Thursday , January 18 2018
Home / Top Stories / تلگودیشم قائد اوما مادھو ریڈی کا ٹی آر ایس میں شمولیت کا اعلان

تلگودیشم قائد اوما مادھو ریڈی کا ٹی آر ایس میں شمولیت کا اعلان

چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے ملاقات ، ٹی ڈی پی قائدین کو کانگریس میں شمولیت سے روکنے کی کوشش
حیدرآباد ۔12۔ ڈسمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ میں تلگو دیشم پارٹی کو اس وقت دھکا لگا جب پارٹی کی سینئر قائد اور سابق وزیر اوما مادھو ریڈی نے آج چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے ملاقات کرتے ہوئے ٹی آر ایس میں شمولیت کا اعلان کیا ۔ اس موقع پر ریاستی وزراء ہریش راؤ ، جگدیش ریڈی اور نلگنڈہ ضلع کے ٹی آر ایس انچارج کے بھوپال ریڈی موجود تھے۔ اوما مادھو ریڈی نے اپنے فرزند کے ہمراہ آج حیدرآباد میں چیف منسٹر سے پرگتی بھون میں ملاقات کی، ان کے ساتھ تلگو دیشم پارٹی بھونگیر ضلع کے صدر سندیپ ریڈی موجود تھے جو ان کے فرزند ہیں۔ 14 ڈسمبر کو دونوں اپنے حامیوں کے ہمراہ تلنگانہ بھون میں ٹی آر ایس میں رسمی طور پر شمولیت اختیار کریں گے ۔ چیف منسٹر سے ملاقات کے بعد اوما مادھو ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ ریاست کی ترقی کیلئے انہوں نے ٹی آر ایس میں شمولیت کا فیصلہ کیا ہے۔ نلگنڈہ ضلع سے تعلق رکھنے والے سابق وزیرداخلہ اے مادھو ریڈی کی بیوہ اوما مادھو ریڈی کا شمار تلگو دیشم کے سرکردہ قائدین میں ہوتا ہے۔ مادھو ریڈی کی موت کے بعد چندرا بابو نائیڈو نے اوما مادھو ریڈی کو اپنی کابینہ میں شامل کیا تھا ۔ نکسلائیٹس کے بارودی سرنگ دھماکہ میں مادھو ریڈی کی ہلاکت کے بعد انہوں نے عملی سیاست میں قدم رکھا۔ وہ طویل عرصہ تک بھونگر اسمبلی حلقہ کی نمائندگی کرتی رہی ہیں۔ تاہم گزشتہ عام انتخابات میں انہیں شکت کا سامنا کرنا پڑا۔ حال ہی میں تلگو دیشم رکن اسمبلی ریونت ریڈی کی کانگریس میں شمولیت کے بعد اوما مادھو ریڈی کی ٹی آر ایس میں شمولیت کو سیاسی حلقوں میں کافی اہمیت دی جارہی ہے۔ ان کی شمولیت کے ذریعہ ٹی آر ایس میں تلگو دیشم قائدین کی کانگریس میں شمولیت کو روکنے کی کوشش کی ہے۔

ریونت ریڈی اپنے پارٹی کے رفقاء کو کانگریس میں شامل ہونے کی ترغیب دے رہے ہیں، ایسے میں سابق وزیر کا ٹی آر ایس میں شامل ہونا برسر اقتدار پارٹی کیلئے نلگنڈہ ضلع میں فائدہ مند ثابت ہوگا۔ نلگنڈہ میں ٹی آر ایس کا موقف کسی قدر کمزور ہے اور کانگریس سے تعلق رکھنے والے جانا ریڈی اور کومٹی ریڈی برادرس کا خاصہ اثر ہے۔ ایسے میں اوما مادھو ریڈی کی شمولیت سے ریڈی طبقہ کے رائے دہندے ٹی آر ایس کی سمت راغب ہوسکتے ہیں۔ نلگنڈہ سے کانگریس کے ٹکٹ پر منتخب رکن پارلیمنٹ جی سکھیندر ریڈی نے حال ہی میں ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی ۔ اسی دوران چیف منسٹر کے سی آر کا آپریشن آکرشن جاری ہے جس کے تحت کانگریس اور تلگو دیشم سے تعلق رکھنے والے قائدین کو ٹی آر ایس میں شمولیت کی ترغیب دی جارہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کانگریس کے بعض ارکان اسمبلی چیف منسٹر کے قریبی افراد سے ربط میں ہیں اور وہ کسی بھی وقت ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرسکتے ہیں۔ ریونت ریڈی کو کمزور کرنے کیلئے ان کے اسمبلی حلقہ کوڑنگل کے کئی تلگو دیشم قائدین کو ٹی آر ایس میں شامل کرلیا گیا ہے۔ کوڑنگل امکانی ضمنی انتخاب کے پیش نظر وزراء کی ٹیم تشکیل دی جارہی ہے جو ٹی آر ایس امیدوار کی کامیابی کو یقینی بنائے گی۔ کانگریس میں شمولیت کے بعد سے ریونت ریڈی نے 9 ڈسمبر سونیا گاندھی کی سالگرہ کے دن سے باقاعدہ سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ اسی دن مرکز نے تلنگانہ ریاست کی تشکیل کا اعلان کیا تھا۔ چیف منسٹر اور ان کے افراد خاندان کے خلاف ریونت ریڈی کے الزامات سے ٹی آر ایس قائدین پریشان دکھائی دے رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT