Saturday , November 18 2017
Home / شہر کی خبریں / تنسیخ شدہ ایک ہزار کے 98.7 فیصد نوٹ آر بی آئی کو واپس

تنسیخ شدہ ایک ہزار کے 98.7 فیصد نوٹ آر بی آئی کو واپس

500 کے نوٹوں کی واپسی کا تناسب کم ۔ حکومت تفصیلات سے واقف ۔افشا کرنے تیار نہیں
حیدرآباد۔27اگسٹ(سیاست نیوز) کرنسی تنسیخ کے حکومت کے فیصلہ کے بعد ریزرو بینک آف انڈیا کو 1000 کے منسوخ کرنسی نوٹ جو بازار میں چلائے جا رہے تھے ان میں سے 98.7فیصد کرنسی نوٹ واپس حاصل ہو چکے ہیں اور صرف 1.3فیصد ایک ہزار کرنسی نوٹ واپس بینک کاری نظام میں واپس نہیں لائے جا سکے ۔ کرنسی تنسیخ کے فیصلہ سے حکومت کو حاصل کیا ہوا اس بات کا جائزہ لینے تمام اقدامات اب تک غیر کارکرد ثابت ہونے لگے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ جب 98.7فیصد کرنسی نوٹ واپس ریزرو بین کو وصول ہو چکے ہیں تو ایسی صورت میں یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ حکومت کا یہ اقدام کالے دھن کو باہر لانے کیا گیا یہ اقدام کارآمد ثابت ہوا ہے؟ ذرائع کے مطابق ہندستان میں کرنسی تنسیخ کے فیصلہ کے بعد پارلیمنٹ کو فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں 6.86لاکھ کروڑ کے ہزار کے نوٹ زیر گشت تھے اگر یہ تفصیلات درست ہیں تو اس اعتبار سے اب جو 1000 کے کرنسی نوٹ ریزرو بینک آف انڈیا کو موصول نہیں ہوئے ہیں ان کی جملہ مالیت صرف 8ہزار 925کروڑ ہے ۔ ریزرو بینک کے ذرائع کا کہنا ہے کہ 99 فیصد ہزار کے نوٹ آر بی آئی کو واپس موصول ہو چکے ہیں اور صرف ایک فیصد نوٹ واپس نہیں ہو پائے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ آر بی آئی ذرائع کی جانب سے حکومت کو یہ تفصیلات فراہم کی جا چکی ہیں لیکن اس کے باوجود بھی حکومت ان تفصیلات کو منظر عام پر لانے سے گریز کر رہی ہے کیونکہ اس طرح حکومت کے فیصلہ اور 8 نومبر کے بعد پیدا شدہ صورتحال کا دفاع کرنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ریزرو بینک 500کے کرنسی نوٹ کے متعلق تفصیلات کی فراہمی میں اب بھی قاصر ہے اور کہا جا رہا ہے کہ 500 کے کرنسی نوٹوں کے بازار میں آجانے سے صورتحال کا حقیقی معنی میں جائزہ نہیں لیا جا رہا ہے لیکن یہ کہا جا رہا ہے کہ جس رفتار سے 1000کے کرنسی نوٹوں کی آر بی آئی کو واپسی ہوئی ہے اس رفتار سے 500کے منسوخ شدہ کرنسی کی واپسی نہیں ہو پائی ہے۔ آر بی آئی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ بازار میں جس کرنسی کا چلن ہے اس کی تفصیلات یکجا کی ہوئی ہوتی ہے لیکن جو منسوخ کرنسی ہے اس کی مکمل تفصیلات جمع ہونے کے بعد اس کا انکشاف ممکن ہے۔ بتایا جاتاہے کہ مرکز کی جانب سے 8 نومبر 2016کو کرنسی تنسیخ کے فیصلہ کے فوری بعد جو صورتحال پیدا ہوئی تھی اس سے ہر شہری پریشانی کا شکار تھا اسکے باوجود حکومت نے کالے دھن اور بدعنوانیوں کے ذریعہ جمع کی گئی غیر محسوب رقومات کو باہر لانے کا اعلان کرکے حکومت کے موقف کا دفاع کیا تھا اور شہریوں کو خاموش کروایا گیا لیکن اب جب اعداد و شمار سامنے آنے لگے ہیں تو حکومت اس کے متعلق کچھ بھی کہنے سے قاصر ہے۔

TOPPOPULARRECENT