Thursday , January 18 2018
Home / شہر کی خبریں / تلگو دیشم اور کانگریس پارٹیوں پر عوامی استحصال کرنے کا الزام

تلگو دیشم اور کانگریس پارٹیوں پر عوامی استحصال کرنے کا الزام

حیدرآباد ۔ 2 ۔ اپریل (سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے سربراہ کے چندر شیکھر راؤ نے دعویٰ کیا کہ آئندہ عام انتخابات کے بعد تلنگانہ میں ٹی آر ایس کا اقتدار یقینی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ ریاست میں پہلی حکومت ٹی آر ایس کی ہوگی۔ تلنگانہ بھون میں آج ملکاجگیری کے رکن اسمبلی اے راجندر، تلگو دیشم کے سابق وزیر اور فلمی اسٹار بابو موہن اور نلگنڈہ سے

حیدرآباد ۔ 2 ۔ اپریل (سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے سربراہ کے چندر شیکھر راؤ نے دعویٰ کیا کہ آئندہ عام انتخابات کے بعد تلنگانہ میں ٹی آر ایس کا اقتدار یقینی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ ریاست میں پہلی حکومت ٹی آر ایس کی ہوگی۔ تلنگانہ بھون میں آج ملکاجگیری کے رکن اسمبلی اے راجندر، تلگو دیشم کے سابق وزیر اور فلمی اسٹار بابو موہن اور نلگنڈہ سے تعلق رکھنے والے ماہرین تعلیم پروفیسر سیتا رام نائک اور پی راجیشور ریڈی نے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چندر شیکھر راؤ نے یقین ظاہر کیا کہ تلنگانہ کے عوام علحدہ ریاست حاصل کرنے والی پارٹی کو اقتدار سے نوازیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آندھراپردیش کے قیام کے بعد سے 60 برسوں کے دوران تلگو دیشم اور کانگریس پارٹی نے ریاست پر حکومت کی۔ عوام ان دونوں پارٹیوں کی حکمرانی سے عاجز آچکے ہیں۔ لہذا تلنگانہ ریاست میں ان جماعتوں کو اقتدار کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

کے سی آر نے کہا کہ تلنگانہ عوام کے موجودہ مسائل کیلئے کانگریس اور تلگو دیشم ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے عوام کو متنبہ کیا کہ اگر وہ کانگریس اور تلگو دیشم کو ووٹ دیں گے تو اس کا مطلب انہیں دوبارہ ریاست کو لوٹنے کا موقع فراہم کرنے کے مترادف ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ عوام ان افراد کو دوبارہ اقتدار کا موقع نہیں دیں گے جنہوں نے ایک لاکھ کروڑ سے زائد کی رقم لوٹی ہے۔ انہوں نے تلنگانہ میں ٹی آر ایس حکومت کی جانب سے عوامی بھلائی کے اقدامات کا تذکرہ کیا۔ کے سی آر نے کہا کہ سماج کے تمام طبقات کی تعلیمی اور معاشی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہوگی ۔انہوں نے بتایا کہ غریب خاندانوں کے بچوں کو کے جی تا پی جی انگلش میڈیم کی مفت تعلیم کا انتظام کیا جائے گا ۔

اس اسکیم کے تحت 40 لاکھ سے زائد طلباء استفادہ کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سنہرے تلنگانہ کے قیام کیلئے ٹی آر ایس کا اقتدار میں آنا ضروری ہے۔ ٹی آر ایس گزشتہ 14 برسوں سے عوام کے درمیان ہے اور وہ عوامی مسائل سے بخوبی واقف ہے۔ کے سی آر نے کہا کہ ٹی آر ایس تلنگانہ عوام کی پارٹی ہے اور رائے دہندے اسی کی تائید کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر تلنگانہ عوام کا مستقبل تابناک چاہئے تو سابقہ برسر اقتدار پارٹیوں کا صفایا ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات کو دہرایا کہ ٹی آر ایس حکومت کرپشن اور بے قاعدگیوں کے خاتمہ پر خصوصی توجہ دے گی ۔ تلگو دیشم اور کانگریس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کے سی آر نے کہا کہ ان دونوں پارٹیوں نے عوامی جذبات کا استحصال کیا ہے۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پھر ایک مرتبہ ان جماعتوں کے دھوکے میں نہ آئیں جو تلنگانہ کی ہمدردی اور جھوٹے وعدوں کے ذریعہ عوامی تائید حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ تلنگانہ میں ایک کروڑ ایکر اراضی کو آبپاشی سہولتوں کی فراہمی کے ذریعہ سبز انقلاب لایا جائے گا ۔ انہوں نے برقی بحران کے خاتمہ کیلئے بھی ٹی آر ایس کے منصوبوں کا حوالہ دیا۔ موجودہ برقی بحران کیلئے سابقہ حکومتوں کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کے سی آر نے کہا کہ برقی پیداوار میں اضافہ کے ذریعہ کسانوں کو بلا وقفہ برقی سربراہ کی جائے گی ۔ صدر ٹی آر ایس نے کہا کہ نئی ریاست میں نئی قیادت اور نئی پارٹی ہوگی جو عوامی مسائل کو حل کرے گی۔ انہوں نے وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے صدر جگن موہن ریڈی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

TOPPOPULARRECENT