Saturday , November 25 2017
Home / آپ کے سوال / تنہا تراویح بآواز بلند پڑھے گا یا آہستہ

تنہا تراویح بآواز بلند پڑھے گا یا آہستہ

سوال :  اگر کسی کی تراویح کی نماز جماعت سے چھوٹ جائے تو اسے بآواز بلند یا آہستہ ادا کرے گا؟
محمد احمد، بابا نگر
جواب :  اگر کسی شخص کی جماعت چھوٹ گئی ، یا گھر ہی پر بلا جماعت تنہا پڑھ رہا ہے تو اسے اختیار ہے کہ بآواز بلند پڑھے یا آہستہ ، البتہ آواز سے پڑھنا بہتر ہے ۔ در مختار میں ہے : ’’ اگر امامت کا ارادہ ہے تو سورہ بآواز بلند پڑھے گا، امامت نہ کر رہا ہو تو فجر ، مغرب اور عشاء بحیثیت ادا و قضاء جمعہ ، عیدین ، تراویح اور اس کے بعد وتر میں جہری قراء ت نہیں کرے گا … تنہا نماز پڑھنے والے کو جہری نماز میں اختیار ہے کہ بآواز بلند پڑھے یا آہستہ ، البتہ بآواز بلند پڑھنا افضل ہے۔ رات میں تنہا نفل پڑھنے والے کی طرح کہ اسے جہری اور سری کے درمیان اختیار ہوتا ہے ‘‘۔

تراویح میں ختم قرآن پر دعاء
سوال :  لوگ تراویح میں ختم قرآن کے روز کثیر تعداد میں شرکت کرتے ہیں اور دعاؤں کا اہتمام کرتے ہیں۔ ان کا یہ عمل شرعاً کیسا ہے ؟
مسعود احمد ، مراد نگر
جواب : آج کل مروج ہے کہ لوگ تراویح میں ختم قرآن کے روز کثیر تعداد میں شرکت کرتے ہیں اور کافی الحاح و زاری اور اہتمام سے دعا کرتے ہیں، ایسا کرنا درست و مستحب ہے ، امام نووی تحریر فرماتے ہیں۔
’’و یستحب حضور مجلس الختم لمن یقرأ ولمن لا یحسن القراء ۃ ، فقد روینا فی الصحیحین: أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أمر الحیض بالخروج یوم العید لیشھدن الخیر و دعوۃ المسلمین‘‘۔ ’’ختم قرآن کی مجلس میں شرکت مستحب ہے ، خواہ قاری عمدہ پڑھتا ہو، یا عمدہ نہ پڑھتا ہو ، چنانچہ صحیحین کی روایت میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حائضہ عورتوں کو عید کے دن نکلنے کا حکم فرمایا: تاکہ وہ بھلائی اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوسکیں‘‘۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ ختم قرآن کی مجلس میں شرکت کا اہتمام کرتے تھے اور حضرت انسؓ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ ختم قرآن کے وقت اہل و عیال کو جمع کرتے پھر اجتماعی دعا فرماتے ۔’’ کان انسؓ اذا ختم القرآن جمع ولدہ و اھل بیتہ فدعا لھم‘‘معلوم ہوا کہ اس موقع پر دعا بھی زیادہ مقبول ہوتی ہے، اس لئے ہم لوگوں کو چاہئے کہ مختلف اہم امور کی دعا کریں اور جامع کلمات استعمال کریں ۔

فرض نماز کے ساتھ تسبیح فاطمی پڑھنا
سوال :  بعض افراد ظہر ، مغرب اور عشاء کی فرض نماز کے فوری بعد دو رکعت سنت ادا کرنے کے بجائے تسبیحات فاطمی کا ورد کرتے ہیںجبکہ احکامات کے مطابق جن نمازوں کے بعد سنت موکدہ ہے دعاء کو بھی مختصر کرناہے۔ اگر کوئی شخص ایسا کرے تو شرعاً کیا حکم ہے ؟
-2  باوضو شخص اگرحجامت بنوائے یا ناخن کٹوائے تو وضو باقی رہتا ہے یا پھر تازہ وضو کرنا ضروری ہے ؟
محمد ریاست، فرسٹ لانسر
جواب :   فرض نماز کے بعد دعاء ماثورہ ’’ اللھم انت السلام و منک السلام تبارکت یا ذلجلال والاکرام ‘‘ کی مقدار دعاء مانگنے تک ٹھہرنے کا حکم ہے ۔ اس کے بعد سنت کے لئے کھڑے ہوجانا چاہئے۔ فرض کے بعد جس قدر وظائف احادیث سے ثابت ہیں وہ سب سنت موکدہ کے ادا کرنے کے بعد پڑھنا چاہئے، سنت چونکہ فرض کے توابع سے ہے اس لئے فرض اور سنت کے درمیان دعاء مأثورہ سے  زیادہ توقف کرنا مکروہ ہے۔ کبیری شرح منیۃ المصلی کے ص : 331 میں ہے۔ فان کان بعد ھا ای بعدالمکتوبۃ تطوع یقوم الی التطوع بلا فصل الا مقدار ان یقول اللھم انت السلام و منک السلام تبارکت یا ذالجلال والاکرام و یکرہ تاخیر السنۃ عن حال اداء الفریضۃ با کثر من نحوذلک القدر اس صفحہ میں ہے : واما ما روی من الاحادیث فی الاذکار عقیب الصلوۃ فلا دلالۃ فیھا علی الاتیان بھا عقیب الفرض قبل السنۃ بل یحمل علی الاتیان بھا بعدالسنۃ۔
-2  اصلاح بنانا اور ناخن تراشنا نواقض وضو میں سے نہیں ہے۔ اس لئے اگر کوئی باوضو شخص اصلاح بنائے یا ناخن تراشے تو اس کا وضؤ نہیں ٹوٹتا۔ اس کو از سر نو وضو کرنے کی قطعاً ضرورت نہیں۔

