Tuesday , July 17 2018
Home / مذہبی صفحہ / تندرستی ہزار نعمت

تندرستی ہزار نعمت

محمد عبدالقادر
اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے رسول حضرت محمدمصطفیﷺ کو ساری کائنات کیلئے رحمت عالم و طبیب اعظم بناکر بھیجا ہے۔ جس طرح آپ نے امراض روحانی کا علاج بتایا اسی طرح آپ نے امراض جسمانی کا بھی علاج بتایا۔ اگر آپ امراض جسمانی کا علاج نہ بتاتے تو دشمنان اسلام آپﷺ اور آپ کے بعد علمائے امت کے سامنے معترض ہوتے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب پاکﷺ کو روحانی و جسمانی دونوں کیلئے طبیب اعظم بناکر بھیجا۔ذیل میں حضور پرنور رحمت عالم طبیب اعظمﷺ کے معمولات اور ارشادات عالیہ نقل کئے جاتے ہیں جن کے عمل کرنے پر جسمانی صحت و تندرستی کی ضمانت ہے۔
٭  مسواک:  انسان کو بہت سی بیماریوں سے محفوظ رکھتی ہے۔
٭  دودھ:  سیال غذائوں میں سب سے اچھا دودھ ہے۔ اگر کوئی تمہیں پینے کے لیے دودھ دے تو انکار مت کرو، کیوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے۔
٭  کھلے ہوئے پانی میں بیماری:  حضورﷺ کو ٹھنڈا اور شیریں پانی پسند تھا۔ ہدایت تھی کہ پانی کے برتنوں کو ڈھانپ دیا کرو اور مشکیزوں کے منھ بند رکھا کرواور فرمایا کہ کھلے ہوئے پانی میں بیماری اور بلائیں داخل ہوجاتی ہیں۔
٭ معدے سے برا کوئی ظرف نہیں: خدا نے معدے سے برا کوئی ظرف پیدا نہیں کیا ہے کبھی نہیں بھرتا اس لئے مناسب ہے کہ معدے کے تین حصے کئے جائیں۔ (۱)غذا کے لیے  (۲)پانی کے لیے  (۳)سانس کی آمد و رفت کے لئے۔
٭  پانی تین سانس میں پیو:  حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ حضورﷺ پینے کے دوران تین مرتبہ سانس لیتے تھے۔ اس طرح پینا خوب سیراب کرتا ہے اورصحت کے لئے مفید اور خوشگوار ہے۔
٭  پانی چوس کر پیو:  جب تم میں کوئی پانی پینا چاہتا ہے تو ہو چوس کر پئے جانوروں کی طرح پانی میں منھ ڈال کر نہ پئے کہ درد جگر کا سبب بنتا ہے۔
٭  پانی اور سانس:  پانی پیو تو سانس برتن میں نہ چھوڑا کرو، پانی ایک ہی سانس میں نہ پیو۔
٭  کھانے کے بعد فوراً مت سوئو:  کھانے کو ذکر اور نماز کے ذریعہ ہضم کرو۔ اور کھانے کے فوراً بعد سونا نہیں چاہئے کیوں کہ اس سے دل سخت ہوجاتا ہے۔
٭  مختلف کھانوں کو جمع کرنا نقصان دہ:  حضور سرکار مدینہﷺ نے دو مختلف قسم کی غذائوں کو کبھی جمع نہ فرماتے تھے۔ جیسے مچھلی اور دودھ کو جمع نہ فرماتے تھے۔ اور دودھ و کھٹائی (کھٹی چیز) جمع نہ فرماتے تھے۔ دو گرم اور دو ٹھنڈی غذائوں کو بھی ایک ساتھ استعمال نہ فرماتے تھے۔ جمع کرنے کا مطلب ہے کہ پیٹ میں ایک ساتھ جمع نہ فرماتے تھے۔ یعنی ایسا کبھی نہیں ہوا کہ آپ نے مچھلی کھائی ہو، اور بغیر ہضم ہوئے اس کے اوپر دودھ نوش فرمایا ہو۔ دودھ اور انڈا اور دودھ اور گوشت بھی ایک ساتھ تناول نہ فرماتے تھے۔ مقصد یہ ہوا کہ جب تک ایک چیز ہضم نہ ہوجائے اس پر دوسری مختلف غذا استعمال نہ فرماتے تھے۔
اسی طرح قابض اور سہل جلدی ہضم ہونے والی اور دیر سے ہضم ہونے والی اور گوشت پکا ہوا اور بھنا ہوا۔ باسی اور تازہ گوشت بھی ایک ساتھ تناول نہ فرماتے تھے۔ کیوں کہ دو مختلف چیزیں ہضم کرنے کے لئے معدے پر بہت بار پڑتا ہے۔
٭  ہرگز کھڑے ہوکر نہ پئیں:  تم میں سے کوئی شخص ہرگز کھڑے ہوکر نہ پئے اور جو بھول جائے اس کو چاہے کہ الٹی کردے۔
٭  کھانا کھاتے وقت جوتے اتارلو:  جب کھانا کھانے بیٹھو تو جوتے اتارلو، اس میں تمہارے پائوں کے لئے زیادہ راحت ہے اور بیشک یہ اچھی سنت ہے۔
٭  کھانے میں پھونک نہ مارو:  کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ دھولو! چاہے اس سے کچھ دیر پہلے ہی وضو کیا ہو، کھانے کے لئے ہاتھ دھونے کے بعد کپڑے سے مت پونچھو، گرم کھانے کو ٹھنڈا کرنے کے لئے مت پھونکو! پلیٹ میں اپنے سامنے کے حصے میں ہاتھ ڈالو! بیچ میں سے نہ کھائو۔
٭  اپنے گھروں کو پاک رکھو:  بلا شبہ اللہ تعالیٰ پاک ہے اور پاک کو پسند فرماتا ہے، اور ستھرائی رکھنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ کریم ہے اور کریم کو دوست رکھتا ہے۔ بخشش کرنے والا ہے، بخشش کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ پاک و صاف رکھا کرو، اپنے گھروں، صحنوں، دہلیزوں کو۔
٭  ریاضت سے بدن کو نہ تھکائو:  تم پر اہل و عیال اور بدن کا بھی حق ہے، ریاضت بدن کو اتنا نہ تھکائو کہ دل بیزار ہوجائے اور شاق گزرنے لگے۔
٭  کھانا اور پرہیز:  کھانا بیماری کا سب سے بڑا سبب ہے اور پرہیز تمام دوائوں کی ایک دوا۔
٭  کھانے میں احتیاط:  جو شخص پیٹ بھرنے سے پہلے ہاتھ روک لے اس کے بدن کا نظام عمدہ طور پر ہوتا ہے۔ اس کی صحت اچھی رہتی ہے۔ اور ذہب صحت مند رہتا ہے۔
٭  رات کا کھانا:  رات کا کھانا مت چھو ڑو، کچھ نہ ملے تو ایک مٹھی کھجور ہی کھالیا کرو، کیوں کہ رات کا کھانا چھوڑ دینے سے بڑھاپا جلد آتا ہے۔
٭  بد ہضمی اور تکبر:  تکیہ لگاکر اور کھڑے ہوکر اور سواری میں بیٹھ کر کھانے سے بدہضمی ہوجاتی ہے اور اس کے خلاف عمل سے کھانا ہضم ہوتا ہے اور تکبر بھی دور ہوجاتا ہے۔
٭  نمک میں ستر بیماریوں کا علاج:  کھانا نمک کے ساتھ شروع کرنا چاہئے اس لئے کہ ستّر امراض سے نمک میں شفا رکھی گئی ہے۔ اور ان میں کچھ یہ ہیں۔ ’’جنون، جذام، کوڑھ، پیٹ کا درد، دانت کا درد‘‘۔
٭  روزہ رکھو: تندرستی لو، روزہ رکھو: تندرست رہا کرو گے۔
٭  خودکشی:  جو شخص مٹی کھاتا ہے تو گویا وہ خودکشی کرتا ہے۔ مٹی نہ کھایا کرو، کیوں کہ اس میں تین بڑے بڑے نقصانات ہیں۔ (۱)ہمیشہ کی بیماری  (۲)پیٹ کی خرابی  (۳)بدن کا رنگ پیلا ہونا۔
٭  ناک، کان کے بال:  جو بال ناک اور کان کے اندر ہوتے ہیں وہ جذام سے امن کا باعث ہیں۔ ناک اور کان کے بال اندر سے مت اکھاڑو کیوں کہ اس سے مرض آکلہ (ناک میں زخم) پیدا ہوتا ہے۔ (البتہ زیادہ بڑھے ہوں تو) کاٹ دیا کرو۔
TOPPOPULARRECENT