Saturday , September 22 2018
Home / شہر کی خبریں / تلگودیشم و بی جے پی اتحاد پر پارٹی قائدین کا احتجاج و ناراضگیاں

تلگودیشم و بی جے پی اتحاد پر پارٹی قائدین کا احتجاج و ناراضگیاں

حیدرآباد 13 اپریل (سیاست نیوز) ریاست میں دو مرحلوں میں یعنی 30 اپریل اور 7 مئی کو منعقد ہونے والے عام انتخابات کے پیش نظر تلگودیشم ۔ بی جے پی انتخابی مفاہمت کے باعث پارٹی ٹکٹوں کے مسئلہ پر دونوں ہی پارٹیوں میں سخت احتجاج، ناراضگیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ 30 اپریل کو علاقہ تلنگانہ کے 17 لوک سبھا اور 119 اسمبلی حلقہ جات کے مجوزہ انتخابات کو پیش

حیدرآباد 13 اپریل (سیاست نیوز) ریاست میں دو مرحلوں میں یعنی 30 اپریل اور 7 مئی کو منعقد ہونے والے عام انتخابات کے پیش نظر تلگودیشم ۔ بی جے پی انتخابی مفاہمت کے باعث پارٹی ٹکٹوں کے مسئلہ پر دونوں ہی پارٹیوں میں سخت احتجاج، ناراضگیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ 30 اپریل کو علاقہ تلنگانہ کے 17 لوک سبھا اور 119 اسمبلی حلقہ جات کے مجوزہ انتخابات کو پیش نظر رکھتے ہوئے پارٹی امیدواروں کی جاری کردہ فہرست کے بعد پارٹی ٹکٹ سے محروم ہونے والے قائدین تلگودیشم پارٹی نے نہ صرف صدر تلگودیشم مسٹر این چندرابابو نائیڈو کی قیامگاہ کے روبرو زبردست احتجاج اور دھرنا منظم کیا بلکہ اضلاع میں تو پارٹی دفاتر میں توڑ پھوڑ مچا کر پارٹی کے وجود کو ہی ختم کردینے کے واقعات پیش آئے لیکن تلگودیشم پارٹی قیادت کو ان احتجاجوں اور پارٹی دفاتر کو نقصان پہنچائے جانے کے باوجود کوئی سبق حاصل نہیں ہوا۔ بلکہ سیما آندھرا میں دوسرے مرحلہ کے تحت 25 لوک سبھا اور 175 اسمبلی حلقہ جات کے پارٹی امیدواروں کو قطعیت دینے میں حقیقی جذبہ کے ساتھ طویل عرصہ سے پارٹی سے وابستہ قائدین و کارکنوں کو نظرانداز کرکے عین انتخابات سے

قبل دیگر پارٹیوں سے مستعفی ہوکر تلگودیشم پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والے قائدین کو پارٹی ٹکٹ دیئے جانے کے خود تلگودیشم پارٹی قائدین کی جانب سے پارٹی قیادت پر الزامات عائد کئے جارہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ آج بھی مسٹر نائیڈو کی قیامگاہ کے روبرو اپنے ہی آبائی ضلع چتور کے حلقہ اسمبلی تروپتی سے سی ایچ کرشنا مورتی سابق رکن اسمبلی کو ہی اس حلقہ سے امیدوار بنانے کے مطالبہ پر بڑے پیمانے پر احتجاج منظم کیا گیا۔ اسی طرح ضلع اننت پور میں بھی تلگودیشم پارٹی قائدین و کارکنوں میں پارٹی قیادت کے خلاف زبردست برہمی اور غصہ پایا جارہا ہے کیونکہ حقیقی قائدین کو نظرانداز کرکے حالیہ عرصہ کے دوران پارٹی سے وابستہ ہوئے افراد کو بھاری رقومات کے عوض پارٹی ٹکٹس دینے کی اطلاعات ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ضلع سریکاکلم میں بھی تلگودیشم قائدین و کارکنوں میں پارٹی قیادت کے خلاف زبردست ناراضگیاں پائی جاتی ہیں اور ان حالات کے پیش نظر سیما آندھرا میں جہاں تلگودیشم پارٹی کا موقف کافی مضبوط و مستحکم تھا، اب پارٹی کا موقف کمزور دکھائی دے رہا ہے اور پارٹی امیدواروں کی بھاری تعداد میں کامیابی غیریقینی ہورہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT