Monday , January 22 2018
Home / شہر کی خبریں / تلگودیشم ۔ بی جے پی اتحاد میں کشیدگی ،مفاہمت ٹوٹنے کا امکان

تلگودیشم ۔ بی جے پی اتحاد میں کشیدگی ،مفاہمت ٹوٹنے کا امکان

سیما آندھرا میں زعفرانی پارٹی کے کمزور امیدواروں سے چندرا بابو نائیڈو ناراض

سیما آندھرا میں زعفرانی پارٹی کے کمزور امیدواروں سے چندرا بابو نائیڈو ناراض

حیدرآباد 17 اپریل (پی ٹی آئی) آندھرا پردیش میں بی جے پی کے ساتھ اتحاد میں ’’کشیدگی ‘‘ کی اطلاعات کی توثیق کرتے ہوئے صدر تلگودیشم این چندرا بابونائیڈو نے آج برسر عام بی جے پی کے خلاف اظہار ناراضگی کی ۔ 7 مئی کو ہونے والے سیما آندھرا انتخابات کیلئے بی جے پی کی جانب سے امیدواروں کے انتخاب پر چندرا بابو نائیڈو سخت برہم ہیں۔ کمزور امیدواروں کو نامزد کرنے سے تلگودیشم کے امکانات پر ضرب پڑتی دکھائی دے رہی ہے تاہم انہوں نے یہ نہیں کہا کہ وہ بی جے پی سے اتحاد برقرار رکھیں گے یا توڑ دیں گے۔ چندرا بابو نائیڈو نے آج شام ضلع وجیا نگرم میں پاروتی پورم مقام پر جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے بی جے پی سے اتحاد کرلیا ہے تا کہ ہم مرکز میں بی جے پی کی حکومت اور نریندر مودی کو وزیر اعظم کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ ملک میں رشوت ستانی کا خاتمہ اور کانگریس کی غلط حکمرانی کو ختم کرنے کی پالیسی کے تحت بی جے پی سے اتحاد کیا گیا ۔ یہ اتحاد ہماری ریاست کے مفاد میں ہے لیکن بی جے پی نے بعض حلقوں پر جن امیدواروں کو ٹکٹ دیا ہے وہ کمزور ترین امیدوار ہیں ان کی کامیابی کے امکانات موہوم ہیں۔ اس سے حریف پارٹیوں کو زبردست فائدہ ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ بد عنوان طاقتیں جیسے وائی ایس آر کانگریس کو اس صورتحال کا فائدہ اٹھانے کی ہر گز اجازت نہیں دی جانی چاہئے ۔ چندرا بابو نائیڈو نے بی جے پی سے اتحاد کے بارے میں مزید کوئی بات نہیں کی البتہ دونوں پارٹیوں کے قائدین نے توقع ظاہر کی کہ اتحاد کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ فی الحال اس مرحلہ پر دونوں جانب مضبوط موقف جاری ہے غلط فہمیوں کو دور کرلیا جائے گا ۔ بی جے پی اے پی یونٹ صدر کے ہری بابونے وشاکھاپٹنم میں اخباری نمائندوں سے کہا کہ بی جے پی ،تلگودیشم میں بعض چھوٹی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں جن کو دور کرلیا جائے گا ۔ ہمارا اتحاد نہ صرف برقرار رہے گا بلکہ یہ انتخابات شاندار طریقہ سے جیت جائیں گے ۔ تلگودیشم ذرائع نے کہا کہ چندرا بابو نائیڈو رات دیر گئے شہر حیدرآباد پہونچ رہے ہیں تا کہ اتحاد کے مسئلہ پر بی جے پی لیڈر پرکاش جاودیکر سے بات کرسکیں۔ چندرا بابو نائیڈو کو بی جے پی سے اتحاد کے مسئلہ پر دوسری ناراضگی یہ ہے کہ بی جے پی نے انتخابی جلسہ عام میں نریندر مودی کے ساتھ چندرا بابو نائیڈو کو بٹھانے سے انکار کردیا ہے۔ مودی ریاست کا دورہ کرنے والے ہیںوہ 22 اپریل کو انتخابی جلسہ سے خطاب کریں گے لیکن تلگودیشم کے سربراہ کو ایک حلیف پارٹی کی حیثیت سے اسٹیج پرجگہ دینے سے انکار کردیا گیا جس پر چندرا بابو نائیڈو نے ناراضگی ظاہر کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT