Monday , November 19 2018
Home / شہر کی خبریں / تلگودیشم پارٹی کو ٹی آر ایس میں ضم کرنے ایم نرسمہلو کا مشورہ

تلگودیشم پارٹی کو ٹی آر ایس میں ضم کرنے ایم نرسمہلو کا مشورہ

چندرا بابو نائیڈو کو تلنگانہ میں پارٹی سے دلچسپی نہیں، ٹی آر ایس کابینہ میں سابق تلگودیشم قائدین موجود
حیدرآباد۔ 18جنوری (سیاست نیوز) تلنگانہ تلگودیشم کے سینئر قائد ایم نرسمہلو نے سیاسی حلقوں میں سنسنی دوڑاتے ہوئے چیف منسٹر آندھراپردیش این چندرا بابو نائیڈو کو مشورہ دیا کہ وہ تلگودیشم پارٹی کو ٹی آر ایس میں ضم کردیں کیوں کہ تلنگانہ میں پارٹی کی حالت ابتر ہے اور دن بدن خاتمہ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ تلگودیشم کے بانی آنجہانی این ٹی راما رائو کی برسی کے موقع پر نرسمہلو نے این ٹی آر گھاٹ پہنچ کر خراج عقیدت پیش کیا۔ نرسمہلو کا شمار این ٹی آر اور چندرا بابو نائیڈو کے با اعتماد رفقاء میں ہوتا ہے۔ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد چندرا بابو نائیڈو نے انہیں گورنر کے عہدے پر نامزدگی کا تیقن دیا تھا لیکن آج تک وہ وعدہ پورا نہیں ہوسکا۔ پارٹی کی موجودہ صورتحال سے مایوس نرسمہلو نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کھل کر اپنی ناراضگی اور مایوسی کا اظہار کردیا۔ انہوں نے چندرا بابو نائیڈو سے کہا کہ اگر تلنگانہ میں پارٹی کو مستحکم کرنا ہے تو انہیں خصوصی رتھ کے ساتھ تلنگانہ کا دورہ کرنا چاہئے اور اگر پارٹی کے استحکام میں دلچسپی نہیں تو پھر تلگودیشم کو برسر اقتدار ٹی آر ایس میں ضم کردیں۔ کے سی آر خود بھی تلگودیشم سے نکل کر نئی پارٹی قائم کی ہے اور ٹی آر ایس حکومت میں موجود بیشتر وزراء چندرا بابو نائیڈو کی قیادت میں کام کرچکے ہیں۔ لہٰذا دونوں ریاستوں کی بھلائی اور خوشحالی اسی میں ہے کہ پارٹی کو ضم کردیا جائے۔ تلنگانہ میں تلگودیشم کی حصہ داری 22 فیصد ہے اور 40 لاکھ رائے دہندوں نے گزشتہ انتخابات میں ووٹ دیا ہے۔ عوام کے جذبات کے احترام کی ضرورت ہے اور انضمام سے تلگودیشم کا وقار بھی باقی رہے گا۔ ٹی آر ایس میں انضمام ایک دوست کی جانب سے دوسرے دوست کو تعاون کی طرح ہوگا۔ تلنگانہ کے قائدین روزانہ توہین برداشت کرنے سے بچ جائیں گے۔ نرسمہلو نے کہا کہ اگر انضمام کرنا نہیں ہے تو پھر چندرا بابو نائیڈو کو تلنگانہ میں پارٹی کے استحکام پر توجہ دینی چاہئے۔ انہیں خصوصی رتھم پر تلنگانہ بھر کا دورہ کرنا چاہئے تاکہ دیگر جماعتوں کے مقابلہ تلگودیشم کو ٹھہرایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی قائدین ذہنی کرب اور اذیت کا شکار ہیں۔ چندرا بابو نائیڈو کو پارٹی امور کے لیے وقت نہیں مل رہا ہے۔ نرسمہلو نے کہا کہ این ٹی آر نے متحدہ آندھرا کے عوام کے دلوں میں جگہ بنالی ہے۔ سماج کے تمام طبقات کے لیے ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ کیوں کہ غریبوں اور پسماندہ طبقات کے لیے روٹی کپڑا اور مکان کی فراہمی این ٹی آر کی اسکیمات میں شامل تھے۔ آج جو بھی حکومتیں ہیں وہ این ٹی آر کی اسکیمات پر عمل کررہی ہیں، صرف اسکیمات کا نام تبدیل کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں تلگودیشم مشکلات سے دوچار ہے۔ این ٹی راما رائو کی خوابوں کی تکمیل کے لیے پارٹی کو بچانا اور آگے بڑھانا ضروری ہے۔ چندرا بابو نائیڈو آندھراپردیش میں چیف منسٹر بن چکے ہیں۔ انہیں کم از کم اپنی مصروفیات میں سے چند لمحے این ٹی آر کی برسی میں شرکت کے لیے نکالنا چاہئے تھا۔ چونکہ این ٹی آر گھاٹ حیدرآباد میں ہے لہٰذا اگر وہ شریک ہوتے تو بہتر ہوتا۔ نرسمہلو نے کہا کہ تلگودیشم کی حالت میں روزافزوں ابتری دیکھی جارہی ہے اور کوئی بھی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ کارکنوں اور عوام میں یہ احساس پیدا ہوچکا ہے کہ تلگودیشم تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے اور اس کا تلنگانہ سے صفایا ہوجائیگا۔

TOPPOPULARRECENT