Wednesday , November 22 2017
Home / مضامین / تم ہو فرعون تو موسی بھی ضرور آئے گا

تم ہو فرعون تو موسی بھی ضرور آئے گا

 

محمد عثمان شہید، ایڈوکیٹ
اے کاش ہم بینائی سے محروم رہتے تاکہ ہم روہنگائی مسلمانوں پر توڑے جانے والے ظلم کو دیکھ نہ پاتے جس سے ہمارے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ کلیجہ منہ کو آتا ہے بے ساختہ آنسو رواں ہوجاتے ہیں۔ ان کے کٹے ہوئے اعضاء کو دیکھ نہ پاتے تاکہ انہیں زندہ رکھ کر جسم کے ایک ایک عضو کو برما کے فوجی درندوں کے ہاتھوں کٹتے ہوئے دیکھ نہ پاتے تاکہ انہیں لاری کے ٹائر میں رکھ کر جلاتے ہوئے دیکھ نہ پاتے۔ تاکہ ان ظالم فوجیوں بے رحم انسانی درندوں کو دیکھ نہ پاتے جو ان مسلمانوں کو جوتوں سے مار رہے ہیں جسم کے ہر حصہ پر ۔ کاش ہم سماعت سے محروم رہتے تاکہ روہنگائی مسلمانوں کی آسمانوں کو چھیدنے والی چیخیں سن نہ پاتے ، ان ماؤں کی کانوں کو بہرہ کرنے والی چیخیں سن نہ پاتے جن کے بازوؤں سے ان کو بچوں اور بچیوں کو چھین کر ان کے سامنے جب آگ کے حوالے کیا جارہا تھا ۔
1962 ء سے برما میں روہنگائی مسلمانوں پر ظلم و ستم کا بازار گرم ہے اور دنیا اندھی بہری مفلوج بنی ہوئی ہے۔ حیوانوں کی طرح ردعمل کا اظہار کیا جارہا ہے ۔ انسانی حقوق کا نعرہ لگانے والوں کو بھی فالج مارگیا ۔ جب ان مسلمانوں کو بنیادی حقوق سے محروم کردیا گیا ۔ ان کی شہریت چھین لی گئی ، انہیں بے خانماں و برباد کردیا گیا ۔ ان کو ووٹ دینے کے حق سے محروم کردیا گیا ۔ افسوس تو یہ کہ مسلم دنیا بھی اپنے کلمہ گو بھائیوں کے قتل عام کانظارہ کرتی ہے اور خاموش رہی ۔ ان کے کٹے ہوئے اعضا کو بھڑکتے دیکھتی رہی اور خاموش رہی ، ان کے بہتے ہوئے لہو کو دیکھتی رہی اور خاموش رہی۔ اس وقت بھی خاموش رہی جب برما کے مسلم علماء کو سور کا گوشت کھانے پر مجبور کیا گیا اور انکار کی صورت میں سب کو گولیوں سے بھون دیا گیا ۔
58 مسلم ممالک کے سربراہ بھی اپنے مسلمان بھائیوں کے اس قتل عام پر ایسے خاموش رہے جیسے ان کی زبان کسی نے کاٹ دی ہو جیسے کسی نے ان کے دیدے نکال دیئے ہوں۔ اپنے بھائیوں کے سر ان کے جسم سے کاٹتے ہوئے دیکھ کر ان کا دل نہیں کانپا۔ ان کے جسم سے کلہاڑیوں کے ذریعہ اعضا کاٹ کر زندہ جلادیا گیا اور ان کا کلیجہ منہ کو نہیں آیا ۔ ان کی آنکھ نہیں روئی ، جب کئی معصوم بچیوں کی عصمتیں لوٹی گئیں۔ پھر ان کے گلے کاٹ دیئے گئے۔ بین الاقوامی میڈیا بھی خموش ہے ۔ ان کی خاموشی حیرت انگیز اور معنی خیز ہے۔ یہ میڈیا بدھسٹ درندوں کی درندگی کو منظر عام پر لانے سے محض اس لئے مجبور ہے کہ مرنے والے مسلمان ہیں، جن کی جائیداد تباہ و برباد کردی گئی ، نذر آتش کردی گئی، جن کی لاشیں دریا برد کردی گئیں جنہیں زندہ جلادیا گیا جن کی عصمتیں لوٹ لی گئیں ، وہ اللہ کے بندے تھے ، محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام تھے۔
یہ سب کچھ بدھسٹ رہنما آشن دردھو کے حکم پر ہورہا ہے جس نے کہا کہ مسلمانوں کو قتل کرنا ہر بدھسٹ کا مذہبی فریضہ ہے ۔ اس کے بعد ہی مائنمار کے فوجی اور بدھسٹ حیوان بے سہارا مسلمانوں پر بھوکے درندوں کی طرح ٹوٹ پڑے ۔ رکھین نامی صوبے کے مسلمانوں پر زندگی کی تمام راہیں مسدود کردی گئیں۔ مائنمار میں خندق کھود کر اس کو مسلمانوں سے پاٹ دیا گیا اور اس پر گاڑیاں چلادی گئیں۔ ہمیں یہ کہنے میں عار نہیں کہ یہ اسٹیٹ ٹریررازم ہے۔ سب کچھ ہورہا ہے لیکن اللہ کو نیند نہیں آتی ، وہ (نعوذو باللہ) بہرہ یا بینائی سے محروم نہیں ہے ۔ وہ سورہ نساء میں ارشاد فرماتا ہے ۔
ائے لوگو تمہارے پاس رب کی طرف سے سند اور دلیل آ پہنچی اور ہم نے تمہاری جانب واضح اور صاف نور اتار دیا ہے ۔ پس جو لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور اسے مضبوط پکڑلیا انہیں وہ عنقریب رحمت میں لے لے گا (آیت نمبر 175 )

