Friday , August 17 2018
Home / Top Stories / تلگودیشم کا فیصلہ : کرناٹک میں اثر انداز

تلگودیشم کا فیصلہ : کرناٹک میں اثر انداز

حیدرآباد ۔ 10 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : کرناٹک میں ہونے والے اسمبلی انتخابات پر بی جے پی اور تلگو دیشم کے تازہ ترین اختلافات اور تعلقات میں پیدا شدہ کشیدگی کے قابل لحاظ اثرات مرتب ہوسکتے ہیں ۔ بالخصوص کرناٹک کے سرحدی علاقوں میں بی جے پی پر اس کے منفی اثرات یقینی معلوم ہوتے ہیں ۔ کیوں کہ تلگو دیشم کے چند قائدین آندھرا پردیش سے متصلہ کرناٹک کے سرحدی اضلاع میں رہنے والے تلگو عوام کو یہ واضح پیام دے چکے ہیں کہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو ووٹ نہ دیا جائے ۔ کئی اسمبلی حلقوں بالخصوص سرحدی اضلاع رائچور ، بیلاری اور کلابرگی میں تلگو برادری کی قابل لحاظ آبادی و غیر معمولی سیاسی طاقت ہے ۔ وزیراعظم مودی کی طرف سے آندھرا پردیش کو خصوصی موقف نہ دئیے جانے پر برہم تلگو دیشم قائدین توقع ہے کہ آئندہ ہفتوں میں کرناٹک کے ان علاقوں کا دورہ کریں گے اور تلگو عوام سے خواہش کریں گے کہ بی جے پی کو ووٹ نہ دیا جائے ۔ کانگریس بھی بی جے پی کو نشانہ بنانے اس مسئلہ کا استعمال کرسکتی ہے ۔ سدارامیا وزارت کے ایک سینئیر وزیر نے کہا کہ اس ریاست میں فی الحال یہ مسئلہ نہیں ہے لیکن آئندہ چند دن میں یہ ایک اہم مسئلہ بن سکتا ہے ۔ کرناٹک میں رہنے والے آندھرا پردیش کے عوام اے پی کو خصوصی موقف نہ دئیے جانے پر بی جے پی کے خلاف ایک مہم بھی شروع کرسکتے ہیں ۔ تلگو دیشم ( ٹی ڈی پی ) فورم کے بانی ویرا کناکا میڈیلا کہا کہ بنگلورو میں مقیم آندھرا پردیش کے افراد فی الحال اس بات پر اپنے نظریات کا اظہار کررہے ہیں کہ آئندہ اقدام کیا ہونا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے حال میں فیس بک سروے کا اہتمام کیا جس میں اکثر حصہ لینے والوں نے کہا کہ بی جے پی نے دھوکہ دیا ہے ۔ اگر آئندہ چند دن کے دوران حالات تبدیل نہ ہوں گے تو ہم بنگلورو میں احتجاج شروع کردیں گے ۔ واضح رہے کہ مودی وزارت سے تلگو دیشم کے دو وزراء اشوک گجپتی راجو اور وائی ایس چودھری مستعفی ہوچکے ہیں اور جیسے کو تیسا پر مبنی جوابی کارروائی کے طور پر آندھرا پردیش کی چندرا بابو نائیڈو کابینہ سے بی جے پی کے دو وزرا کامیننی سرینواس اور مانکیا ورالو مستعفی ہوچکے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT