Sunday , November 19 2017
Home / شہر کی خبریں / تلگو دیشم رکن اسمبلی وویک کی ٹی آر ایس میں شمولیت

تلگو دیشم رکن اسمبلی وویک کی ٹی آر ایس میں شمولیت

چیف منسٹر کیمپ آفس میں چندر شیکھر راؤ سے ملاقات ، چندرا بابو نائیڈو کو مکتوب استعفیٰ روانہ
حیدرآباد۔/9فبروری، ( سیاست نیوز) تلگودیشم پارٹی کو گریٹر حیدرآباد میں آج اسوقت دھکا لگا جب قطب اللہ پور اسمبلی حلقہ کی نمائندگی کرنے والے رکن اسمبلی ویویک نے آج ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں ٹی آر ایس کی شاندار کامیابی کے بعد ویویک کی تلگودیشم سے علحدگی پارٹی کیلئے زبردست دھکا ہے۔ ویویک نے آج اپنے حامیوں کے ہمراہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے کیمپ آفس میں ملاقات کی اور ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی۔ انہوں نے تلگودیشم پارٹی سے استعفی کا مکتوب بذریعہ فیاکس روانہ کردیا۔ وزیر ایکسائیز پدما راؤ کی قیامگاہ پر ٹی آر ایس قائدین سے ملاقات کے بعد وہ چیف منسٹر کیمپ آفس پہنچے۔ چیف منسٹر نے ان کا پارٹی میں استقبال کرتے ہوئے گلابی کھنڈوا پہنایا۔ ان کے ہمراہ قطب اللہ پور اسمبلی حلقہ سے تعلق رکھنے والے کئی تلگودیشم قائدین اور کارکنوں نے بھی ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی۔ بعد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے رکن اسمبلی نے کہا کہ چیف منسٹر کی قیادت میں تلنگانہ ترقی کی منزلیں طئے کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ تلنگانہ کی ترقی میں خود کو حصہ دار بنانے کیلئے پارٹی میں شامل ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ قطب اللہ پور اسمبلی حلقہ کی ترقی کیلئے انہوں نے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی۔ انہوں نے بتایا کہ قطب اللہ پور اسمبلی حلقہ کے تمام بلدی ڈیویژنس میں گریٹر انتخابات میں ٹی آر ایس کو کامیابی حاصل ہوئی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ عوام ترقی کے حق میں ہیں اور وہ صرف ٹی آر ایس سے ممکن ہے۔ عوام نے ٹی آر ایس کی تائید کرتے ہوئے انہیں اس فیصلہ پر مجبور کیا۔ ویویک نے کہا کہ چیف منسٹر نے تلنگانہ میں جو ترقیاتی اور فلاحی اسکیمات کا آغاز کیا ہے اس سے وہ کافی متاثر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت اور چیف منسٹر کی اسکیمات سے متاثر ہوکر عوام نے گریٹر حیدرآباد میں ٹی آر ایس کو بھاری اکثریت سے کامیابی عطا کی، عوام بلالحاظ علاقہ اور مذہب و ملت ٹی آر ایس کے ساتھ ہیں۔ رکن اسمبلی کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے شروع کی گئی فلاحی اسکیمات سے لاکھوں خاندان مستفید ہورہے ہیں۔ اس موقع پر ریاستی وزیر جگدیش ریڈی کے علاوہ کئی ارکان اسمبلی ، کونسل اور کئی ٹی آر ایس قائدین موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس میں شمولیت ان کیلئے گھر واپسی کے مترادف ہے کیونکہ تلنگانہ جدوجہد میں انہوں  نے ٹی آر ایس کے ساتھ کام کیا تھا۔ وہ اسمبلی حلقہ قطب اللہ پور کو مثالی ترقیاتی حلقہ میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں اور یہ حکومت کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔ انہوں نے چیف منسٹر آندھرا پردیش چندرا بابو نائیڈو کی ستائش کی اور کہا کہ وہ ان کیلئے بھگوان کی طرح ہیں۔ تلگودیشم پارٹی میں چندرا بابو نائیڈو نے ان کی کافی حوصلہ افزائی کی تھی اور رکن اسمبلی کے عہدہ تک پہنچایا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ٹی آر ایس میں شمولیت کا مقصد تلگودیشم پارٹی یا چندرا بابو نائیڈو سے ناراضگی نہیں ہے بلکہ حلقہ کی ترقی اور عوام کے جذبہ کے احترام میں انہوں نے یہ فیصلہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ گریٹر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے تین تلگودیشم ارکان اسمبلی پہلے ہی ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرچکے ہیں جن میں ریاستی وزیر سرینواس یادو کے علاوہ تیگلا کرشنا ریڈی اور جی سائینا شامل ہیں۔ ایل بی نگر کے رکن اسمبلی آر کرشنیا اور شیر لنگم پلی کے رکن اسمبلی کے گاندھی ابھی بھی تلگودیشم میں برقرار ہیں۔ اسمبلی انتخابات میں سیما آندھرائی آبادی والے حلقوں میں تلگودیشم نے کامیابی حاصل کی تھی۔

TOPPOPULARRECENT