Tuesday , December 11 2018

تلگودیشم کا این ٹی آر کے اُصولوں سے انحراف

کے ٹی آر کا الزام ۔ کوکٹ پلی میں انتخابی مہم میں شرکت
حیدرآباد۔/24نومبر، ( سیاست نیوز) کارگذار وزیر کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ جگن موہن ریڈی پرحملہ پر انہوں نے اظہار ہمدردی کیا تو چندرا بابو نائیڈو نے اسے سیاسی مسئلہ بنادیا۔ کے ٹی آر نے کوکٹ پلی حلقہ میں پارٹی کی انتخابی مہم میں حصہ لیتے ہوئے کارکنوں سے کہا کہ حال میں جگن موہن ریڈی پر حملہ کے موقع پر وہ سرسلہ میں مصروف تھے انہوں نے اس واقعہ پر ہمدردی کا اظہار کیا اور سہ پہر 3 بجکر 38 منٹ پر ٹوئٹر پوسٹ کیا جس میں جگن کی عاجلانہ صحت یابی کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا تھا۔ چندرا بابو نائیڈو نے اس کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ مجھ سے پہلے نائیڈو کے فرزند لوکیش نے ڈھائی بجے دن حملہ کی مذمت کی تھی لیکن اس پر نائیڈو خاموش رہے۔ نائیڈو کہہ رہے ہیں کہ کے سی آر ، کے ٹی آر، پون کلیان اور مودی تمام ایک لیکن وہ سب سے پہلے ٹوئٹ کرنے والے لوکیش کے بارے میں کیا کہیں گے۔ ہری کرشنا کی موت پر میں نے سب سے پہلے تعزیت کا اظہار کیا تھا۔ کے ٹی آر نے کہا کہ کانگریس تلگودیشم اتحاد سے این ٹی آر کی روح بے چین ہوچکی ہوگی اور وہ نائیڈو کو بددعا دے رہی ہوگی۔ کانگریس کو خلیج بنگال میں پھینکنے کے عزم کے ساتھ انہوں نے تلگودیشم قائم کی لیکن نائیڈو نے تلگودیشم کو کانگریس کی حلیف جماعت بنادیا ۔ این ٹی آر کو زندگی میں دھوکہ دینے والے نائیڈو مرنے کے بعد ان کے اصولوں سے انحراف کرلیا ۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن میں ہمت نہیں کہ وہ کے سی آر کا تنہا مقابلہ کرسکیں لہذا انہوں نے مہا کوٹمی تشکیل دیا ہے۔ کے ٹی آر نے دعویٰ کیا کہ ٹی آر ایس بھاری اکثریت سے دوبارہ برسراقتدار آئیگی۔

TOPPOPULARRECENT