اذان سے متصل نماز کی ترغیب دینا
سوال :   ہمارے موذن صاحب روزانہ فجر کی اذان کے ساتھ ہی چند منٹ بعد ان الفاظ کو دہراتے ہیں’’ نماز نیند سے بہتر ہے‘ نماز جنت کی کنجی ہے‘ پڑھ لو نماز اس سے قبل کہ تمہاری نماز پڑھائی جائے‘‘۔ اس پر کچھ لوگوں کا اعتراض ہے کہ اذان کے جو الفاظ ہیں وہ اول و آخر ہیں۔ اس کے ساتھ کسی اور الفاظ کو شامل نہیں کیا جاسکتا۔ اس پر موذن صاحب کا کہنا ہے کہ ان الفاظ سے جو لوگ گھروں میں سوئے ہوتے ہیں‘ ان کو یہ الفاظ جگاتے ہے اور وہ لوگ نیند سے بیدار ہوکر مسجد کی طرف آتے ہیں۔ کیا موذن صاحب کا یہ اقدام درست ہے ؟ کیا اذان کے ساتھ ان الفاظ کو پڑھنا جائز ہے ؟ کیا اذان کے بعد ان الفاظ کو پڑھنے سے اللہ اور اللہ کے رسولؐ کے بتائے ہوئے شرعی احکام کی خلاف ورزی تو نہیں ؟
محمد محسن قریشی، کالا پتھر
جواب :   اذان ختم ہونے کے پانچ دس منٹ بعد ‘ مسلمانوں کو نماز پڑھنے کی ترغیب کے لئے متنبہ کرنا نماز مغرب کے سوا دیگر نمازوں میں شرعاً درست ہے۔ اس میں ممانعت کی کوئی وجہ نہیں۔ موذن کا عمل ‘ اذان سے متصل نہ ہو تو اشتباہ بھی نہیں ہوسکتا۔

سحری کھائے بغیر روزہ کا حکم
سوال :  اگر کوئی سحری کھائے بغیر روزہ رکھے تو اس کا یہ عمل شرعاً کیسا ہے ؟
محمد مقصود ، بارکس
جواب :  سحری کرنا مستقل عبادت ہے ، ہمارے اور اہل کتاب یعنی یہود و نصاری کے روزے کے درمیان فرق کرنے والی چیز سحری ہی ہے کہ وہ سحری کھائے بغیر روزہ رہتے ہیں اور مسلمانوںکو سحری کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ سحری کرنے میں کئی اعتبار سے برکت بھی ہے اور ثواب بھی ، جس طرح دوسرے نیک کام کرنے پر اجر و ثواب ملتے ہیں۔ چنانچہ حضرت انس بن مالکؓ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مروی ہے: تسحروا فان فی السحور برکۃ۔ ’’ سحری کھایا کرو اس میں برکت ہوتی ہے‘‘(ثواب ملتا ہے )  حضرت عمر و بن عاصؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (فصل مابین صیامنا و صیام أھل الکتاب أکلۃ السحر)۔ ’’ہمارے اور اہل کتاب کے روزہ میں سحری کے لقمہ کا فرق ہے‘‘۔ سحری کھائے بغیر روزہ درست تو ہوجائے گا، البتہ سحری کی برکت اور اجر و ثواب سے محرومی ہوگی اور اگر کوئی جان بوجھ کر ایسا کرتاہے تو اہل کتاب کی مشابہت اختیار کرنے کی وجہ سے گناہ کا اندیشہ ہے۔

ترجمہ قرآن پڑھنے کا ثواب
سوال :  قرآن کے اردو ترجمہ کی کتاب پڑھنے سے ثواب یا نیکیاں ملتے ہیں یا نہیں ؟
سید مختار، ندیم کالونی
جواب :  قرآن مجید کا اردو ترجمہ پڑھنا موجب اجر و ثواب ہے کیونکہ وہ قرآن فہمی اور پیغام الٰہی کو سمجھنے میں ممد و معاون ہے ۔ تاہم جو اجر و ثواب قرآن مجید کی تلاوت کا ہے وہ اجر و ثواب ترجمہ پڑھنے سے حاصل نہیں ہوگا۔

