Monday , July 16 2018
Home / اداریہ / تلگو دیشم کا موقف

تلگو دیشم کا موقف

کیا ارادہ ہے ترے دل کا خبر کیا ہم کو
بے تکلف ترے اقرار سے جی ڈرتا ہے
تلگو دیشم کا موقف
جنوبی ہند میں اپنی دوست پارٹیوں کا ساتھ نہ چھوڑنے کی فراق میں سرگرم بی جے پی نے بالآخر آندھرا پردیش کی حکمراں پارٹی تلگو دیشم کی ناراضگی کو چپکے سے دور کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ۔ تلگو دیشم پارلیمانی پارٹی اجلاس میں پارٹی صدر نے بی جے پی سے اتحاد برقرار رکھنے کا اعلان کیا ۔ وہ کل تک مرکزی بجٹ میں اپنی ریاست کو خاص فنڈس نہ دئیے جانے پر شدید ناراض تھے اور مرکزی حکمراں پارٹی کا ساتھ چھوڑنے پر غور کررہے تھے ۔ دہلی کی سیاست اور علاقائی قیادت میں جو فرق ہوتا ہے اس کا واضح مظاہرہ تلگو دیشم کے پارلیمانی اجلاس میں دیکھا گیا ۔ چندرا بابو نائیڈو نے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کو جاری رکھنے میں ہی اپنی سیاسی بقا تصور کی ہے تو پھر ان کا فیصلہ آنے والے انتخابات میں تلگو دیشم کی کامیابی کے امکانات پر کتنا اثر انداز ہوگا یہ آندھرا پردیش کے رائے دہندے طئے کریں گے ۔ کسی علاقائی پارٹی کا لیڈر جب کبھی مرکزی قیادت کے خلاف ناراض ہوتا ہے یا اس کے خلاف بیانات دیتا ہے تو جواب میں مرکزی قیادت کے نمائندے بھی اس کے خلاف بیان دیتے ہیں ۔ جلسہ منعقد کر کے مرکزی قیادت پر کرپشن کے الزام عائد کیے جاتے ہیں ۔ پھر دوسرے دن علاقائی پارٹی پر مرکزی قیادت دھونس جمانے کے لیے اس کا کچھا چٹھا کھولنے کی دھمکی دیتی ہے پھر بات جب ایک دوسرے کی کردار سازی اور خاندانی و خانگی زندگیوں کا بھانڈا پھوڑنے کی آتی ہے تو پھر کھلم کھلا دشنام بازی پر اتر آتے ہیں ۔ جلسوں اور چوراہوں پر کھڑے ہو کر خوب گالی دی جاتی ہیں ۔ آخر میں انجام یہ ہوتا ہے کہ علاقائی پارٹی کا لیڈر مرکزی قیادت کا حامی بن جاتا ہے اور اس کی پارٹی میں شامل ہونے کا اعلان کرتا ہے ۔ ایسی سیاسی چالیں اور واقعات ان دنوں ہر علاقہ میں دکھائی دے رہی ہیں ۔ اگر آندھرا پردیش کی سیاست میں بھی قائدانہ صلاحیتوں کا ناقص مظاہرہ ہورہا ہے تو پھر یوں محسوس ہوگا کہ آگے چل کر مرکزی طاقت علاقائی پارٹیوں کو ہڑپنے میں کامیاب ہوگی ۔ تلگو دیشم نے مرکزی بجٹ پر ناراضگی ظاہر کی اور اب ٹی ڈی پی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں ناراضگیوں کا کوئی ذکر تک نہیں کیا گیا بلکہ پارٹی قائدین کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ مرکزی پارٹی بی جے پی کے خلاف اُف تک نہ کریں ۔ چندرا بابو نائیڈو کے موقف پر افسوس کرنے والوں کو یہ صدمہ بھی ہوا ہوگا کہ مرکز میں کل تک بادشاہ گر کا رول ادا کرنے والے چندرا بابو نائیڈو نے اپنی سیاسی بصیرت اور دور اندیشی کا مظاہرہ کرنے کی صلاحیت رکھنے کے باوجود اچانک سیاسی پستی کا ثبوت کیوں دیا ہے ۔ جنوبی ہند کی دو تلگو ریاستوں میں علاقائی پارٹیوں کی قیادت کے اندر حالیہ دنوں میں مرکزی حکمراں پارٹی کے تعلق سے عجیب و غریب سوچ پیدا ہوئی ہے ۔ یہ سوچ تلگو ریاستوں کے عوام کے لیے بھی گہری سوچ بچار کا تقاضہ کرتی ہے ۔ تلگو دیشم نے مرکزی بجٹ میں ریاست آندھرا پردیش کے حصہ میں کچھ زیادہ نہ دینے کی شکایت کی تھی اور اس پارٹی کے قائدین نے بی جے پی سے اتحاد توڑنے کی بھی بات کی تھی مگر اب پارلیمانی پارٹی اجلاس نے بی جے پی سے اتحاد کی برقراری کی توثیق کردی ہے تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ آیا مرکز نے راتوں رات ریاست آندھرا پردیش کا حق ادا کردیا ؟ آندھرا پردیش کی تقسیم کے باعث اس ریاست کو مرکزی حکومت کی جانب سے کچھ نہ دئیے جانے کی شکایت دہرائی جاتی رہی تھی عوام ناخوش تھے ۔ ان تمام موضوعات پر پارلیمانی پارٹی اجلاس میں غور و خوض کیا گیا ہے تو پھر پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ ، ریاستی وزراء اور پارٹی کے سینئیر قائدین و سینئیر بیوریو کریٹس نے اس بات سے اتفاق کیوں کیا کہ مرکزی حکمراں پارٹی سے اتحاد برقرار رکھنا چاہئے ۔ اگر یہ اتحاد برقرار رکھا جارہا ہے تو پھر آیا مرکز نے تلگو دیشم حکومت کو ریاست آندھرا پردیش کے حق میں اس کو مطلوب فنڈس فراہم کرنے سے اتفاق کیا ہے ۔ وزیر فینانس ارون جیٹلی اور وزارت ریلوے کے سامنے آندھرا پردیش کے جو مسائل پیش کئے گئے تھے ان کو حل کرنے کی کوئی امید پیدا ہوگئی ہے ۔ یہ ایسے مسائل ہیں جو خود تلگو دیشم نے اٹھائے تھے ۔ اگر مرکز کی جانب سے آندھرا پردیش کے حق میں دیا جانے والا فنڈ جاری نہیں ہوتا ہے تو پھر ریاست کے عوام کو تلگو دیشم سے استفسار کا حق برقرار رہے گا ۔۔

TOPPOPULARRECENT