Thursday , December 13 2018

تلگودیشم کا تلنگانہ میں صفایا، اوما مادھو ریڈی کا اعتراف

ٹی آر ایس میں شمولیت کی پیشکشی پر غور کرنے کا اعلان، تلگودیشم قائد کا سنسنی خیز ریمارک
حیدرآباد ۔ 17 نومبر (سیاست نیوز) تلگودیشم کی سینئر قائد سابق ریاستی وزیر اوما مادھو ریڈی نے سنسنی خیز ریمارک کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ میں تلگودیشم کا کام تمام ہوچکا ہے۔ کانگریس سے واضح تیقن نہیں ملا جس کی وجہ سے وہ ریونت ریڈی کے ساتھ کانگریس میں شامل نہیں ہوئی۔ اگر ٹی آر ایس سے پارٹی میں شامل ہونے کا پیشکش ہوتا ہے تو وہ اس پر ضرور غور کریں گی۔ کئی دنوں سے یہ افواہیں گشت کررہی ہیکہ سابق وزیر اوما مادھو ریڈی پارٹی تبدیل کرنے پر غور کررہی ہیں۔ درمیان میں کانگریس میں شامل ہونے کی اطلاعات بھی منظرعام پر آئی تھی جس پر آج انہو ںنے ہی ردعمل کا اظہار کیا۔ اسمبلی کی لابی میں میڈیا سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے اوما مادھو ریڈی نے کہا کہ یہ حقیقت ہے تلنگانہ میں تلگودیشم پارٹی ختم ہوچکی ہے۔ اس کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ کسی بھی تیقن کے بغیر وہ کانگریس میں کیسے شامل ہوسکتی ہیں۔ ریونت ریڈی کو شاید تیقن ملا ہوگا اس لئے وہ کانگریس میں شامل ہوگئے۔ اگر مجھے بھی تیقن ملا ہوتا تو وہ ریونت ریڈی کے ساتھ فلائیٹ میں دہلی پہنچ کر کانگریس میں شامل ہوجاتی تھی۔ نکسلائیٹس کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے افراد کے ارکان خاندان کو امکنہ اراضی دینے کی چیف منسٹر کے سی آر کو یادداشت پیش کرنے اما مادھو ریڈی اسمبلی پہنچی تھی۔ میڈیا کو بتایا کہ وہ تنہا کے سی آر سے ملاقات کرتی تو یہ افواہیں گشت ہوتی کہ وہ ٹی آر ایس میں شامل ہونے کیلئے چیف منسٹر سے ملاقات کی ہے۔ اس لئے انہوں نے تلگودیشم کے رکن اسمبلی وینکٹ ویریا کے ساتھ پہنچ کر چیف منسٹر سے ملاقات کی اور سب کے سامنے چیف منسٹر کو یادداشت پیش کی۔ ٹی آر ایس میں شامل ہونے کے سوال پر جواب دیتے ہوئے اوما مادھو ریڈی نے کہا کہ 2014ء کے عام انتخابات میں ان سے ٹی آر ایس میں شامل ہونے کی اپیل کی گئی تھی۔ تب وہ ٹی آر ایس میں شامل نہیں ہوئی۔ اگر اب ٹی آر ایس میں شامل ہونے کا پیشکش کیا جاتا ہے تو وہ اس پر غور ضرور کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ جس پارٹی میں شامل ہوں گی ان کا بیٹا ان کے ساتھ رہے گا۔ اگر ٹی آر ایس میں شامل ہوں گی تو کیا حلقہ پارلیمنٹ بھونگیر سے مقابلہ کریں گی کے سوال کا بے ساختہ جواب دیتے ہوئے کہا کہ ٹی آر ایس کے موجودہ رکن پارلیمنٹ بی نرسیا گوڑ کہاں جائیں گے۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہیکہ اومامادھو ریڈی قائد اپوزیشن کے جاناریڈی سے بھی رابطے میں ہے۔

 

TOPPOPULARRECENT