Monday , September 24 2018
Home / اداریہ / تلگودیشم ۔ بی جے پی اتحاد

تلگودیشم ۔ بی جے پی اتحاد

سب کے ہے پیش نظر اب صرف وقتی فائدہ اب اصولی دوستی ہے نہ اصولی دشمنی تلگودیشم ۔ بی جے پی اتحاد

سب کے ہے پیش نظر اب صرف وقتی فائدہ
اب اصولی دوستی ہے نہ اصولی دشمنی
تلگودیشم ۔ بی جے پی اتحاد
آندھراپردیش میں لوک سبھا کے ساتھ اسمبلی کیلئے بھی انتخابات ہورہے ہیں۔ یہاں کی بعض پارٹیوں کو ووٹ کے حصول کیلئے اپنی خود کی صلاحیتوں اور عوامی مقبولیت پر شبہ ہے اس لئے انتخابی اتحاد کو ترجی دے رہی ہیں۔ تلگودیشم نے ریاست آندھراپردیش میں حکمرانی کے کئی سال گذارے ہیں اب اس کو فرقہ پرستوں سے ہاتھ ملا کر اپنی سیاسی بقاء کی جنگ جیتنے کی کوشش کرنی ہے۔ بی جے پی سے اتحاد کیلئے سیٹوں کی سودے بازی اور قربانیوں کے مظاہرہ کے بعد صدر تلگودیشم چندرا بابو نائیڈو نے بی جے پی سے اتحاد کرلیا ہے۔ تلنگانہ میں بی جے پی کو لوک سبھا کی 8 نشستیں ملیں گی جبکہ اسمبلی کی 45 نشستوں پر مقابلہ کرے گی۔ اس طرح سیما آندھرا میں بی جے پی کو 5 لوک سبھا اور 13 اسمبلی حلقے دیئے جارہے ہیں جہاں تک تلنگانہ کا تعلق ہے یہاں بی جے پی علحدہ ریاست تلنگانہ کیلئے پارلیمنٹ میں بل کی منظوری کے حق میں ووٹ دینے کا حق جتا کر عوام سے ووٹ لینے کی کوشش کرے گی جبکہ تلنگانہ بنانے کی اصل دعویدار ٹی آر ایس اور کانگریس کے درمیان اتحاد نہیں ہوسکا۔ تلنگانہ کو اپنے سیاسی مستقبل کیلئے مضبوط گڑھ تصور کرنے والی ٹی آر ایس کو کانگریس سے سبقت حاصل ہوتی ہے تو نئی ریاست کی سرکار اس کے ہاتھ میں ہوگی۔ تاہم تلگودیشم اور بی جے پی کو سیاسی اتحاد کا کس حد تک فائدہ پہنچے گا یہ نتائج ہی بتائیں گے لیکن اس اتحاد پر سیکولر رائے دہندوں کو شدید دھکہ پہنچے گا کیونکہ ریاست کا سیکولر رائے دہندہ تلگودیشم کو کانگریس کا بہترین متبادل متصور کرتا تھا اس نے خاص کر پارٹی سربراہ چندرا بابو نائیڈو نے اپنی ناکامیوں کے باوجود سبق نہیں سیکھا ہے۔ این ڈی اے کے دور میں مودی کا ساتھ دینے کی پاداش میں آندھراپردیش کے رائے دہندوں نے 2004 اور 2009ء میں تلگودیشم کو مسترد کردیا تھا۔ اس عوامی ناراضگی کے باوجود اب 2014ء کے انتخابات میں انہوں نے باقاعدہ سیاسی اتحاد کیا ہے تو یہ تلگودیشم کے سیاسی تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔ سیاسی محبت کی وارفتگی کا تقاضہ تو شاید یہی ہوتا ہیکہ دوست نصیحتوں کے دفتر کھولنے کے بجائے غمگساری و چارہ سازی کا اہتمام کریں کیونکہ مریض حرص اقتدار حد سود و زیاں سے خاصا دور نکل چکا ہوتا ہے۔ تلگودیشم نے بی جے پی سے اتحاد کرکے جس سیاسی محبت کا مظاہرہ کیا ہے اس کو رائے دہندہ کس آنکھ سے دیکھیں گے اور ووٹ ڈالنے کا مظاہرہ کس جذبہ سے کریں گے یہ تو وقت پر معلوم ہوگا۔ اگر چندرا بابو نائیڈو سوچتے ہیں کہ مکتب سیاسی حرص و جنوں میں یہ سب بجا ہے تو پھر عوام کو سمجھ لینا چاہئے کہ ریاست کا نظام بھی اسی طرح حرص کی دیوار سے اٹکا کر چلایا جائے گا۔ آندھراپردیش میں تلگودیشم سے ہٹ کر دیگر پارٹیاں بھی ہیں خاص کر تلگو اداکار پون کلیان کی نئی پارٹی نے ریاست کے انتخابی رجحان پر اثر ڈالنے کی کوشش کے حصہ کے طور پر قدم رکھا ہے لیکن کانگریس کے حلقوں میں قائدین کی جانب سے جس طرح ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے دیگر پارٹیوں میں شمولیت کا رجحان بڑھ رہا ہے اس سے سیاسی اتھل پتھل کا ایک تبدیل شدہ منظر بھی مختلف نتائج برآمد کرسکتا ہے۔ کانگریس سے نکل کر کئی سیما آندھرا قائدین نے تلگودیشم میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ سابق وزراء دھرمنا پرساد راؤ، موپڈیوی وینکٹ رمنا نے تلگودیشم میں شمولیت حاصل کی اب ایم پی سامبا سیوا راؤ نے بھی تلگودیشم کا رخ کیا ہے۔ ان سب تبدیلیوں کا مقصد اور مطلب انتخابات میں پارٹی ٹکٹ حاصل کرنا ہے۔ کانگریس سے نکل کر ٹی آر ایس میں آنے والے جی وویکانند بھی دوبارہ کانگریس میں واپس ہوچکے ہیں۔ اسی طرح کی سیاسی دوستی اور دشمنی کے مظاہرے ٹکٹ کے حصول تک جاری رہیں گے۔ سامبا سیوا راؤ کا تعلق تلنگانہ سے نہیں ہے وہ آندھراپردیش کی تقسیم کیلئے پارلیمنٹ میں جاری بحث کے دوران احتجاج کرنے اور کارروائی کو مفلوج بنانے کی کوشش کرنے والے 6 ارکان پارلیمنٹ کے گروپ میں شامل تھے جنہیں کانگریس نے برطرف کردیا تھا۔ سیاسی بیروزگاری کا شکار ان تمام 6 ارکان پارلیمنٹ کو کہیں نہ کہیں جگہ تلاش کرنی تھی یہ لوگ رائے دہندوں پر یہ کہہ کر اثر انداز ہونے کی کوشش کریں گے کہ انہوں نے حق کیلئے لڑائی لڑی تھی۔ سیما آندھرا میں تلگودیشم کو بی جے پی سے کوئی خاص فائدہ حاصل نہیں ہوگا بلکہ سیما آندھرا کا رائے دہندہ ریاست کی تقسیم کیلئے بی جے پی کو بھی ذمہ دار ٹھہراتا ہے تو اس ناراضگی کا خمیازہ تلگودیشم کو بھی بھگتنا پڑے گا لہٰذا تلگودیشم کو دونوں جگہ عوام کی نفرت ہی ملے گی۔ جب ووٹ ڈالے جائیں گے تو منقسم رائے دہی سے پارٹیوں کو کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ تلگودیشم کو عزیز رکھنے والے مسلم رائے دہندے بھی بی جے پی سے اتحاد پر ناراض ہوں گے۔ اقلیتوں کے دونوں سے محروم ہونے کے بعد مسلسل انتخابی ناکامیوں کا سامنا کرنے والی تلگودیشم کو اس نئی غلطی کی سزاء بھی اتنی ہی شدید ملے گی کہ تلگودیشم کی بقاء خطرہ میں پڑجائے گی۔ انتخابات کے بعد معذوری کا کوئی عذر قابل مسموع نہ ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT