Thursday , June 21 2018
Home / شہر کی خبریں / تلگودیشم کو اقتدار سے روکنے ریاست کی تقسیم

تلگودیشم کو اقتدار سے روکنے ریاست کی تقسیم

حیدرآباد۔9مارچ (سیاست نیوز) صدر تلگودیشم پارٹی مسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے آج اس بات کا ادعا کیا کہ وہ دونوں ریاستوں کو مساویانہ ترقی دیتے ہوئے اپنی دیانتداری کو ثابت کردکھائیں گے ۔ آج یہاں اپنی قیامگاہ پر سابق چیف منسٹر مسٹر این کرن کمار ریڈی کابینہ کے سابق وزراء مسرس ٹی جی وینکٹیش اور ای پرتاپ ریڈی کی تلگودیشم پارٹی میں شمولیت

حیدرآباد۔9مارچ (سیاست نیوز) صدر تلگودیشم پارٹی مسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے آج اس بات کا ادعا کیا کہ وہ دونوں ریاستوں کو مساویانہ ترقی دیتے ہوئے اپنی دیانتداری کو ثابت کردکھائیں گے ۔ آج یہاں اپنی قیامگاہ پر سابق چیف منسٹر مسٹر این کرن کمار ریڈی کابینہ کے سابق وزراء مسرس ٹی جی وینکٹیش اور ای پرتاپ ریڈی کی تلگودیشم پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے کے سلسلہ میں منعقدہ ایک سادہ لیکن پُراثر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر چندرا بابو نائیڈو نے کہا کہ تلگودیشم پارٹی پر ایک تاریخی ذمہ داری دنوں ریاستوں کی ترقی کے معاملہ میں عائد ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ مسرس ٹی جی وینکٹیش اور ای پرتاپ ریڈی کا وہ تلگودیشم پارٹی میں خیرمقدم کرتے ہوئے اپنی نیک توقعات رکھتے ہیں ۔ صدر تلگودیشم پارٹی نے الزام عائد کیا کہ کانگریس پارٹی نے محض تلگودیشم پارٹی کو دھکہ دینے کیلئے ہی ریاست آندھراپردیش کی تقسیم کا فیصلہ کیاہے اور کانگریس کے اس طریقہ کار و موقف کے باعث دونوں علاقوں میں آپسی تفرقہ جات و اختلافات و نفرت میں زبردست اضافہ ہواہے ۔ انہوں نے اپنے اس خدشہ کا اظہار کیا کہ ریاست تلنگانہ کے یوم تاسیس 2جون کے بعد سرکاری ملازمین کو تنخواہیں ادا نہیں کئے جاسکیں گے ۔ نئی ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے ذریعہ سرمایہ کار دولتمند ‘ زمیندار اپنے سیاسی فائدے حاصل کرنے کے منتظر رہنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ درحقیقت وصولی کے معاملہ میں راجہ کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن اس مرتبہ مسٹر چندر شیکھر راؤ وصولی کی چال چلنے کی صورت میں تلنگانہ عوام انہیں نہ صرف منہ توڑ جواب دیں گے بلکہ بہتر سبق سکھائیں گے ۔ صدر تلگودیشم پارٹی نے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا کہ نئی ریاست تلنگانہ کا پہلا چیف منسٹر پسماندہ طبقہ کا ہونا چاہیئے تاکہ سماجی انصاف کو یقینی بنایا جاسکے ۔

سابق چیف منسٹر ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی کی زیرقیادت کانگریس حکومت کی بے قاعدگیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے مسٹر چندرا بابو نائیڈو نے کاہ کہ وائی ایس راج شیکھر ریڈی کی حکومت میں جو کرپشن و بے قاعدگیاں ہوئی ہیں ‘ اس طرح بے قاعدگیاں اور کرپشن کے واقعات آج تک دنیا کے کسی مقام پر پیش نہیں آئے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کی جانب سے ضبط کردہ املاک وغیرہ کی مالیت کو دیکھنے ہی سے کرپشن و بے قاعدگیوں کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کانگریس پارٹی نے دوسری جماعتوں بالخصوص تلگودیشم پارٹی کو ڈھکیلنے کیلئے گڑھا کودا تھا لیکن اتفاق یہ ہیکہ اپنی طرف سے کھودے ہوئے گڑھے میں کانگریس خود گرگئی ہے ۔ اس طرح دوسروں کا نقصان چاہتے ہوئے کانگریس پارٹی از خود زبردست نقصانات سے دوچار ہوئی ہے ۔ مسٹر چندرا بابو نائیڈو نے کہا کہ تلگودیشم پارٹی مضبوط و مستحکم ہوگی تو تب تلگو قوم( عوام) طاقتور بنے گی اور مسٹر این کرن کمار ریڈی و پون کلیان کے علاوہ اور کوئی بھی عوام کی بہترین ( تلگتوعوام کی ) چاہتے ہوں تو تلگودیشم پارٹی کی بھرپور تائید و حمایت کرنے کا مشورہ دیا اور دریافت کیا کہ آیا نئی سیاسی جماعتوں کے ذریعہ تلگو قوم کو کس طرح فائدہ حاصل ہوگا ۔ سنجیدگی کے ساتھ سوچ لینا چاہیئے ۔صدر تلگودیشم پارٹی نے کہا کہ اب تک ہی مار کھاتے ہوئے تلگو عوام کو اپنے اقدامات کے ذریعہ مزید نقصانات نہ ہونے جیسے اقدامات کرنے کی شدید ضرورت ہے ۔ انہوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ ابھی تک کسی جماعت سے انتخابی مفاہمت کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے ‘ تاہم اس مسئلہ پر غور کیا جارہاہے ۔

TOPPOPULARRECENT