Monday , September 24 2018
Home / شہر کی خبریں / تلگودیشم ۔ بی جے پی اعلی قیادت مفاہمت پر متفق ؟

تلگودیشم ۔ بی جے پی اعلی قیادت مفاہمت پر متفق ؟

نشستوں پر اختلاف برقرار : آج قطعی فیصلہ کا امکان

نشستوں پر اختلاف برقرار : آج قطعی فیصلہ کا امکان

حیدرآباد ۔ 5 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : عام انتخابات کیلئے تلگو دیشم اور بی جے پی کے مابین انتخابی مفاہمت کے مسئلہ پر باقاعدہ معاہدہ تو ہوچکا ہے لیکن نشستوں کی تقسیم کے مسئلہ پر رات دیر گئے تک صدر تلگو دیشم پارٹی مسٹر این چندرا بابو نائیڈو کی قیام گاہ پر بات چیت کے دوران دونوں پارٹیوں کے قائدین کی بات چیت جاری رہی اور کوئی قطعی فیصلہ نہیں ہوسکا ۔ دوبارہ کل 6 اپریل کو بات چیت جاری رہ سکتی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ بی جے پی قومی قائدین اور تلگو دیشم قائدین نے آج پہلے مرحلہ کی بات چیت کی اور ایک معاہدہ یہ طئے پایا کہ تلنگانہ میں بی جے پی کیلئے 45 اسمبلی حلقہ جات اور 8 پارلیمانی حلقہ جات کے علاوہ سیما آندھرا میں 15 اسمبلی اور 5 پارلیمانی حلقہ جات دئیے جائیں گے ۔ لیکن نشستوں کے مسئلہ پر تجسس برقرار رہا ۔ کونسی نشستیں دی جائیں گی اس پر قطعی فیصلہ نہیں ہوسکا کیونکہ بی جے پی بعض ایسے حلقوں کا مطالبہ کررہی ہے کہ جہاں سے تلگو دیشم اسمبلی میں نمائندگی بھی کررہی ہے ۔ ذرائع نے کہا کہ ابتدائی مرحلہ کے تحت بی جے پی قومی قائدین مسرس پرکاش جاوڈیکر اور سریش گجرال نے تلگو دیشم قائدین مسرس سوجنا چودھری ، ای دیاکر راؤ تلنگانہ تلگو دیشم قائد و دیگر کے ساتھ طویل بات چیت کی اور انتخابی مفاہمت کے تعلق سے اصولی طور پر اتفاق کرلیا گیا ۔

تلگو دیشم قائدین صدر پارٹی سے صلاح و مشورہ کیلئے روانہ ہوئے اور بات چیت کی تفصیلات سے واقف کروایا ۔ بتایا جاتا ہے کہ تلگو دیشم کے بعض قائدین کی نشستوں کو بی جے پی کے مطالبہ کی روشنی میں خطرہ لاحق ہونے کا امکان ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ بی جے پی وشاکھا پٹنم حلقہ کیلئے شریمتی پورندیشوری ، نرسا راؤ پیٹ حلقہ لوک سبھا کی نشست تلگو فلم اسٹار مسٹر کرشنم راجو کیلئے چھوڑنے پر اپنا اٹل ہے جبکہ نرسا راو پیٹ سے موجودہ تلگو دیشم ایم پی وینوگوپال ریڈی نمائندگی کررہے ہیں اور وشاکھا پٹنم میں تلگو دیشم قائدین اور کیڈر کا طاقتور موقف ہے لہذا ان نشستوں کو چھوڑنے تلگو دیشم تیار نہیں ہے ۔ تلنگانہ میں حلقہ جات لوک سبھا کیلئے کوئی خاص مسئلہ تلگو دیشم کیلئے درپیش نہیں ہے ۔ اسمبلی حلقوں کیلئے مسائل ہیں اور بعض حلقہ جات کی بی جے پی کی جانب سے نشاندہی کے ساتھ مخالفت بھی کیں ۔ تلگو دیشم قائدین کا احساس ہے کہ بی جے پی ضلع رنگاریڈی اور حیدرآباد میں زیادہ نشستیں حاصل کرنے کوشاں ہے تاکہ آئندہ انتخابات میں اس کا فائدہ اٹھایا جاسکے ۔ بتایا جاتا ہے کہ بی جے پی شہر کے مضافاتی علاقہ کے اسمبلی حلقوں مہیشورم ایل بی نگر ، میڑچل ، شیری لنگم پلی اور اوپل کا مطالبہ کررہی ہے ۔ تلگو دیشم اور بی جے پی کے اعلیٰ قائدین دونوں جماعتوں کے مابین انتخابی مفاہمت کے حق میں دکھائی دے رہے ہیں لیکن دوسرے درجہ کے قائدین انتخابی مفاہمت کے خلاف ہیں ۔ رات دیر گئے تک بھی دونوںکی بات چیت جاری تھی ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT