Monday , December 11 2017
Home / شہر کی خبریں / تلگو دیشم لیڈر ریونت ریڈی کی کانگریس میں شمولیت کا امکان

تلگو دیشم لیڈر ریونت ریڈی کی کانگریس میں شمولیت کا امکان

دہلی میں 2 دن سے قیام اور تلنگانہ کانگریس قائدین کی سیاسی سرگرمیاں تیز
حیدرآباد ۔ 17 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : تلگو دیشم پارٹی کے رکن اسمبلی ریونت ریڈی کی کانگریس میں شمولیت کی افواہیں تیزی سے گشت کررہی ہیں ۔ تلگو دیشم پارٹی کے اور بھی کئی قائدین کانگریس سے رابطے میں ہیں ۔ گذشتہ 2 دن سے ریونت ریڈی دہلی میں کیمپ کیے ہوئے ہیں ۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اتم کمار ریڈی بھی دہلی میں قیام کئے ہوئے ہیں ۔ تلنگانہ قائدین کی دہلی میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں ۔ گذشتہ ایک ہفتہ سے یہ افواہیں چل رہی تھیں کہ تلنگانہ تلگو دیشم کے ورکنگ پریسیڈنٹ و رکن اسمبلی ریونت ریڈی بہت جلد کانگریس میں شامل ہوجائیں گے ۔ گذشتہ دو دن سے ریونت ریڈی دہلی میں قیام کئے ہوئے ہیں ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اتم کمار ریڈی دہلی میں قیام کرتے ہوئے ریونت ریڈی کے تعلق سے پارٹی کے سینئیر قائدین سے مشاورت کررہے ہیں ۔ ریونت ریڈی کے بشمول تلگو دیشم کے دوسرے قائدین کو کانگریس میں شامل کرنے کے لیے راہ ہموار کی جارہی ہے اور ریونت ریڈی کے شرائط کو پارٹی ہائی کمان کے سامنے رکھ رہے ہیں ۔ ذرائع نے بتایا کہ ہائی کمان نے ریونت ریڈی کو کانگریس میں شامل کرنے کی منظوری دے دی ہے ۔ تاہم ابھی یہ فیصلہ نہیں ہوپایا ہے کہ ریونت ریڈی دہلی میں سونیا گاندھی یا راہول گاندھی سے ملاقات کرتے ہوئے کانگریس میں شمولیت اختیار کریں گے یا تلنگانہ میں بہت بڑا جلسہ عام منعقد کرتے ہوئے اپنی طاقت کا مطاہرہ کرتے ہوئے تلگو دیشم کے دوسرے قائدین اور اپنے حامیوں کے ساتھ کانگریس میں شامل ہوں گے ۔ ذرائع نے بتایا کہ اکٹوبر کے اواخر یا نومبر کے پہلے ہفتے میں ریونت ریڈی کانگریس میں شامل ہوسکتے ہیں ۔ ضلع نلگنڈہ سے تعلق رکھنے والی سابق ریاستی وزیر اوما مادھو ریڈی اور ضلع عادل آباد کے ایک سابق رکن اسمبلی بھی کانگریس سے رابطے میں ہیں ۔ 2014 کے اسمبلی انتخابات میں اسمبلی حلقہ نامپلی سے تلگو دیشم پارٹی ٹکٹ پر مقابلہ کرنے والے فیروز خاں سے بھی کانگریس رابطے میں ہے ۔ تلنگانہ میں تلگو دیشم کے دو ارکان اسمبلی باقی رہ گئے ہیں ۔ ریونت ریڈی تو کانگریس سے رابطے میں ہے ۔ ضلع کھمم سے تعلق رکھنے والے دوسرے رکن اسمبلی ایس وینکٹ رام ریڈی بھی اپنے سیاسی مستقبل کے لیے فکر مند ہوگئے ہیں ۔ ذرائع نے بتایا کہ وہ نوٹ برائے ووٹ اسکام میں ملوث برائے گئے ہیں ۔ لہذا وہ حکمراں ٹی آر ایس اور اصل اپوزیشن کانگریس کونسی جماعت میں شامل ہو اس کا فیصلہ نہیں کرپا رہے ہیں ۔ ذرائع نے بتایا کہ ریونت ریڈی نے کانگریس ہائی کمان کے سامنے چند شرائط رکھی ہیں ۔ انہوں نے کانگریس میں اپنے لیے اہم عہدہ طلب کرتے ہوئے ان پر بھروسہ کرتے ہوئے کانگریس میں شامل ہونے والے قائدین کے لیے بھی کانگریس ہائی کمان سے عہدوں کے علاوہ ٹکٹوں کی حصولی کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ قائد اپوزیشن کے جانا ریڈی اور سابق وزیر داخلہ سبیتا اندرا ریڈی کے فرزندان بھی دہلی میں کیمپ کئے ہوئے ہیں وہ بھی ریونت ریڈی کے لیے پارٹی قائدین سے تبادلہ خیال کررہے ہیں ۔ کانگریس پارٹی 2019 میں اقتدار حاصل کرنے کے لیے تمام سیاسی ہتھکنڈے استعمال کرنے پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے جو قائدین پارٹی چھوڑ کر گئے ہیں اگر وہ دوبارہ پارٹی میں شامل ہونا چاہتے ہیں تو ان کے لیے بھی پارٹی کے دروازے کھلے رکھے گئے ہیں ۔ کمیونسٹ جماعتوں سے سیاسی اتحاد کرنے کی بھی بات چیت کی جارہی ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ سابق مرکزی وزیر ایس جئے پال ریڈی نے ریونت ریڈی کی ذہن سازی میں اہم رول ادا کیا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT