Monday , September 24 2018
Home / شہر کی خبریں / تلگو دیشم کی تحریک عدم اعتماد ، بی جے پی حکومت سے زیادہ مودی کو خطرات

تلگو دیشم کی تحریک عدم اعتماد ، بی جے پی حکومت سے زیادہ مودی کو خطرات

حلیف جماعتوں میں وزیراعظم سے بڑھتی ہوئی ناراضگی ،بعض سینئر بی جے پی قائدین بھی موقع کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟

تحریک کے نتائج پر غیرمعمولی تجسس
سیاسی پنڈتوں کی مختلف قیاس آرائیاں

حیدرآباد۔18مارچ(سیاست نیوز) بی جے پی کے زیرقیادت این ڈی اے حکومت کے خلاف تلگو دیشم کی تحریک عدم اعتماد کے نتائج کیا برآمد ہوں گے اس پر قیاس آرائیاں کی جانے لگی ہیں اور کہا جا رہاہے کہ این ڈی اے حکومت سے زیادہ وزیر اعظم نریندر مودی کو خطرہ لاحق ہونے لگا ہے اور این ڈی اے میں شامل سیاسی جماعتیں نریندر مودی کی سختی سے مخالفت کرنے لگی ہیں کیونکہ ان سیاسی جماعتوں کا احساس ہے کہ وزیر اعظم کی من مانی کے سبب یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ مرکزی حکومت کے خلاف تلگودیشم پارٹی کی تحریک عدم اعتماد کے پر این ڈی اے حلقوں میں بے چینی کے ساتھ یو پی اے حلقوں میں حکمت عملی کی تیاری کی جانے لگی ہے اور کہا جا رہاہے کہ این ڈی اے حکومت کی نااہلی سے زیادہ وزیر اعظم کی نااہلی کو اجاگر کرتے ہوئے تحریک عدم اعتماد پر مباحث کروائے جائیں۔ تلگو دیشم پارٹی کی جانب سے پیش کردہ تحریک عدم اعتماد کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی میں موجود مخالف نریندر مودی قائدین سے بھی اپوزیشن نے رابطہ استوار کرنا شروع کردیا ہے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی جو عددی اعتبار سے پارلیمنٹ میں 274نشستوں پر قبضہ کئے ہوئے ہے جو کہ 545 رکنی پارلیمنٹ میں نصف سے صرف 2زیادہ ہیں جبکہ حقیقی جائزہ لیا جائے تو یہ 2 ارکان نامزد ارکان میں ہیں اور پارلیمنٹ کی جملہ نشستیں 543ہی ہیں۔ حکومت ہند بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے حکومت ہے جسے مختلف سیاسی جماعتوں کی تائید حاصل ہے لیکن اب بتدریج این ڈی اے تائید سے محروم ہونے لگی ہے تو بھارتیہ جنتا پارٹی ان سیاسی جماعتوں کی سمت نگاہیں مرکوز کئے ہوئے ہے جو این ڈی اے اور یو پی اے دونوں کے ساتھ نہیں ہیں جس کی مثال تلنگانہ راشٹرا سمیتی کی ہے اور ٹی آر ایس نے تلگو دیشم کی جانب سے پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد کی تائید نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ ٹی آر ایس جاریہ سیشن کے دوران حکومت ہند کے خلاف مظاہرے کر رہی ہے اور اب جب موقع آیا ہے کہ ایسی حکومت کو سبق سکھایا جائے جو مطالبات کو نظر انداز کر تی ہے تو ٹی آر ایس کا موقف واضح ہو رہا ہے کہ وہ کس کے ساتھ ہے۔ این ڈی میں جو ملک کی 47سیاسی جماعتوں کا اتحاد ہے اس میں سب سے بڑی سیاسی جماعت 274ارکان پارلیمان کے ساتھ بھارتیہ جنتا پارٹی ہے اور دوسرے نمبر پر شیو سینا ہے جس کے 18ارکان پارلیمان ہیں اسی طرح لوک جن شکتی پارٹی کے 6اور شرومنی اکالی دل کے 4ارکان پارلیمان ہیں جو این ڈی اے میں شامل ہیں۔راشٹریہ لوک سمتا پارٹی کے 3ارکان پارلیمنٹ ہیں اور جنتادل (یونائیٹڈ) و اپنا دل کے 2-2 ارکان پارلیمنٹ موجود ہیں اس کے علاوہ 5مختلف سیاسی جماعتوں کے ایک ایک رکن پارلیمنٹ ہیں جو این ڈی اے کا حصہ ہیں۔اس طرح موجودہ این ڈی اے حکومت کو 314 ارکان پارلیمان کی تائید حاصل ہے جن میں 40کا تعلق بھارتیہ جنتا پارٹی سے نہیں ہے اور اگر بھارتیہ جنتاپارٹی کے اندر نریندر مودی کے خلاف بغاوت ہوتی ہے تو ایسی صورت میں وزیر اعظم کے عہدہ پر کسی اور کے انتخاب کو این ڈی میں شامل سیاسی جماعتیں یقینی بنا سکتی ہیں۔

یہ بات طئے ہے کہ یو پی اے 543 رکنی لوک سبھا میںاپنے 52ارکان پارلیمان کے ساتھ موجودہ این ڈی اے حکومت کو بیدخل نہیں کر سکتی اور نہ ہی مابقی دیگر سیاسی جماعتوں کے 93ارکان پارلیمان کی حمایت حاصل کرتے ہوئے ایسا کیا جا سکتا ہے لیکن تلگودیشم کی جانب سے پیش کردہ تحریک عدم اعتماد کو حاصل ہونے والی مخالف حکومت ارکان کی تائید کے ساتھ اگر بھارتیہ جنتا پارٹی میں جہاں اڈوانی گروپ‘ سشما سوراج گروپ اور جیٹلی گروپ کی جانب سے بغاوت کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں وزیر اعظم کی تبدیلی کے لئے رائے ہموار کی جا سکتی ہے اور 1996 جیسے حالات قومی سیاست میں پید ا ہوسکتے ہیں ۔ 1996میں چندرا بابو نائیڈو وزیر اعظم بننے سے انکار کرتے ہوئے ایچ ڈی دیوے گوڑا کو وزیر اعظم بنانے کی راہ ہموار کی تھی اور بعد ازاں مسٹر اندر کمار گجرال کو بھی یونائیٹڈ فرنٹ کا وزیر اعظم منتخب کیا گیا تھا ۔حکومت ہند کی موجودہ حالت میں اگر علاقائی سیاسی جماعتوں اور اہم اپوزیشن کی جانب سے اتحاد کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں حکومت کو اقتدار سے بے دخل کرنا تو ممکن نہیں ہے لیکن وزیر اعظم کی تبدیلی کیلئے بھارتیہ جنتا پارٹی میں اندرون پارٹی بغاوت شروع ہوسکتی ہے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے چانکیہ سمجھے جانے والے قائد کی جانب سے اندرون پارٹی بغاوت کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ان ارکان پارلیمان و سیاسی جماعتوں پر توجہ دی جا رہی ہے جو یو پی اے کیساتھ نہیں جا ئیں گی اور این ڈی اے کے متعلق راست نہ سہی بالواسطہ طور پر ہی سہی نرم گوشہ رکھتی ہیںتاکہ تحریک عدم اعتماد کے سبب رائے دہی کی صورت میں یہ سیاسی جماعتیں رائے دہی میں حصہ نہ لیں اور کم از کم غیر حاضر رہتے ہوئے این ڈی اے کے استحکام کو ثابت کرنے میں مددگار ثابت ہوسکیں۔کانگریس کی جانب سے تحریک عدم اعتماد کی بنیاد پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے اندر موجود باغی گروپس کومتحرک کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT