Saturday , June 23 2018
Home / ہندوستان / تمثیلی مشاعرہ شاعری کی روایت سے قریب کرتا ہے :شہپررسول

تمثیلی مشاعرہ شاعری کی روایت سے قریب کرتا ہے :شہپررسول

نئی دہلی:17؍فروری(سیاست ڈاٹ کام)اردو اکادمی ،دہلی کے زیر اہتمام سینٹرل پارک ،کناٹ پلیس ،نئی دہلی میں چھ روزہ’ جشن وراثت اردو’کے تیسرے دن سامعین کا پرجوش استقبال کرتے ہیں۔اطہرسعید اور ریشما فاروقی کی آواز سے پروگرام کا آغاز ہوا ۔انہوں نے اس موقع پر یہ بھی کہاکہ محبت کے اس جشن بہار یعنی جشن وراثت اردو کے تیسرے دن بہت اچھے اچھے پروگرام پیش کیے جائیں گے۔ تمثیلی مشاعرے کا تعارف کراتے ہوئے اردو اکیڈیمی،دہلی کے وائس چیئرمین پروفیسر شہپررسول نے کہاکہ تمثیلی مشاعرے کو دہلی میں کافی پسند کیا جاتا رہاہے ۔تمثیلی مشاعرے کا فن شاعری کی روایت سے مستحکم رشتے کی استواری کاسبب بنتاہے ۔اس مشاعرے کو باقی رکھنے کی ہمیں کوشش کرنی ہے ۔تمثیلی مشاعرے میں رہ کر اکثر میں سوچتا ہوں کہ کیا کردار ادا کرتے ہوئے یہ لوگ شعرا کی روح میں اترجاتے ہیں ،تمثیلی مشاعرے کی اہمیت وافادیت آج بھی مسلم ہے اور آئندہ بھی اس کی اہمیت افادیت باقی رہے گی ۔پہلے تمثیلی مشاعرے کی صدارت جگر مرادآبادی نے کی ،جگر مرادآبادی کی تمثیل استاذ اسداللہ نے اداکیا۔احمدفرازکی اعظم غنی ،پروین شاکرکی سعدیہ فاطمہ ،بشیربدرکیمسرت علی،واقف مرادآبادی کیمسعودمفتی،نشورواحدی کی سراج عالم،کشورناہیدکی ہداسیدہ،فنانظامی کانپوری کی قطب الدین واحدی،ساغرخیامی کی مبشرغوری،مجروح سلطان پوری کی عبدالحمید،شاہ جہاں بانویاد دہلوی کیسیماقدوائی،کیف بھوپالی کیسیدمحمدجاوید،زہرہ نگاہ کی نیازفاطمہ نے تمثیل پیش کی ۔
ان شخصیات نے مذکورہ شعرا کے انداز ولباس میں ان کے کلام پیش کیے ۔تمثیلی مشاعرہ یوں تو کم ہوتا ہے مگر جب بھی ہوتا ہے ،عمومی طورپر اسے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اساتذہ وطلبا ہی پیش کرتے ہیں اور اس مشاعرے کو سننے کے لیے لوگ دور دور سے آتے ہیں ۔اس تمثیلی مشاعرے میں نوجوان نسل خاصی دلچسپی لیتی ہے ۔نوجوان نہ صرف تمثیلی مشاعرے سنتے ہیں ۔بلکہ وہ ان کرداروں کو دیکھ کر خود میں بھی کسی بڑے شاعر کو تلاش کرنا شروع کردیتے ہیں ۔جشن وراثت اردو کے تیسرے دن کا آخری پروگرام شام غزل کے طورپر جسوندرسنگھ ،ممبئی نے نوجوانوں کے ہجوم میں پیش کیا ۔اس موقع پر اردواکادمی کے سکریٹری ایس۔ ایم ۔علی نے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہاکہ مجھے نوجوانوں کی بھیڑ دیکھ کر خوشی ہورہی ہے کہ ہندوستانی زبان وادب کی پسندیدگی کسی سرحد تک محدود نہیں ہے ۔

TOPPOPULARRECENT