Thursday , May 24 2018
Home / شہر کی خبریں / تلگودیشم پارٹی کو تلنگانہ میں ٹی آر ایس کے ساتھ مفاہمت پر زور

تلگودیشم پارٹی کو تلنگانہ میں ٹی آر ایس کے ساتھ مفاہمت پر زور

پارٹی کا موقف کمزور، سینئر تلگودیشم قائد و سابق وزیر ایم نرسمہلو کا بیان
حیدرآباد ۔ 3 مارچ (سیاست نیوز) سینئر تلگودیشم پارٹی قائد و سابق وزیر مسٹرایم نرسمہلو نے پارٹی قیادت پر زور دیا کہ آئندہ انتخابات کے موقع پر جب کبھی انتخابی مفاہمت کے مسئلہ پر غور کیا جائے تب تلنگانہ میں برسراقتدار تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے ساتھ انتخابی مفاہمت کرنے پر غور کریں کیونکہ پارٹی قائدین کی کثیر تعداد جنہیں بانی تلگودیشم پارٹی نے تیار کیا تھا، تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے ساتھ وابستہ ہوچکے ہیں لہٰذا اگر موجودہ حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے برسراقتدار ٹی آر ایس پارٹی کے ساتھ مفاہمت کرنے پر طویل مدت تک پارٹی کیڈر میں ایک نیا اعتماد و بھروسہ برقرار رہ سکے گا۔ مسٹر نرسمہلو نے پارٹی قیادت سے یہ بات فوری طور پر اس وقت کہی جبکہ گذشتہ دن قومی صدر تلگودیشم پارٹی مسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے انتخابی مفاہمت کے تعلق سے کہا تھا کہ مناسب وقت پر پارٹی قائدین سے تبادلہ خیال کے بعد کسی دیگر پارٹیوں سے انتخابی مفاہمت کرنے پر غور کیا جاسکتا ہے اور مسٹر نائیڈو نے پارٹی قائدین پر زور دیا تھا کہ وہ پارٹی کو نچلی سطح سے پارٹی کو مضبوط و مستحکم بنانے کی کوشش کریں۔ مسٹر نرسمہلو نے مزید کہا کہ تلگودیشم پارٹی ریاست تلنگانہ میں تلنگانہ راشٹرا سمیتی کیلئے متبادل پارٹی تصور کی جارہی تھی لیکن گذشتہ چند ماہ سے اپنا یہ موقف کھو چکی ہے اور اس کی ایک اہم وجہ پارٹی کی کمزور قیادت ہے۔ اس کے علاوہ سابق ورکنگ صدر تلگودیشم پارٹی مسٹر اے ریونت ریڈی پارٹی کے وقار کو کمزور کرنے کے ساتھ اہم ذمہ دار ہیں جبکہ وہ نوٹ کے عوض ووٹ معاملہ میں ملوث تھے جس کی وجہ سے بھی تلگودیشم پارٹی کو زبردست نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ فی الوقت وہ تلگودیشم پارٹی کو اپنے چند حامیوں کے ساتھ چھوڑ چکے ہیں لیکن جب وہ تلگودیشم پارٹی میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے تاہم ان سے کسی نے بھی کوئی استفسار نہیں کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر پارٹی قیادت مسٹر ریونت ریڈی کو اسی وقت (جبکہ وہ نوٹ کے عوض ووٹ معاملہ) پر تلگودیشم پارٹی سے خارج کردیتی تو آج پارٹی کا موقف اتنا کمزور نہیں رہتا تھا۔ مسٹر نرسمہلو نے تلنگانہ ریاستی تلگودیشم پارٹی کی کمزور قیادت کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ جب تلگودیشم پارٹی قائدین بشمول مسٹر پرتاپ ریڈی جیسے قائد کو کسی واجبی وجوہات کے بغیر ہراساں کیا جارہا تھا۔ تب پارٹی قیادت نے مناسب انداز میں ہراسانی کے خلاف آواز نہیں اٹھائی جس کے نتیجہ میں انہیں (پرتاپ ریڈی کو) ایک ماہ تک جیل میں رہنے پر مجبور ہونا پڑا۔ مسٹر ایم نرسمہلو نے یاد دلایا کہ وہ تلگودیشم پارٹی کے قیام سے آج تک (یعنی زائد از تین دہوں سے) پارٹی سے وابستہ ہیں اور کہا کہ جب تلنگانہ جدوجہد نقطہ عروج پر تھی تب وہ واحد قائد تھے جنہوں نے مسٹر چندرا بابو نائیڈو کا ساتھ بابو نائیڈوکی تائید میں آواز اٹھائی تھی۔ انہوں نے قومی صدر تلگودیشم پارٹی مسٹر چندرا بابو نائیڈو سے اس بات کی اپیل کی کہ وہ ریاست تلنگانہ میں پارٹی کو ازسرنو مضبوط و مستحکم بنانے کیلئے زیادہ سے زیادہ وقف دیں بلکہ تلنگانہ میں پارٹی کو فعال بنانے کیلئے کارکرد و باصلاحیت قائدین کا تقرر کریں تاکہ تلگودیشم پارٹی کو مشکل حالات سے باہر نکالنے کیلئے کوشش کرسکیں۔

TOPPOPULARRECENT