Monday , January 22 2018
Home / شہر کی خبریں / تمام محکموں کی تقسیم کا عمل ختم ماہ تک مکمل کرلینے کی ہدایت

تمام محکموں کی تقسیم کا عمل ختم ماہ تک مکمل کرلینے کی ہدایت

گورنر کے مشیران کا چیف سکریٹری پی کے موہنتی اور دیگر اعلی عہدیداروں کے ساتھ جائزہ اجلاس

گورنر کے مشیران کا چیف سکریٹری پی کے موہنتی اور دیگر اعلی عہدیداروں کے ساتھ جائزہ اجلاس

حیدرآباد 3 اپریل (سیاست نیوز ) گورنر کے مشیران خصوصی مسرس اے این رائے اور صلاح الدین احمد نے جاریہ ماہ کے اختتام سے قبل ہی تمام سرکاری محکمہ جات میں تقسیم کے عمل کو مکمل کرلینے کی تقسیم کے عمل کو پورا کرنے تشکیل دی گئیں کمیٹیوں کو ہدایات دیں۔ چیف سکریٹری ڈاکٹر پی کے موہنتی کی جانب سے مشیران گورنر کے ساتھ طلب کردہ اجلاس سے خطاب کے دوران مشیران گورنر نے نظم و نسق کے امور میں تعاون کرنے کی اعلی عہدیداروں سے خواہش کی۔ محکمہ جات کی تقسیم کے اقدامات سے آئی اے ایس عہدیدار مسٹر راما کرشنا نے مشیران گورنر کو واقف کروایا اور مقامی لحاظ سے ملازمین کس علاقہ سے تعلق رکھتے ہیں، سرکاری املاک کی تفصیلات ،سرکاری گاڑیوں، کنٹراکٹس، کورٹ کیسیس ، زیر التواء یا زیر فیصلہ فائیلس، کمپنیوں تربیتی اداروں سے متعلق معلومات فراہم کئے اور بتایا کہ تمام فائیلس کے ڈیجیٹلائزیشن کام تیزی سے جاری ہیں اور اس توقع کا اظہار کیا کہ اندرون دو ہفتے یہ کام مکمل کرلیا جائے گا ۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ کی تقسیم کا عمل سے متعلق پیپر ورک تقریبا مکمل ہوچکا ہے اور مکمل ڈاٹا عہدیداروں کے پاس تیار وچکا ے ۔ عہدیداران نے مشیران گورنر کو بتایا کہ مرکز کی جانب سے اگر کوئی رہنمایانہ خطوط فراہم کئے جائیں تو ملازمین کی تقسیم کا عمل آسان ہوجائے گا ۔ عہدیداروں نے بتایا کہ 52 ہزار ریاستی کیڈر عہدیداروں اور ملازمین اور 700 آل انڈیا سرویسیس عہدیداروں کو تقسیم کرنے کی ضرورت ہوگی ۔ کیونکہ فی الوقت 85 صدور محکمہ جات اور 37 سکریٹریز ہیں اور ایک سکریٹری 1500 ملازمین کی سرویسیس دیکھنا پڑے گا ۔ 30 ہزار ملازمین سیما آندھرا علاقہ کو جانا پڑے گا ۔ علاوہ ازیں سکریٹریٹ میں تین ہزار ملازمین کو تقسیم کے عمل میں شامل کرناپڑیگا ۔ انہوں بتایا کہ رہنمایانہ خطوط ملنے کے بعد ملازمین کی تقسیم کا آغاز ہوگا ۔ ایک اور عہدیدار نے بتایا کہ مشترکہ راجدھانی میں دونوں حکومتوں کو سرکاری عمارتوں کو مختص کرنے کے علاوہ سکریٹریٹ میں بلاکس مختص کرنے تجاویز حکومت کو فراہم کئے جاچکے ہیںلیکن حکومت نے باقاعدہ کوئی فیصلہ نہیںکیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT