Friday , September 21 2018
Home / شہر کی خبریں / تلگو عوام کی عزت نفس اور وقار کا تحفظ کرنے کا عزم ۔ 12 مارچ کو پارٹی کی پالیسیوں و پروگرامس کا اعلان

تلگو عوام کی عزت نفس اور وقار کا تحفظ کرنے کا عزم ۔ 12 مارچ کو پارٹی کی پالیسیوں و پروگرامس کا اعلان

تلگو عوام کی عزت نفس اور وقار کا تحفظ کرنے کا عزم ۔ 12 مارچ کو پارٹی کی پالیسیوں و پروگرامس کا اعلان

تلگو عوام کی عزت نفس اور وقار کا تحفظ کرنے کا عزم ۔ 12 مارچ کو پارٹی کی پالیسیوں و پروگرامس کا اعلان

حیدرآباد 6 مارچ ( سیاست نیوز ) تقسیم ریاست کے خلاف چیف منسٹر آندھرا پردیش کی حیثیت سے مستعفی ہونے والے این کرن کمار ریڈی نے آج اعلان کیا کہ وہ انتخابات سے قبل ایک نئی پارٹی قائم کرینگے ۔ انہوں نے تلگو عوام کی عزت و وقار کو برقرار رکھنے کے وعدہ کے ساتھ نئی جماعت قائم کرنے کا اعلان کیا ۔ انہوں نے چند دنوں سے جاری قیاس آرائیوں کا خاتمہ کرتے ہوئے کہا کہ نئی پارٹی کی پالیسیوں اور پروگراموں کا 12 مارچ کو راجمنڈری میں ہونے والے ایک جلسے میں اعلان کیا جائیگا۔ کرن کمار ریڈی نے 19 فبروری کو کانگریس سے علیحدگی اختیار کرلی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم مل کر ایک نئی سیاسی جماعت شروع کر رہے ہیں تاکہ تلگو عوام کی عزت و وقار کو برقرار رکھا جاسکے ۔ ریاست کی تقسیم سے تلگو عوام کا وقار بری طرح متاثر ہوا ہے ۔ آج شام مادھا پور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے یہ بات بتائی۔ اس موقع پر کانگریس کے برطرف ارکان پارلیمنٹ سبم ہری، لگڑا پاٹی راجگوپال، ہرش کمار، سابق ریاستی وزیر پی ستیہ نارائنا کے علاوہ دیگر قائدین بھی موجود تھے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ مرکز نے تلنگانہ کی تشکیل میں طریقہ کار اور قوانین کی خلاف ورزی کی ہے ۔

تلگو عوام کی توہین کی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایک نئی پارٹی تشکیل دے رہے ہیں تاکہ تلگو عوام کی عزت نفس اور وقار کو برقرار رکھا جاسکے ۔ یہ اشارہ دیتے ہوئے کہ وہ سیما آندھرا علاقہ میں انتخابی مقابلہ کا منصوبہ رکھتے ہیں سابق چیف منسٹر نے تلگودیشم پارٹی اور وائی ایس آر کانگریس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ تقریبا تمام سیاسی جماعتوں نے ریاست کی تقسیم کے مسئلہ پر عوام کو دھوکہ دیا ہے ۔ تلگودیشم اور وائی ایس آر کانگریس کو انتخابی سروے میں سیما آندھرا میں مقبول ظاہر کیا جا رہا ہے ۔ کرن کمار ریڈی نے الزام عائد کیا کہ چندرا بابو نائیڈو نو سال تک ریاست کے چیف منسٹر رہے اور اب وہ اسمبلی میں قائد اپوزیشن بھی ہیں لیکن انہوں نے ریاست کے عوام کو متحد رکھنے کیلئے زبان نہیں کھولی ۔ انہوں نے جگن موہن ریڈی کی قیادت وائی وائی ایس آر کانگریس پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے ریاست کو متحد رکھنے کا بظاہر مطالبہ کرتے ہوئے عملا ریاست کو تقسیم کرنے میں اہم رول ادا کیا ہے اور اس کا مقصد سیما آندھرا میں جگن کیلئے چیف منسٹر کا عہدہ حاصل کرنا ہے ۔ کرن کمار ریڈی کانگریس سے علیحدگی کے بعد اپنے حامیوں بشمول کانگریس ارکان پارلیمنٹ ‘ کچھ سابق وزرا اور ارکان اسمبلی کے علاوہ ملازمین کی یونینوں سے اس تعلق سے تبادلہ خیال کر رہے تھے ۔

انہوں نے نئی پارٹی کے امکانات کا جائزہ لینے کچھ سروے بھی کروائے ہیں۔ مسٹر ریڈی نے کہا کہ نئی جماعت تلگو عوام کے دلوں کی دھڑکن ہوگی اور اس کے منصوبوں اور پالیسیوں میں اس کو واضح کردیا جائیگا ۔ انہوں نے کہا کہ تقسیم ریاست کے ذریعہ عوام کے جذبات کو نقصان پہونچانے کا بی جے پی اور کانگریس دونوں پر الزام عائد کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ایل کے اڈوانی نے کہا تھا کہ انہوں نے ایسا بل کبھی نہیں دیکھا تھا ‘ سشما سواراج نے کہا تھا کہ تلنگانہ بل کو لوک سبھا میں پیش ہی نہیں کیا گیا تھا جبکہ خود وزیر اعظم نے کہا تھا کہ ارکان پارلیمنٹ کا رویہ دیکھ کر دل کو تکلیف ہوئی ہے تاہم کسی نے بھی تلگو عوام کے خیالات کا پتہ چلانے کی کوشش نہیں کی ۔ ان کے خلاف کچھ سابق وزرا کے کرپشن کے الزامات پر کرن کمار ریڈی نے کہا کہ جس کسی کے پاس کوئی ثبوت ہو اسے چاہئے کہ وہ گورنر یا عدالت سے رجوع ہو اور انہیں نوٹس جاری کروائے ۔ وہ اس کا جواب دینے تیار ہیں۔ انہوں نے جرمنی کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ آندھرا پردیش ابھی بھی ایک ریاست ہوسکتی ہے ۔ یہاں ہمارے درمیان کوئی دیوار نہیں ہے جبکہ جرمنی میں دیواریں ڈھادی گئی تھیں۔

TOPPOPULARRECENT