشم سے مرکزمیں دو کابینی اور تین مملکتی وزراء مقرر کرنے کا مطالبہ

تلگودیشم سے مرکزمیں دو کابینی اور تین مملکتی وزراء مقرر کرنے کا مطالبہ

صدر تلگودیشم پارٹی چندرابابو کی نریندر مودی اور راجناتھ سنگھ سے ملاقات

صدر تلگودیشم پارٹی چندرابابو کی نریندر مودی اور راجناتھ سنگھ سے ملاقات

حیدرآباد 25 مئی (سیاست نیوز) صدر تلگودیشم مسٹر این چندرابابو نائیڈو منتخب چیف منسٹر منقسم آندھراپردیش نے آج دہلی میں منتخب وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کرتے ہوئے کابینہ کی تشکیل کے اُمور پر تبادلہ خیال کیا۔ قبل ازیں انھوںنے سربراہ بھارتیہ جنتا پارٹی مسٹر راج ناتھ سنگھ سے ملاقات کرتے ہوئے کابینہ میں نشستوں کی تقسیم کے متعلق بات چیت کی۔ بتایا جاتا ہے کہ مسٹر نائیڈو نے تلگودیشم پارٹی کیلئے دو کابینی وزراء اور 3 مرکزی وزراء برائے مملکت کے عہدوں کا مطالبہ کیا ہے جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے دو کابینی وزیر اور مملکتی وزیر پر رضامندی ظاہر کئے جانے کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔ لیکن مسٹر نائیڈو جوکہ انتخابات سے قبل بی جے پی سے مفاہمت کرتے ہوئے بحیثیت حلیف آندھراپردیش میں انتخابات میں حصہ لے چکے ہیں اور بی جے پی ۔ تلگودیشم اتحاد کا زبردست مظاہرہ سیما آندھرا میں کیا گیا ہے۔ مسٹر نائیڈو جوکہ این ڈی اے کے اہم حلیف کے طور پر بی جے پی کی جانب سے بھی پیش کئے جارہے ہیں، کے مطالبات کو بی جے پی کی جانب سے نظرانداز نہ کئے جانے کی بھی تلگودیشم کو توقع ہے۔ مسٹر نائیڈو نے دونوں قائدین سے ملاقات کے دوران تلگودیشم پارٹی کو دی جانے والی کابینی نشستوں پر تبادلہ خیال کیا۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے بموجب مسٹر نائیڈو نے مرکزی وزارت آبی وسائل تلگودیشم پارٹی کو بہرصورت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ مسٹر نائیڈو کی جانب سے مرکزی وزارت آبی وسائل کے حصول کی کوششوں کے سبب تلنگانہ قائدین میں بے چینی پیدا ہورہی ہے چونکہ مرکزی وزارت آبی وسائل کے تحت برجیش مشرا ٹریبونل کے علاوہ پانی کی تقسیم کے دیگر اُمور ہوتے ہیں لیکن مسٹر نائیڈو کی جانب سے متعدد مرتبہ یہ واضح کیا جاچکا ہے کہ وہ دونوں ریاستوں کی یکساں ترقی اور مجموعی اعتبار سے دونوں ریاستوں کے ساتھ انصاف کیلئے جدوجہد کررہے ہیں۔ اطلاعات کے بموجب مسٹر نائیڈو نے اِس اہم وزارت کے لئے سینئر تلگودیشم قائد مسٹر پی اشوک گجپتی راجو کا نام تجویز کیا ہے جو سابق میں ریاستی وزیر فینانس کے عہدہ پر فائز رہ چکے ہیں اور اُن کی مجموعی کارکردگی سے کسی کو اختلاف نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT