تلگو کو لازمی قرار دینے سے عربی اور سنسکرت کو خطرہ

اسمبلی میں بی جے پی رکن پربھاکر کی توجہ دہانی
ریاستی وزیر اندرا کرن ریڈی کی لغزش سے ایوان میں قہقہے
حیدرآباد۔19 مارچ (سیاست نیوز) بی جے پی کے رکن اسمبلی ایم وی ایس ایس پربھاکر نے انٹرمیڈیٹ تک تلگو کو لازمی قرار دینے سے عربی، سنسکرت اور فرنچ زبانوں کو خطرہ لاحق ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا۔ اسمبلی میں وقفہ صفر کے دوران پربھاکر نے کہا کہ حکومت نے انٹرمیڈیٹ تک تلگو کو بحیثیت آپشنل لازمی قرار دیا ہے۔ اس فیصلے سے عربی، سنسکرت اور فرنچ زبانوں کو اختیار کرنے والے طلبہ کو دشواریاں پیدا ہوں گی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکومت اس فیصلے کے ذریعہ مذکورہ تینوں زبانوں کے خلاف اقدامات کررہی ہے اور انہیں انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن سے علیحدہ کیا جائے گا۔ پربھاکر نے کہا کہ مذکورہ زبانوں کی تعلیم کی سہولت ختم کرنے سے نہ صرف مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات نہیں ہوں گے بلکہ ان زبانوں کو سیکھنے کے خواہشمند طلبہ کا نقصان ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سنسکرت کی کئی جائیدادیں پہلے ہی سے مخلوعہ ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اختیاری مضمون کے سلسلہ میں اپنی پالیسی میں تبدیلی لائیں اور تینوں زبانوں کا تحفظ کرے۔ پربھاکر نے بتایا کہ لیکچررس اس مسئلہ پر احتجاج کررہے ہیں۔ بی جے پی رکن نے کہا کہ ان زبانوں کا تعلق اسلام اور ہندوازم سے ہے۔ ہزاروں خاندانوں سے جڑے ہوئے اس مسئلہ پر حکومت کو توجہ دینی چاہئے۔ وزیر قانون اندرا کرن ریڈی نے وقفہ صفر کی روایت کے مطابق مسئلہ کو نوٹ کرنے کا تیقن دیا۔ بی جے پی ارکان نے بھانپ لیا کہ اندرا کرن ریڈی مسئلہ کی سماعت کے بغیر ہی تیقن دے رہے ہیں۔ لہٰذا انہوں نے اندرا کرن ریڈی سے دریافت کیا کہ کونسا مسئلہ انہوں نے نوٹ کیا۔ ریاستی وزیر جنہوں نے مسئلہ کی سماعت نہیں کی تھی غلطی سے کہہ دیا کہ امتحانات میں اسپاٹ ویلیویشن کے بارے میں مسئلہ اٹھایا گیا ہے۔ اس پر ایوان میں قہقہے گونج اٹھے۔ وزیر امور مقننہ ہریش رائو نے مداخلت کی اور کہا کہ حکومت نے مسئلہ کا نوٹ لیا ہے اور تحریری جواب روانہ کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT