Monday , August 20 2018
Home / اداریہ / تلگودیشم ۔ بی جے پی کی دوریاں

تلگودیشم ۔ بی جے پی کی دوریاں

اک ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے
یہ بھی اچھا ہوگیا کچھ لوگ پہچانے گئے

تلگودیشم ۔ بی جے پی کی دوریاں
آندھرا پردیش اور مرکز میں برسر اقتدار اتحاد کی دو حلیف جماعتوں تلگودیشم اور بی جے پی کیہ سیاسی تعلقات اب ختم ہوگئے ہیں۔ تلگودیشم نے آندھرا پردیش کو خصوصی ریاست کا موقف دینے سے مرکز انکار کے بعد مرکز کی نریندر مودی حکومت سے علیحدگی اختیار کرلی ہے ۔ اس کے دونوں وزرا نے مرکزی کابینہ سے استعفی پیش کردیا ہے ۔ تاہم ان وزرا کا کہنا ہے کہ ابھی انہوں نے وزارت سے علیحدگی اختیار کی ہے این ڈی اے سے نہیں۔ جہاں تک صدر تلگودیشم این چندرا بابو نائیڈو کا سوال ہے ابھی تک انہوں نے یہ واضح نہیں کیا ہے کہ ان کی پارٹی نے این ڈی اے سے بھی علیحدگی اختیار کی ہے یا نہیں یا پھر اس نے مودی حکومت کی تائید سے دستبرداری اختیار کی ہے یا نہیں۔ حالانکہ نائیڈو کے اخراج سے مودی حکومت کو کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہوگا کیونکہ بی جے پی کو لوک سبھا میں تنہا اکثریت حاصل ہے اوراس کو دوسری کئی جماعتوں کی راست یا بالواسطہ تائید بھی حاصل ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ تلگودیشم نے بھی بی جے پی کے ساتھ وہی رویہ اختیار کیا ہے جو ابتداء میں شیوسینا نے اختیار کیا تھا ۔ اس نے بھی حکومت میں رہتے ہوئے تنقیدیں کی تھیں جبکہ تلگودیشم پارٹی نے آندھرا پردیش سے ناانصافی کو مسئلہ بناتے ہوئے بی جے پی سے دوری اختیار کی ہے ۔ گذشتہ چند ہفتوں سے دونوں جماعتوں کے مابین اختلافات پیدا ہوتے جا رہے تھے اور ان اختلافات کو ہوا بھی دی جا رہی تھی ۔ اس سارے مسئلہ میں ایک بات یہ ضرور واضح ہوگئی ہے کہ بی جے پی نے آندھرا پردیش کے ساتھ کئے گئے وعدہ کی تکمیل نہیں کی ۔ تنظیم جدید آندھرا پردیش قانون میں یہ وعدہ کیاگیا تھا کہ ریاست کی تقسیم کے معاوضہ کے طور پر آندھرا پردیش کو خصوصی ریاست کا موقف دیا جائیگا ۔ اس سے ریاست کوکئی مالی فائدے حاصل ہوتے اور اس سے دیگر جو مراعات حاصل ہوتیں ان سے ریاست کی ترقی میں مدد بھی ملتی ۔ تلگودیشم نے بھی عملا اس مسئلہ کو برفدان کی نذر کردیا تھا تاہم اپوزیشن وائی ایس آر کانگریس اور کانگریس پارٹی کے بارباراحتجاج اور عوام میں اس مسئلہ کو زندہ رکھنے کے نتیجہ میں تلگودیشم کو اس فیصلے پر مجبور ہونا پڑا ۔ درمیان میں تلگودیشم معاشی پیکج کیلئے رضامندی ظاہر کرتی نظر آ رہی تھی ۔
جب مرکزی بجٹ میں یہ معاشی پیکج نہیں دیا گیا اور خصوصی ریاست کا موقف بھی نہیں مل سکا تو تلگودیشم کو قدرے بے چینی محسوس ہونی شروع ہوئی تھی ۔ تاہم چندرا بابو نائیڈو کی کوشش یہی تھی کہ مرکز میں برسر اقتدار جماعت کے ساتھ رہتے ہوئے ریاست کیلئے زیادہ سے زیادہ فوائد اور فنڈز حاصل کئے جاسکیں ۔ ریاست کی ترقی کیلئے بڑے پراجیکٹس کا آغاز کیا جائے تاکہ پارٹی کو 2019 میں بھی اقتدار حاصل کرنے میں مدد مل سکے ۔ بی جے پی زیر قیادت مرکزی حکومت نے تاہم نائیڈو کی ان خواہشات کو پورا کرنے سے گریز کیا ۔ مرکز کے رویہ سے یہی تاثر مل رہا تھا کہ آندھرا پردیش کیلئے مرکز کے پاس زیادہ کچھ نہیںہے ۔ سیاسی اونچ نیچ کو سمجھنے میں مہارت رکھنے والے نائیڈو نے اس پر بھی مصلحتا خاموشی اختیار کی تھی لیکن جب بجٹ میں ریاست کو زیادہ کچھ مالی فوائد نہیں دئے گئے اور پھر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے خصوصی ریاست کے مسئلہ کو مسلسل ہوا دی جانے لگی تو تلگودیشم پارٹی بھی مجبور ہوگئی اور اس کو طوعا و کرہا مرکز کی بی جے پی حکومت کے ساتھ اختلافات مول لینے ہی میں عافیت محسوس ہوئی ۔ایک تو بی جے پی سے اتحاد کی وجہ سے مسلم رائے دہندوں پر اس کا اثر ضرور ہونا تھا اور پھر اگر آندھرا پردیش کے ساتھ ناانصافی کا مسئلہ گرما جاتا تو پھرسارے عوام میں تلگودیشم کیلئے مسئلہ پیدا ہوجاتا ۔ اسی کے پیش نظر چندرا بابو نائیڈو نے ایسا لگتا ہے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی بی جے پی سے دوری ہی میں عافیت سمجھی ۔
چندرا بابو نائیڈو کی سیاسی سوجھ بوجھ کے برخلاف بی جے پی نے بھی ان کے تیور کو قبل از وقت سمجھتے ہوئے ان کیلئے مسائل پیدا کرنے شروع کردئے تھے ۔ ان کی طاقت کو توڑنے کیلئے علیحدہ آندھرا پردیش ریاست میں رائلسیماسے ناانصافی کا مسئلہ چھیڑ دیا گیا اور کرنول ڈیکلیریشن کے ذریعہ نائیڈو کو خاموش کرنے کی کوشش کی گئی ۔ یہ ساری کوششیں محض اس لئے ناکام ثابت ہوگئیں کیونکہ نائیڈو اپنی سیاسی بساط کو مستحکم کرناچاہتے تھے اور بی جے پی بھی اب ان کی انگلی تھامنے کی بجائے اپنے طور پر استحکام حاصل کرناچاہتی ہے ۔ نائیڈو بی جے پی سے اتحاد کرتے ہوئے اس کے استحکام کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے تھے ۔ ریاستی قائدین نے مرکزی قائدین کو اس بات سے واقف کروانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی تھی ۔ بی جے پی ملک بھر میں عوامی تائید حاصل کرتی جار ہی ہے اورا سے امید ہے کہ اسی لہر میں وہ آندھرا پردیش میں بھی اپنا موقف مستحکم بناسکتی ہے ۔ تاہم اس میں اسے کتنی کامیابی مل پائے گی یہ تو آئندہ انتخابات ہی میں پتہ چلے گا ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT