Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / تلگودیشم پارٹی چندرا بابو کی نہیں ، ہماری ہے : ای دیاکر راؤ

تلگودیشم پارٹی چندرا بابو کی نہیں ، ہماری ہے : ای دیاکر راؤ

پارٹی کو تسلیم کرنے اور ٹی آر ایس میں انضمام کرنے اسپیکر تلنگانہ اسمبلی کو مکتوب
حیدرآباد /12 فروری ( سیاست نیوز ) تلگودیشم پارٹی کو اس کے ہی ارکان اسمبلی نے زوردار جھٹکا دیتے ہوئے پارٹی سربراہ چندرا بابو نائیڈو کو حیران و پریشان کردیا ہے ۔ قائد اپوزیشن تلنگانہ تلگودیشم پارٹی دیاکر راؤنے تلگودیشم سے مستعفی ہوکر ٹی آر ایس میں شامل ہونے والے 10 ارکان اسمبلی کے دستخطوں پر مشتمل مکتوب کو اسپیکر اسمبلی تلنگانہ مدھو سدن چاری کو رانہ کرتے ہوئے دو تہائی اکثریت کی بنیاد پر انہیں حقیقی تلگودیشم کی حیثیت سے تسلیم کرنے اور انہیں ان کی جماعت تلگودیشم کو ٹی آر ایس میں ضم کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے ۔ گذشتہ تین دن کے دوران تلگودیشم پارٹی میں کئی ڈرامائی مناظر دیکھنے کو ملے ہیں ۔ بشمول قائد مقننہ تلگودیشم دیاکر راؤ کے ساتھ مزید تین تلگودیشم کے ارکان اسمبلی نے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی ہے ۔ واضح رہے کہ 2014 کے عام انتخابات میں تلنگانہ سے تلگودیشم کے 15 ارکان اسمبلی منتخب ہوئے تھے ۔ جن میں 10 ارکان اسمبلی حکمران ٹی آر ایس میں شامل ہوئے تلنگانہ تلگودیشم پارٹی میں پیدا شدہ بحران سے نمٹنے کیلئے سربراہ تلگودیشم و چیف منسٹر آندھراپردیش چندرا بابو نائیڈوفوری وجئے واڑہ سے حیدرآباد پہونچ گئے اور کل شام انہوں نے تلنگانہ تلگودیشم پارٹی کا عجلت میں اجلاس طلب کیا اور پارٹی قائدین کے ساتھ رہنے کا وعدہ کیا ۔ اجلاس میں تلگودیشم نہ چھوڑنے کا اعلان کرنے والے تلگودیشم رکن اسمبلی نارائن پیٹ ضلع محبوب نگر راجندر ریڈی اجلاس کے اختتام کے بعد تلگودیشم سے مستعفی ہونے اور ٹی آر ایس میں شامل ہونے کا اعلان کردیا ۔ دیاکر راؤ کی جانب سے اسپیکر کو مکتوب روانہ کرنے کے بعد پارٹی قائدین کا پھر ایک بار اجلاس طلب کرتے ہوئے 4 ارکان اسمبلی کو اسمبلی کی رکنیت سے محروم کرنے کی اسپیکر اسمبلی سے نمائندگی کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ چیف منسٹر تلنگانہ خصوصی منصوبہ بندی کے ذریعہ کام کر رہے ہیں ۔ تلگودیشم سے بغاوت کرنے والے ارکان اسمبلی کو بچانے کی ہرممکن کوشش کر رہے ہیں ۔ کسی بھی پارٹی کے 2/3 ارکان دوسری جماعت میں شامل ہوتے ہیں تو ان کی رکنیت کو خطرے کے امکانات کم ہوجاتے ہیں ۔ اسی بات کو بنیاد بناکر دیاکر راؤ نے اسمبلی اسپیکر تلنگانہ کو مکتوب روانہ کیا تاکہ تلگودیشم سے مستعفی ہوکر ٹی آر ایس میں شامل ہونے والے تمام 10 ارکان اسمبلی کے وی ویویکانندا سائینا ٹی کرشنا ریڈی ، دھرما ریڈی ، ٹی سرینواس یادو ، ایم کشن ریڈی ، پرکاش گوڑ ، ایم کرشنا راؤ ، ای دیاکر راؤ اور راجندر ریڈی کا مکمل تحفظ کیا جانا چاہئے ۔ دیاکر نے اپنے مکتوب میں کہا کہ انہیں حقیقی تلگودیشم تسلیم کیا جائے کیونکہ 15 کے منجملہ 10 تلگودیشم کے ارکان اسمبلی ان کے ساتھ ہیں اور ساتھ ہی انہیں تلگودیشم کو ٹی آر ایس میں ضم کرنے کی اجازت دی جائے ۔

TOPPOPULARRECENT