Thursday , January 18 2018
Home / شہر کی خبریں / تلگو دیشم، بی جے پی اتحاد کیلئے مذاکرات میں کوئی پیشرفت نہیں

تلگو دیشم، بی جے پی اتحاد کیلئے مذاکرات میں کوئی پیشرفت نہیں

تلنگانہ علاقہ میں کم از کم 50 فیصد نشستیں حوالے کرنے بی جے پی کا زور ،مطالبہ قبول کرنا ممکن نہیں: تلگودیشم

تلنگانہ علاقہ میں کم از کم 50 فیصد نشستیں حوالے کرنے بی جے پی کا زور ،مطالبہ قبول کرنا ممکن نہیں: تلگودیشم
حیدرآباد 20 مارچ (پی ٹی آئی) لوک سبھا اور اسمبلی کے آنے والے انتخابات پر اتحاد کرنے تلگودیشم پارٹی اور بی جے پی کے درمیان بات چیت میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔ بی جے پی نے علاقہ تلنگانہ میں کم از کم 50 فیصد نشستیں دینے کا مطالبہ کیا ہے۔بات چیت کی ناکامی کے بعد تلگودیشم نے کہا کہ بی جے پی کا مطالبہ قبول کرنا ممکن نہیں ہے۔بی جے پی نے بظاہر 119 اسمبلی نشستوں کے منجملہ 60 اسمبلی نشستیں اس کے حوالے کرنے اور 17 لوک سبھا منجملہ 9 لوک سبھا حلقہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس نے پارٹی کے پسماندہ طبقات کے لیڈر کو چیف منسٹر امیدوار کے طور پر پیش کرنے کی تجویز رکھی تھی جس کا تلگودیشم نے پہلے ہی وعدہ کرلیا ہے۔تلگودیشم لیڈر نے کہا کہ اسمبلی کی 50 فیصد نشستیں دینے بی جے پی کے مطالبہ کو قبول کرنا ممکن نہیں ہے تاہم اس سلسلہ میں مزید بات چیت ہوسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی قومی ترجمان پرکاش جاوڈیکر نے تسلیم کیا کہ تلگودیشم کے ساتھ بات چیت میں کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی۔ تلگودیشم رکن پارلیمنٹ ستیہ نارائنا چودھری اور سی ایم رمیش کے ساتھ نشستوں پر بات چیت ہوئی ہے۔ گذشتہ ہفتہ بات چیت جہاں ختم ہوئی تھی آج وہاں سے دوبارہ شروع کی گئی لیکن اس میں بھی کوئی پیشرفت نہیں کی گئی ۔ جاوڈیکر نے تلگودیشم کے ساتھ امکانی اتحاد پر مقامی قائدین کی رائے معلوم کرنے کیلئے وجئے واڑہ روانہ ہوئے ہیں۔ تلگودیشم صدر چندرا بابو نائیڈو توقع ہے کہ اس مسئلہ پر بی جے پی وزارت عظمی کے امیداور نریندر مودی سے بہت جلد ملاقات کریں جس کے بعد ہی اتحاد کے امکانات کو قطعیت دی جائے گی۔ ذرائع نے کہا کہ تلنگانہ ریاست تشکیل دینے کے بعد بی جے پی کے حوالے بلند ہوئے ہیں اور وہ پارلیمنٹ میں بل کی تائید کرنے کے عوض تلنگانہ عوام سے ووٹ مانگنے کی حق دار بن گئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT