Thursday , December 13 2018

تمل ناڈو کے طرز پر تلنگانہ میں مسلمانوں کو تحفظات کی ضرورت

تابناک مستقبل کے لیے سماجی تلنگانہ کی تشکیل پر زور ، پروفیسر گھنٹہ چکراپانی

تابناک مستقبل کے لیے سماجی تلنگانہ کی تشکیل پر زور ، پروفیسر گھنٹہ چکراپانی

حیدرآباد۔27مارچ(سیاست نیوز)آصف جاہی اور قطب شاہی دور حکومت کے کارناموں کو نصابی مواد میں شامل کرنے کامشورہ دیتے ہوئے سماجی جہدکار پروفیسر گھنٹہ چکراپانی نے کہاکہ نئی ریاست میں برسراقتدار آنے والی پہلی سیاسی جماعت تلنگانہ کی نئی نسل کوقطب شاہی اور آصف جاہی دور حکومت کی اصلاحات سے واقف کروانے کے لئے مذکورہ دور کے کارناموں کو تعلیمی نصاب میں شامل کرے جس کے ذریعہ آندھرائی قائدین کے دور حکومت میںتلنگانہ کے عوام کے درمیان پیدا کئے گئے تفرقات کو ختم کیاجاسکے۔آج یہاں ایک انٹرویو میںپروفیسر گھنٹہ چکرا پانی نے مزید کہاکہ نئی ریاست تلنگانہ میںبرسراقتدار آنے والی سیاسی جماعت پر یہ ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں کہ وہ ساماجیکا تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے وعدو ں کو پورا کرنے کے لئے پسماندگی کاشکار تمام طبقات کو ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرے تاکہ استحصال اور ناانصافیوں کاشکار طبقات کے احساس کمتری کو دور کیا جاسکے۔انہوں نے کہاکہ متحدہ ریاست آندھرا پردیش کے بعد منظم انداز میں مسلمانوں کو تلنگانہ کے سرکاری محکموں سے بیدخل کرنے کا بھی کام کیا گیا۔

پروفیسر چکرا پانی نے بنیادی اور اعلی تعلیم سے تلنگانہ کی عوام بالخصوص مسلمانوں کو محروم رکھنے کا بھی آندھرائی قائدین پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ پورے رنگا ریڈی میںآج تک بھی ایک ڈگری کالج ریاستی انتظامیہ کی جانب سے قائم نہیںکیا گیا اور یہی حال مسلم اکثریتی والے علاقوں کا ہے جہاں پر سرکاری اسکول کی کمی مسلم سماج کو تعلیم سے دور رکھنے کی وجہہ بنا۔پروفیسر گھنٹہ چکرا پانی نے نئی ریاست میںسماجی انصاف کو یقینی بنانے کے لئے مسلمانوں کے بشمول پسماندگی کاشکا ر تمام طبقات کو بنیادی طور پر میڈیکل اور ایجوکیشن کے مفت مواقع فراہم کرنے پر ز وردیا ۔ انہوں نے نئی ریاست تلنگانہ میں انڈسٹریز کے قیام کو بھی لازمی قراردیا جہاں پر ملازمت کا تمام طبقات کو یکساں مواقع کی فراہمی پسماندگی کاشکار طبقات کی معیشت کواستحکام پہنچانے کے لئے موثر ذریعہ ثابت ہوگا۔انہوں نے تلنگانہ میںمسلمانوں کو آبادی کے تناسب سے تحفظات فراہم کرنے کیلئے ٹاملناڈو انتظامیہ کی کارکردگی کا جائزہ لینے کا بھی نئی ریاست تلنگانہ میںبرسراقتدار آنے والی پہلی سیاسی جماعت کو مشورہ دیا اور کہاکہ دستور میںترمیم کے ذریعہ مسلمانوں کو آبادی کے تناسب سے تحفظات فراہم کئے جائیںتاکہ مستقبل میں سنہری اور سوشیل تلنگانہ ریاست کی تشکیل کو یقینی بنایا جاسکے۔

TOPPOPULARRECENT