Friday , April 27 2018
Home / شہر کی خبریں / تلگودیشم ‘طلاق ثلاثہ بل کو سلیکٹ کمیٹی سے رجوع کرنے کا مطالبہ کریگی

تلگودیشم ‘طلاق ثلاثہ بل کو سلیکٹ کمیٹی سے رجوع کرنے کا مطالبہ کریگی

این ڈی اے کی حلیف ہونے کے باوجود مسلمانوں کے جذبات کا احترام ۔ ایم ایل سی محمد احمد شریف کا بیان

حیدرآباد۔30۔ جنوری (سیاست نیوز) آندھراپردیش میں برسر اقتدار تلگو دیشم پارٹی راجیہ سبھا میں طلاق ثلاثہ بل کی مخالفت کرتے ہوئے اسے سلیکٹ کمیٹی سے رجوع کرنے کا مطالبہ کرے گی۔ پارٹی کے رکن قانون ساز کونسل محمد احمد شریف نے بتایا کہ طلاق ثلاثہ بل پر تلگو دیشم کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ این ڈی اے کی حلیف جماعت ہونے کے باوجود تلگو دیشم نے مسلمانوں کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے بل کو سلیکٹ کمیٹی سے رجوع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ حالیہ اجلاس میں پارٹی نے دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مخالفت کی تھی جس کے نتیجہ میں بل راجیہ سبھا میں منطور نہیں کیا جاسکا۔ احمد شریف نے بتایا کہ چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے پارٹی قائدین اور راجیہ سبھا ارکان کو پارٹی موقف سے واقف کرایا ۔ پارٹی کے مسلم قائدین نے طلاق ثلاثہ بل پر چندرا بابو نائیڈو کو شرعی موقف سے آگاہ کیا تھا جس پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے نائیڈو نے راجیہ سبھا ارکان کو مخالفت کی ہدایت دی۔ احمد شریف نے بتایا کہ جب کبھی طلاق ثلاثہ بل راجیہ سبھا میں پیش ہوگا ، پارٹی موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ بل میں طلاق کے مسئلہ کو فوجداری دفعات کے تحت شامل کرنے کی تائید نہیں کی جاسکتی۔ 3 سال قید کی سزا ، بچوں کو خاتون کے حوالے کرنے اور مرد کی جانب سے نان و نفقہ ادا کرنے جیسی تجاویز کو قبول نہیں کیا جاسکتا۔ مرکزی حکومت کو چاہئے کہ بل کو سلیکٹ کمیٹی سے رجوع کرتے ہوئے علماء کی رائے حاصل کرے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام میں طلاق ثلاثہ کی ممانعت کی گئی ہے ، لہذا ایسے واقعات پر قابو پانے کیلئے مسلم سماج میں شعور بیداری کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا میں تلگو دیشم نے عدم معلومات کے سبب بل کی تائید کی تھی۔ چندرا بابو نائیڈو کو جب حقائق سے واقف کیا گیا تو انہوں نے راجیہ سبھا میں مخالفت کا فیصلہ کیا ۔ احمد شریف نے آندھراپردیش کے مسلم طلبہ کیلئے سوریا نمسکار لازمی قرار دینے سے متعلق اطلاعات کو بے بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ آندھراپردیش حکومت نے اس طرح کے کوئی احکامات جاری نہیں کئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 25 جنوری کو جی او آر ٹی 51 جاری کیا گیا جس میں ڈپارٹمنٹ آف اسکول ایجوکشن اور ہائیر ایجوکیشن کے ذریعہ روزانہ صبح 6 تا 8 بجے کے درمیان خصوصی عبادت کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس جی او کے تحت مسلم مدارس یا مسلم طلبہ کو پابند نہیں کیا گیا ہے۔ لہذا دینی مدارس اور مسلمانوں کو سوریا نمسکار کے لئے مجبور کرنے سے متعلق اطلاعات بے بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے طلبہ کی بہتر صحت کو یقینی بنانے کیلئے صبح کے اوقات میں یوگا کے ساتھ عبادت کے آغاز کی تجویز پیش کی ہے۔ احمد شریف نے کہا کہ سوریا نمسکار سے مسلمانوں کا کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی چیف منسٹر نے مسلمانوںکیلئے لازمی قرار دیا ہے۔ مسلمان اور عیسائی اپنے مذہب کے مطابق صبح کے اوقات میں خصوصی عبادت کا اہتمام کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا بتایا کہ بعض گوشوں کی جانب سے حکومت کو بدنام کرنے کیلئے منصوبہ بند کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوریا نمسکار کے بارے میں مسلمانوں میں غلط فہمی کے بعد حکومت نے وضاحت کردی اور اس کا اطلاق مسلمانوں پر نہیں ہوگا۔ رکن مقننہ نے 2019 ء میں تلگو دیشم بی جے پی اتحاد کے خاتمہ سے متعلق خبروں پر وضاحت کی کہ تلگو دیشم پارٹی آئندہ انتخابات میں تنہا مقابلہ کیلئے تیار ہے۔ وائی ایس آر کانگریس نے خفیہ طور پر بی جے پی کو اتحاد کی صورت میں لوک سبھا کی زائد نشستیں الاٹ کرنے کی پیشکش کی ہے۔ اگر بی جے پی اس پیشکش کو قبول کرتی ہے تو تلگو دیشم تنہا مقابلہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اتحاد سے علحدگی کی صورت میں تلگو دیشم کے امکانات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

TOPPOPULARRECENT