Saturday , December 16 2017
Home / شہر کی خبریں / تلگو دیشم کے سابق وزیر پی راملو کی ٹی آر ایس میں شمولیت

تلگو دیشم کے سابق وزیر پی راملو کی ٹی آر ایس میں شمولیت

چیف منسٹر و صدر ٹی آر ایس کے سی آر نے پارٹی کھنڈوا پیش کیا ، تلنگانہ میں تلگو دیشم غیر اہم
حیدرآباد۔/21اپریل، ( سیاست نیوز) تلگودیشم پارٹی کے سابق وزیر پی راملو نے آج اپنے حامیوں کے ساتھ ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی۔ تلگودیشم پارٹی کے قومی نائب صدر پی راملو نے آج چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے ملاقات کی اور پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی۔ چیف منسٹر نے انہیں پارٹی کا کھنڈوا پہناکر استقبال کیا۔ پی راملو کا تعلق ضلع محبوب نگر سے ہے اور اچم پیٹ اسمبلی حلقہ سے انہوں نے تین مرتبہ کامیابی حاصل کی تھی۔ 1994 اور 1999عام انتخابات میں وہ کامیاب رہے جبکہ  2004 میں انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 2009 میں انہوں نے اچم پیٹ اسمبلی حلقہ سے کامیابی حاصل کی۔ 2014اسمبلی انتخابات میں انہیں ٹی آر ایس کے جی بالراجو کے ہاتھوں 38000 سے زائد ووٹ سے شکست ہوئی ہے۔ 2002سے 2004تک وہ وزیر اسپورٹس کی حیثیت سے چندرا بابو نائیڈو کابینہ میں برقرار رہے۔ شمولیت کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے پی راملو نے کہا کہ وہ چیف منسٹر کے چندر شیکھرراؤ کی فلاحی اسکیمات اور سنہرے تلنگانہ کی تشکیل کے منصوبہ کو آگے بڑھانے کیلئے ٹی آر ایس میں شامل ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی ترقی صرف ٹی آر ایس سے ممکن ہے۔ راملو نے ٹی آر ایس حکومت کی جانب سے شروع کی گئی مختلف فلاحی اسکیمات اور خاص طور پر درج فہرست اقوام و قبائیل کی بھلائی کے اقدامات کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں تلگودیشم پارٹی کو عوام نے مستر د کردیا ہے اور مستقبل میں صرف ٹی آر ایس ہی عوامی جماعت کی حیثیت سے برقرار رہے گی۔ اس موقع پر چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے راملو اور ان کے حامیوں کا استقبال کرتے ہوئے اعلان کیا کہ حکومت محبوب نگر ضلع کی ہمہ جہتی ترقی کیلئے اقدامات کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکومتوں نے اس ضلع کو نظرانداز کردیا جس کے نتیجہ میں کئی علاقے شدید خشک سالی کا شکار ہیں اور عوام تلاش معاش میں نقل مقام کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلع محبوب نگر کو خشک سالی سے نجات دلانے مختلف آبپاشی پراجکٹس کی تعمیر کا منصوبہ ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ضلع محبوب نگر کو مثالی ضلع کی حیثیت سے ترقی دی جائے گی۔ اس موقع پر ریاستی وزیر جوپلی کرشنا راؤ، رکن اسمبلی بالراجو اور دیگر قائدین موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT