Thursday , December 14 2017
Home / شہر کی خبریں / تلگو دیشم ایم پی جے سی دیواکر ریڈی کو ناکامی کا احساس

تلگو دیشم ایم پی جے سی دیواکر ریڈی کو ناکامی کا احساس

بحیثیت رکن پارلیمنٹ اننت پور مستعفی ہونے کا اعلان ، چندرا بابو نائیڈو متحرک ہوگئے
حیدرآباد۔ 21 ستمبر (سیاست نیوز) آندھرا پردیش میں سنسنی خیز اور متنازعہ ریمارکس کیلئے شہرت رکھنے والے تلگو دیشم پارٹی رکن پارلیمنٹ جے سی دیواکر ریڈی نے آج یہ کہتے ہوئے حیران کردیا کہ وہ ’’اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہوگئے لہذا بحیثیت رکن پارلیمنٹ مستعفی ہوجائیں گے‘‘۔ جے سی دیواکر ریڈی خشک سالی سے متاثرہ لوک سبھا حلقہ اننت پور کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام سے جو وعدے کئے تھے، انہیں پورا نہ کرنے کی وجہ سے خود کو قصور وار محسوس کررہے ہیں۔ وہ عوام کی خدمت میں ناکام ہوگئے لہذا انہوں نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ان کا یہ اعلان نہ صرف پارٹی بلکہ چیف منسٹر و صدر تلگو دیشم چندرا بابو نائیڈو کیلئے بھی پریشانی کا سبب بن گیا اور انہوں نے فوری حرکت میں آتے ہوئے وزیر آبی وسائل ڈی یو راؤ، ضلع کلکٹر اننت پور جی ویرا پانڈین اور دیگر عہدیداروں سے ربط قائم کیا۔ انہوں نے ان تمام کو ہدایت دی کہ ناراض رکن پارلیمنٹ نے جن مسائل پر توجہ دلائی ہے، فوری انہیں حل کرنے کی کوشش کریں۔ جے سی دیواکر ریڈی نے آج اپنی رہائش گاہ پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے اسپیکر لوک سبھا سمترا مہاجن بیرونی دورہ پر ہیں، لہذا وہ 27 ستمبر کو دہلی میں ان سے ملاقات کرکے مکتوب استعفیٰ پیش کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ صرف لوک سبھا کی رکنیت سے مستعفی ہورہے ہیں اور تلگو دیشم پارٹی میں برقرار رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو ہی آندھراپردیش کی ترقی یقینی بناسکتے ہیں اور آئندہ بھی وہی چیف منسٹر منتخب ہوں گے۔ دیواکر ریڈی نے اپنی ناکامیوں کا تذکرہ کیا اور کہا کہ وہ عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا نہیں کرپائے۔ اننت پور میں صفائی کا مسئلہ ہے اور سڑکوں کی کشادگی بھی لیت و لعل کا شکار ہے۔ چاگلو ریزروائر سے پانی کی سربراہی یقینی بنانے کے علاوہ بحیثیت عوامی منتخبہ نمائندہ دیگر عوامی مسائل کو حل کرنے میں وہ ناکام رہے ہیں۔ دیواکر ریڈی نے کہا کہ بعض طاقتیں ترقیاتی کاموں میں رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ وہ 40 سالہ سیاسی کیریئر میں کبھی کسی کے رحم و کرم پر نہیں رہے اور اب بھی ضمیر کی آواز پر انہوں نے لوک سبھا حلقہ اننت پور کی رکنیت سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں دیواکر ریڈی نے کہا کہ اگر چندرا بابو نائیڈو آئندہ چار دن میں ان کے پیش کردہ مسائل پر مثبت ردعمل ظاہر کریں تو وہ استعفیٰ کے فیصلے پر نظرثانی کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT