تمہیں اہلِ سیاست نے کہیں کا بھی نہیں رکھا

مسلمانوں کے حوصلے پست کرنے علماء کااستعمال
ہمیں مودی سے اسلام سیکھنے کی ضرورت نہیں!

رشیدالدین
ہندوتوا نظریات کو مسلط کرتے ہوئے ملک کو ہندو راشٹر میں تبدیل کرنے کا خواب دیکھنے والی تنظیموں کی سرگرمیاں عروج پر ہیں اور انہیں علانیہ حکومت کی سرپرستی حاصل ہے۔ جارحانہ فرقہ پرستی کے علمبردار اپنے مقصد کی تکمیل کیلئے مسلمانوں کو ڈر اور خوف میں مبتلاء کرنا چاہتے ہیں۔ مسلمانوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کرتے ہوئے دوسرے درجہ کا شہری بنانے کا منصوبہ ہے۔ مسلمانوں میں دہشت کا ماحول پیدا کرنے کیلئے مختلف عنوانات سے حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ لو جہاد تو کبھی گاؤ رکھشا کے نام پر بے قصور اور نہتے مسلمانوں کو نشانہ بنانا معمول بن چکا ہے، اُن کی ہمت اور حوصلہ اس لئے بھی بلند ہے کہ اُن کے خلاف کارروائی کرنے والا کوئی نہیں۔ ملک کے پردھان سیوک سے لیکر نچلی سطح کے پولیس عہدیداروں تک ہر کوئی ان واقعات سے آنکھیں موندے ہوئے ہیں۔ قاتلوں کو اس قدر چھوٹ دے دی گئی کہ جیل میں رہ کر بھی ویڈیو میسیج کے ذریعہ اپنے جرم پر ندامت کے بجائے فخر کررہے ہیں۔ مسلمانوں کے حوصلے پست کرنے کی اس سازش میں کچھ ہمارے لوگ بھی دانستہ یا نادانستہ طور پر مددگار ثابت ہوئے ہیں۔ متحدہ طور پر ان طاقتوں کی مزاحمت کے بجائے بعض نادان کٹھ پتلی کی طرح کام کررہے ہیں۔ بی جے پی میں پہلے سے چند ایسے چہرے موجود ہیں جنہیں مسلم نمائندگی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ مرکز میں پارٹی برسراقتدار آنے کے بعد مسلم راشٹریہ منچ سے مسلمانوں کے میر جعفر اور میر صادق خریدے گئے۔ جب اُن سے بھی کام نہیں چلا تو مذہبی لبادہ اوڑھے ہوئے گنبدِ اقتدار کے کبوتروں کے آگے دانہ پھینک کر جال میں پھانس لیا گیا۔ کسی بھی قوم کو کمزور کرنے کیلئے بیرونی عناصر سے زیادہ داخلی عناصر زیادہ کارآمد اور اثر انداز ہوتے ہیں۔ لہذا وقفہ وقفہ سے اپنے پیادوں کو میدان میں اُتاراگیا۔ مسلمانوں کو بے آسرا کرنے کیلئے مسلم قائدین اور جماعتوں کی کردار کشی کی گئی تاکہ قائدین پر سے اعتماد ختم ہوجائے۔ یہ سازش کامیاب ہوئی تو مذہبی قیادت اور مذہبی شخصیتوں میں اختلافات کو ہوا دی گئی۔ مسلمانوں کے نمائندہ ادارے مسلم پرسنل لاء بورڈ میں پھوٹ ڈالنے کا اسکیچ تیار کیا گیا لیکن ابھی تک کامیابی نہیں ملی۔ سنگھ پریوار کی سازش کا شکار ہوکر بعض ناعاقبت اندیش حضرات نے اپنے بیانات کے ذریعہ مسلمانوں کو باٹنے کا کام کررہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں سازش کی گہرائی کا پتہ نہیں اور صرف سستی شہرت اور نام و نمود کے چکر میں آگئے۔ کسی نے بابری مسجد کی جگہ مندر کی تعمیر کیلئے حوالے کردینے کی تجویز پیش کی اور اپنے دعویٰ کے حق میں بعض فقہی دلائل بھی پیش کردیئے۔ اس تجویز کے ساتھ ہی سنگھ پریوار اور حکومت کے زیر اثر میڈیا نے ان مولانا کو مصلح وقت کی حیثیت سے سرپر بٹھالیا۔ ان کا مقصد پرسنل لاء بورڈ میں پھوٹ پیدا کرنا تھا۔ مولانا سلمان ندوی پر جب حقائق آشکار ہوئے تو انہوں نے تجویز سے دستبرداری اختیار کرلی۔ اُن کے رجوع کرنے سے یقیناً سنگھ پریوار کو مایوسی ہوئی ہوگی۔ ابھی یہ تنازعہ تھما نہیں تھا کہ رام مندر کے جہد کار شیعہ وقف بورڈ کے صدرنشین وسیم رضوی نے متنازعہ مساجد کی فہرست پیش کرتے ہوئے انہیں ہندوؤں کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔ ایسی تمام مساجد جن پر ہندوؤں کا دعویٰ ہے کہ انہیں مندر توڑ کر تعمیر کیا گیا انہیں حوالے کرنے وسیم رضوی نے شوشہ چھوڑ دیا۔ بابری مسجد کی ملکیت کا فیصلہ عدالت میں ابھی تک باقی ہے لیکن وسیم رضوی نے دوسری مساجد کو حوالے کرنے کی بات کہی۔ بابری مسجد کے سلسلہ میں بھی وسیم رضوی کے مخالف مسلم بیانات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ انہوں نے رام کا قدآور مجسمہ نصب کرنے پر چاندی کے تیر بطور تحفہ دینے کا پہلے ہی اعلان کیا ہے۔ وسیم رضوی آر ایس ایس اور سنگھ پریوار کا ترجمان ہے اور وقفہ وقفہ سے اس طرح حماقت اور مسلم دشمنی شیوہ بن چکی ہے۔ وسیم رضوی تو محض ایک کٹھ پتلی ہے ڈور کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔ وسیم رضوی اپنا نام بدل اپنی جائیدادوں کو مندر کی تعمیر کیلئے حوالے کردیں تو کسی کو اعتراض نہیں ہوگا لیکن اللہ کے گھر کے بارے میں اس طرح کی رائے دنیا اور آخرت میں رسوائی کا سبب بن جائے گی۔ کرپشن اور بے قاعدگیوں کے الزامات کا سامنا کرنے والے وسیم رضوی کسی کارروائی سے بچنے کیلئے یوگی آدتیہ ناتھ کی خوشنودی میں مصروف ہیں کیونکہ رضوی اپنا نام تبدیل کرلیتے اُس پر تو کسی کو اعتراض نہیں ہوگا۔ مسلمانوں کو پست ہمت کرنے کی سازش کا شکار ایک اور عالم دین ہوگئے، انہوں نے خود کو سیکولر اور مذہبی رواداری کا پیکر ثابت کرنے کیلئے ہولی تہوار کے احترام میں نماز جمعہ کا وقت تبدیل کردیا۔ پہلی بات تو یہ کہ ہولی کا نماز جمعہ کے وقت سے کوئی تعلق نہیں، آخر وہ کس کے اشارہ پر اور کس کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔ ’’ مومن فقط احکام الٰہی کا ہے پابند‘‘ کے مصداق ہماری فکر اللہ تبارک تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کا حصول ہونا چاہیئے۔ نماز کے بارے میں قرآن مجید کے سورۃ النساء کی 103 ویں آیت میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ: ’’ ان الصلاۃ کانت علی المؤمنین کتاباً موقوتا ‘‘ یعنی کہ بے شک نماز وقت کی پابندی کے ساتھ مومنوں پر فرض کی گئی ہے۔ تہواروں کے موقع پر اگر مذاہب کے جلوس نکلتے ہیں تو راستے کی مساجد میں نماز ترک نہیں کی جاتی۔ اگر مسلم

پرسنل لاء بورڈ کے رکن عاملہ یہ کام کریں تو پھر عام مسلمانوں میں کیا پیام جائیگا۔ کل کے دن کسی مذہب کی رسومات کا بہانہ بناکر کیا سحر اور افطار کا وقت بھی تبدیل کردیں گے۔؟ صورتحال یہاں تک پہنچ گئی کہ ڈر اور خوف کے ماحول کے زیر اثر شنکر اچاریہ کی موت پر مسلمانوں نے اطلاعات کے مطابق مسجد میں ایک منٹ کی خاموشی منائی۔ مذہبی رہنماؤں کو حکمرانوں کی خوشنودی اور واہ واہی کی فکر کے بجائے تحفظ شریعت اور نفاذ شریعت کو شعار بنانا چاہیئے۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کو مذکورہ رکن عاملہ کے اقدام پر جواب طلب کرنا ہوگا۔ بورڈ کے ایک نائب صدر جو ہمیشہ حکومت کے حق میں بیان بازی کیلئے مشہور ہیں‘ انہوں نے بھی اپنے فرقہ کی مسجد میں نماز کا وقت تبدیل کرنے کا اعلان کردیا۔ سنگھ پریوار کو خوش کرنا ہی ہے تو پھر ایسی شخصیتوں سے وقت میں تبدیلی کیا کل کے دن نعوذ باللہ نماز کے التواء کا اعلان بھی بعید نہیں۔

اگر حکومت کی جانب سے نماز کے اوقات میں تبدیلی کی تجویز پیش کی جاتی تو یقیناً ہنگامہ ہوتا اور اسے دین میں مداخلت کہا جاتا۔ لیکن خود ہمارے نام نہاد علماء حکومت کی زبان میں بات کرتے ہوئے ان کے مقاصد کی تکمیل کررہے ہیں۔ ہندوستان کے مسلمانوں کا حال اسپین کے حالات کی طرف رواں دواں ہے۔ مسلمان آخر اس طرح کی سرگرمیوں کو کس طرح برداشت کررہے ہیں، آخر اُن کی غیرت اور حمیت ایمانی کو کیا ہوگیا؟۔ ملک کے دیگر شہروں میں طلاقِ ثلاثہ بل کے ذریعہ شریعت میں مداخلت کی کوششوں کے خلاف خواتین کے احتجاج جاری ہیں، لاکھوں کی تعداد میں خواتین سڑکوں پر نکل کر اپنا احتجاج درج کررہی ہیں لیکن حیرت ہے کہ حیدرآباد میں اس مسئلہ پر سناٹا ہے۔ کیا حیدرآباد صرف سمینار، سمپوزیم اور جلسوں کیلئے ہے؟ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے اجلاس کا انعقاد، مندوبین کی فائیو اسٹار طرز پر
میزبانی اور 2 کروڑ روپئے تک عطیہ فراہم کرنا کیا حیدرآبادی مسلمانوں کے جذبہ ایمانی اور فریضہ کی تکمیل ہے؟۔1970ء کے دہے میں جب مسجدِ اقصیٰ میں آگ لگائی گئی تو دنیا بھر میں واحد حیدرآباد وہ شہر تھا جہاں مسلمانوں نے تاریخی احتجاج درج کیا اور فلسطینی مسلمانوں اور قبلہ اول کے ساتھ اپنی وابستگی ظاہر کی تھی۔ مسلمانوں اور اُن کی قیادت کی بے حِسی کے نتیجہ میں اب ہمیں نریندر مودی سے اسلام کا درس لینا پڑ رہا ہے۔ مودی نے شاہ عبداللہ دوم کے ساتھ کانفرنس کو اسپانسرڈ کیا۔ شاہ عبداللہ دوم کے ذریعہ یہ پیام دینے کی کوشش کی گئی کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی دراصل کسی مذہب کے خلاف نہیں ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دونوں قائدین نے ہندوستان میں دہشت گردی کا ذکر کیوں کیا۔ یہاں کے مسلمانوں کا دہشت گردی سے کیا تعلق ہے۔ کہیں یہ مسلمانوں کو دہشت گردی کے نام پر بدنام کرنے کی سازش تو نہیں۔ اسلام کے اعتدال پسندی کے پیام کے نام پر اس کانفرنس میں مودی کے وہ حواری مذہبی قائدین موجود تھے جنہوں نے حالیہ عرصہ میں کسی نہ کسی طرح قربت بنالی ہے۔ دسترخوانِ اقتدار کی پھینکی ہوئی یہ ہڈیاں اس کانفرنس میں موجود رہ کر مسلمانوں کو رسواء کررہی تھیں۔ ہمیں مودی یا اُن کے مہمان سے اسلام کو سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اُردن کے شاہ عبداللہ کو ہندوستانی مسلمانوں کو اعتدال پسندی کا درس دینے کے بجائے قبلہ اول کی بازیابی کی کوشش کرنی چاہیئے۔ 1967ء سے یہ خاندان اقتدار میں ہے اور اُن کی سرحد بھی اسرائیل سے ملتی ہے۔ اسرائیل نے اُن کے علاقوں پر قبضہ کرلیا لیکن آج تک انہیں بازیاب نہیں کیا جاسکا۔ اسلام میں اعتدال پسندی کے ساتھ حق کیلئے جدوجہد کی گنجائش موجود ہے۔ فتح مکہ کے موقع پر حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عام معافی کا اعلان تو فرمایا لیکن بعض بدترین دشمنان اسلام کا نام لیکر کہا کہ اگر وہ خانہ کعبہ کے غلاف میں بھی پناہ لیں تو اُنھیں قتل کیا جائے۔ اسلام نے عفو و درگذر کے ساتھ دین کی سربلندی کیلئے جدوجہد کی اجازت دی ہے۔ کیا ہی بہتر ہوتا کہ شاہ عبداللہ دوم اپنے پڑوسی ملک میں فلسطینیوں پر مظالم کی مخالفت اور قبلہ اول کی بازیابی کی سعی کرتے۔ کیا ہی بہتر ہوتا شاہ عبداللہ دوم ہندوستانی مسلمانوں کے حالات اور جارحانہ فرقہ پرست عناصر کے مظالم پر اپنے دوست نریندر مودی کو نصیحت کرتے۔ دہشت گردی کو اسلام سے جوڑنے کی منصوبہ بند سازش کا حصہ بننے کے بجائے اُردن کے حکمراں کو ہندوتوا کی دہشت گردی کی مذمت کرنی چاہیئے تھی۔ صدام حسین نے تادمِ آخر اسرائیل کے خلاف جدوجہد کی۔ اگرچہ عراق کی سرحد اسرائیل سے نہیں ملتی لیکن انہوں نے ایمانی حرارت کے تحت اسرائیل پر میزائیل داغے تھے۔دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کا ہندوستان میں بیٹھ کر تذکرہ کرنے کے بجائے نریندر مودی اور شاہ عبداللہ دوم کو کانفرنس میں موجود مودی کے مذہبی حواریوں کے ساتھ عراق، شام، لیبیا، یمن اور افغانستان کا دورہ کرتے ہوئے وہاں کے عوام کو درپیش مصائب و آلام کا جائزہ لینا چاہیئے۔ منور رانا کا یہ شعر موجودہ حالات پر صادق آتا ہے:
تمہیں اہلِ سیاست نے کہیں کا بھی نہیں رکھا
ہمارے ساتھ رہتے تو سخنور ہوگئے ہوتے

TOPPOPULARRECENT