پھر رحمت خداوندی کو جوش آیا ۔ جب بنگلہ دیش نے روہنگائی مسلمانوں پراپنی سرحدیں بند کردیںاور ہزاروں مسلمانوں کو واپس لو ٹنے پر مجبور کر رہے تھے ۔ جب سعودی عرب نے بھی کروٹ نہیں لی۔ جب مصر ، اردن ، پاکستان ، دبئی ، ابوظبی، افغانستان ، عراق وغیرہ جیسے مسلم ممالک مہر بلب رہے تب اس تاریکی سے ایک مینار روشنی کا بلند ہوا۔ مردوں کی اس بزم میں ایک ’’مرد‘‘ کھڑا ہوا۔
ترکی کے صدر محترم اردغان کے جہاز امداد لیکر برما پہنچ گئے ۔ ان کی آواز پر برما کی حکومت نے مظلوم مسلمانوں تک امداد پہنچانے کی اجازت دیدی ۔ بنگلہ دیش نے اردغان کے’’حکم‘‘ پراپنی سرحدیں ان مسلمانوں کیلئے کھول دیں۔
اردغان تم مرد میدان ہو۔ اسلام کی آن بان شان کے محافظ ہو۔ تم وارث صلاح الدین ایوبی ہو ، اردغان تم وارث طارق بن زیاد ہو۔ تم وارث محمد بن قاسم ہو۔ تم وارث نورالدین زنگی ہو۔ تم ملت اسلامیہ کے محسن ہو اردغان۔ تم بہادروں کے نقیب ہو۔ تم سسکتی ہوئی دم توڑتی ہوئی انسانیت کے مسیحا ہو اردغان۔ اردغان تم نے ترکی کی پیشانی پر اتاترک مصطفی کمال کے لگے ہوئے داغ کو جو اس نے استنبول کی جامع مسجد کو میوزیم میں تبدیل کر کے لگایا تھا ہمیشہ کیلئے مٹادیا حقیقت میں اتاترک (ترکوںکے باپ) تم ہو۔ اردغان تم ہو۔ اب ہماری آنکھوں سے بہتا ہوا آنسوؤں کا سیلاب رکنے کو ہے۔ اب ہم اللہ کا شکر ادا کر رہے ہیں کہ اس نے پھر ایک فرعون کیلئے ایک موسیٰ کو پیدا کردیا۔
اردغان تم نے انسانیت سوز ظلم کی المناک داستاں سن کر مظلوم روہنگائی مسلمانوں کی مدد کا بیڑا اٹھایا۔ تمہاری ملکہ تمہاری شریک حیات نے روہنگائی مسلم عورتوں کو گلے لگاکر ان کے آنسوؤں کو اپنے آنسوؤں سے روکنے کی کوشش کی ۔ اللہ ان کا سہاگ سلامت رکھے۔
سعودی عرب اور ایران نے بھی اسلامی اخوت کا مظاہرہ کیا اور برما کے مظلوم مسلمانوں کی مدد کیلئے میدان میں آگئے ۔ ہندوستانی مسلمان کب پیچھے رہنے والے ہیں۔ انہوں نے بھی اب ظلم و بربریت کے خلاف آواز بلند کی ۔ جلوس نکال رہے ہیں، احتجاجی جلسے عام منعقد کر رہے ہیں۔ تحریک خلافت کی طرح مسلمانوں کی جدوجہد بھی تاریخی حیثیت کی حامل رہے گی ۔ یہ بھی کہتا چلوں کہ ایک بدھسٹ بادشاہ کو جو کسی وقت برما کے اقتدار پر قابض تھا ، یہ خبط سوار ہوا کہ مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی بدھسٹ آبادی کو ختم کردے گی ۔ لہذا ان سے فرمان جاری کیا کہ برما کے مسلمانوں کو قتل کردیا جائے جس طرح فرعون نے ایک موسی کی پیدائش کو روکنے کیلئے 70 ہزار بچوں کو قتل کردیا تھا ۔ موسیؑ کی پیدائش ہوکر رہی۔ فرعون کا اقتدار معہ فرعون کے غرق ہوگیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ بغداد کے مسلمانوں کو مولی گاجر کی طرح کاٹنے دینے والی ہلاکو کی فوج ، عمارتوں کو ڈھا دینے والی گھروں کو جلا دینے والی ، خواتین کی بے حرمتی کرنے والی صرف جانوروں کو چھوڑ کر چلی گئی ۔ بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجادینے کے بعد اسی ہلاکو کے پوتے نے اسلام قبول کرلیا۔ اقبال نے کہا
ہے عیاں یورش تاتارکے افسانے سے
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے میں
اسی طرح روہنگائی مسلمانوں سے التماس ہے کہ وہ صبر کا دامن نہ ہاتھ سے جانے دیں، آج تم نے جو بہمت کا مقابلہ کیا اور اسلام کے دامن کو ہاتھ سے جانے نہ دیا ، وہ قابل تحسین ہے۔ ظلم و ستم کی چکی میں پس جانے کے باوجود حلقہ بگوش شیطان نہ ہوئے وہ قابل تعریف ہے ۔ تم نے اپنے آقاؐ کا دامن تھامے رکھا ۔ وہ ساری دنیائے اسلام کیلئے قابل فخر و قابل تقلید ہے ۔
ہم تمہارے ساتھ ہیں قدم بہ قدم

Top Stories

TOPPOPULARRECENT