Wednesday , September 26 2018
Home / شہر کی خبریں / تمام شعبوں میں غیر معمولی ترقی کے باوجود ہندوستان میں توہم پرستی کا زور

تمام شعبوں میں غیر معمولی ترقی کے باوجود ہندوستان میں توہم پرستی کا زور

l خود ساختہ بدشگونی دور کرنے لڑکیوں کی درختوں اور جانوروں سے شادیاں
l تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ سب کے سب توہم پرستی کی بیماری میں مبتلا
حیدرآباد ۔ 12 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : ہمارے وطن عزیز ہندوستان نے آزادی کے بعد زندگی کے ہر شعبہ میں ترقی کی ہے ۔ خاص طور پر سائنس و ٹکنالوجی ، تعلیم ، طب و صحت ، کھیل کود ، خلائی سائنس ، اقتصادیات و تجارت کے شعبوں میں ہندوستان کی ترقی مثالی رہی ۔ آج ہندوستان خلائی سائنس کے شعبہ میں دنیا کی سرفہرست طاقتوں امریکہ ، روس ، چین ، فرانس اور برطانیہ میں شامل ہے ۔ 1950 کے بعد سے ہی ہندوستان نے خلائی سائنس میں اپنے سفر کا آغاز کیا اور اب خلائی سائنس کی اہم طاقتوں میں اس کا شمار ہوتا ہے ۔ دنیا بھر کے ممالک نے تاحال 6000 سے زائد سٹلائٹ داغے جس میں سے نصف سے زیادہ تباہ ہوچکے ہیں ۔ مابقی میں فی الوقت 1100 تا 2000 سٹلائٹس کارکرد ہیں ۔ ان میں ہندوستان کے 106 سٹلائٹس بھی شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ ہمارے ملک نے 209 دوسرے ممالک کے سٹلائٹس بھی خلاء میں کامیابی سے داغا ہے جو 28 مختلف ممالک سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ان ملکوں میں امریکہ ، جنوبی کوریا ، بلیجیم ، انڈونیشیا ، ارجنٹینا ، اٹلی ، اسرائیل ، کناڈا ، جاپان ، نیدر لینڈ ، ڈنمارک ، ترکی ، سوئٹزر لینڈ ، الجیریا ، اکسمبرگ ، سنگاپور ، فرانس ، آسٹریا ، برطانیہ ، قازقستان ، متحدہ عرب امارت ، فن لینڈ ، لتھوانیا اور سلواکیہ شامل ہے ۔ 2013-15 ہندوستان نے 13 ملکوں کے 20 سٹلائٹس خلاء میں داغے جس سے اسے 101 ملین امریکی ڈالرس کی آمدنی ہوئی ۔ ہندوستان 1970 سے سٹلائٹس لانچ کرتا آرہا ہے جس میں سٹلائٹس کی ڈیزائننگ ، سٹلائٹ سازی ، لانچنگ اور آپریٹنگ کی ذمہ دار ایجنسی انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن ISRO کا اہم کردار رہا ہے ۔ ہمارے سائنسدانوں نے پولا سٹلائٹ لانچ وہیکلس سے سیریز کی تیاری کے ذریعہ خلائی سائنس میں ایک انقلاب برپا کردیا ۔ ہندوستان نے PSLVC 37 خلائی گاڑی کے ذریعہ ایک ہی دن میں بیک وقت 104 سٹلائٹس خلاء میں داغ کر خلائی سائنس کے چمپئن روس کو بھی پیچھے کردیا ۔ یہاں تک کہ ہندوستان نے 2008 میں چاند پر کمند ڈالنے میں بھی کامیابی حاصل کرلی ۔ چندرائن I مشن کامیاب رہا جس سے خلائی تحقیق کی نئی راہیں کھل گئی ہیں ۔ ہندوستان نے آئی ٹی انفارمیشن ٹکنالوجی کے شعبہ میں بھی کامیابی کے جھنڈے گاڑے ہیں ۔ آئی ٹی اور بزنس پراسیس مینجمنٹ میں ہندوستان کی آمدنی 2025 تک 350 ارب ڈالرس کے نشانہ کو چھونے کی امید ہے ۔ ویسے بھی ہندوستان کی آئی ٹی برآمدات مالی سال 2016 کے دوران 129 ارب ڈالرس ہوگئی یہ مالی سال 2016 میں 107 ارب ڈالرس مالیتی تھے ۔ ہندوستان کے راست بیرونی سرمایہ کاری میں آئی ٹی شعبہ کا تیسرا مقام ہے ۔ اپریل 2000 اور دسمبر 2017 کے درمیان اس شعبہ سے ہندوستان میں 29.825 ارب ڈالرس کی بیرونی سرمایہ کاری حاصل ہوئی ۔ ہندوستان نے طب کے میدان میں بھی غیر معمولی ترقی کی ہے صرف 2015-16 میں 460000 انٹرنیشنل پیشنٹس ( بین الاقوامی مریض ) ہندوستان آئے جن میں ترقی یافتہ ممالک کے مریض بھی شامل ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ہندوستان نے شعبہ طب میں کافی ترقی کی ہے ۔ یہاں تمام شعبوں کے ماہر ڈاکٹرس پائے جاتے ہیں ۔ آپ کو بتادیں کہ اربوں ڈالرس مالیتی عالمی طبی سیاحتی بازار میں ہندوستان کا حصہ 18 فیصد ہے ۔ جنریک ڈرگ مارکٹ ( مہنگی ادویات کا سستا چربہ ) میں ہندوستان کی اجارہ داری ہے ۔ 2017-18 اپریل / مارچ کے دوران ہندوستان نے مختلف ممالک کو 17.3 ارب ڈالرس مالیتی جنریک ادویات ایکسپورٹ کئے جس میں امریکہ اور یوروپی یونین کے ممالک بھی شامل ہیں ۔ زندگی کے تمام شعبوں میں غیر معمولی ترقی کے باوجود ہمارے ملک میں توہم پرستی بہت زیادہ پائی جاتی ۔ تانترکوں ، باباؤں ، عاملوں کے چکر میں تعلیم یافتہ غیر تعلیم یافتہ سب کے سب اپنی زندگیاں تباہ کرلیتے ہیں ۔ ہندوستانیوں کی زندگیوں میں توہم پرستی کا یہ حال ہے کہ بدشگونی دور کرنے کی خاطر یہاں لوگ اپنی بیٹیوں کی شادی کتوں سے کردیتے ہیں ۔ امیتابھ بچن جیسا میگا اسٹار اپنے بیٹے اور بہو کی زندگی خوشگوار بنانے کے لیے بہو ایشوریہ رائے کی شادی درخت سے کروانے پر مجبور ہوجاتا ہے ۔ سانپ کے ڈسنے اور کتے کے کاٹنے پر لوگ ہاسپٹلوں میں علاج کروانے کی بجائے جھاڑ پھونک کرنے والے تانترکوں اور باباؤں سے رجوع ہوتے ہیں ۔ حال ہی میں غازی آباد میں ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا جس میں ایک شخص کی جان چلی گئی ۔۔ ( سلسلہ جاری ہے ) ۔

TOPPOPULARRECENT