بیرونی مائیک کا استعمال
سوال :  الحمدللہ ۔ اللہ رب العزت کا بے انتہا فضل و کرم ہے کہ قدیم شہر حیدرآباد میں خصوصاً اور پورے شہر و مضافات میں عموماً سینکڑوں نئی مساجد تعمیر ہوئی ہیں۔ سو دو سو قدم کے فاصلے سے بھی الحمد للہ مساجد ہیں۔ ہر مسجد میں اذان پنجوقتہ کے علاوہ اذان جمعہ اور قبل نماز جمعہ اردو میں بیان اور عربی میں خطبہ جمعہ اور پوری نماز قرات جہری و تکبیر انتقالات بھی مساجد کے باہر کے لاؤڈ اسپیکر پر ہی بڑی آواز سے ادا کی جاتی ہیں جبکہ قرأت کی سماعت اور تکبیر انتقالات کے سننے کے مکلف صرف مسجد میں موجود مقتدی ہی ہوتے ہیں نہ کہ پورا محلہ اور راہ گیر  بیان اور خطبہ قریب قریب کی کئی مساجد کے لاؤڈ اسپیکر کی آوازوں کے ٹکراؤ کی وجہ سے مساجد کے باہر نہ صاف سنائی دیتا ہے نہ سمجھ میں آتا ہے ۔ خطیب صاحبین ائمہ کرام اور حفاظ صاحبین بھی مسائل آداب تلاوت سے عوام سے زیادہ واقف ہوتے ہیں ۔ حکم تو یہ ہے کہ اگر مسجد میں کوئی نفل نماز بھی پڑھ رہا ہو تو تلاوت قران مجید دھیمی آواز سے کی جائے تاکہ نماز میں خلل نہ ہو۔ بڑی آواز سے بیان خطبہ اور قرات کی وجہ سے گھروں میں نماز پڑھنے والی خو اتین اور نوافل یا تلاوت یا ذ کر و اذکار کی ادائی میں بے حد خلل واقع ہوتا ہے ۔ یہ سلسلہ اذان اولیٰ سے لیکر دن کے تین بجے کے بعد تک جاری رہتا ہے کیونکہ قریب قریب کی مساجد میں وقت کے فاصلے سے نماز ادا کی جاتی ہے۔ نماز کے بعد سلام بھی لاؤڈ اسپیکر پر ہی پڑھا جاتا ہے جس میں بار بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم مبارک آتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سن کر درود نہ پڑھنے والا سخت گنہگار ہوتا ہے ۔ ایک اور قابل توجہ امر یہ ہے کہ محلہ کالا پتھر علی باغ کی کسی مسجد سے رات دو بجے سے چار بجے تک انتہائی بلند آواز میں بلا وقفہ نعتیں پڑھی جاتی ہیں۔ رات کے سناٹے کی وجہ سے آواز کافی دور تک جاتی ہے ۔ ایسے میں جو لوگ قبل سحر نماز تہجد پڑھنا چاہیں یا کاروباری مسلمان سحر کے وقت تک آرام کرنا چاہیں تو بڑا خلل واقع ہوتا ہے ۔ علاوہ ازیں حوائج ضروریہ کا مسئلہ بھی ہے کیونکہ حمام و بیت الخلاء میں بھی آواز صاف سنائی دیتی ہے۔ شرعاً کیا حکم ہے ؟
میر مخدوم علی، بہادر پورہ
جواب :  مسجد میں بوقت ضرورت آلۂ مبکر ا لصورت (لاؤڈ اسپیکر) کا استعمال مسجد میں موجود حاضرین کیلئے ہونا چاہئے اور حاضرین تک ہی محدود رہنا چاہئے ۔ بیرونی مائیک کو کھولنے کی ضرورت ہی نہیں ہے ۔ بیرونی اسپیکر کھول کر گھر اور بازار میں مصروف افراد کو سنانا ، قرآنی آیات کی تلاوت کرنا ، نعت شریف پڑھنا وعظ و بیان کرنا عظمت و حرمت کے خلاف ہے ۔ قرآن مجید کی تلاوت اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام مبارک کے وقت عوام کی بے التفاتی و بے توجہی کا وزر اور وبال بیرونی لاؤڈ اسپیکر کھولنے والوں پر رہے گا ۔ دین کے نام پر کسی فرد کو تکلیف دینے کی شرعاً اجازت نہیں جو خواہشمند ہوں گے وہ خود مسجد میں آکر سماعت کریں گے۔

امام سے پہلے مقتدی کا رکوع و سجود سے سر اٹھانا
سوال :  بعض وقت دیکھا جاتا ہے کہ لوگ اس قدر جلدی میں ہوتے ہیں کہ امام کے رکوع سے اٹھنے کا انتظار نہیں کرتے اور اس سے قبل اٹھ جاتے ہیں ۔ شرعی لحاظ سے اگر کوئی امام سے قبل رکوع اور سجدہ سے سر اٹھالے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ :
محمد کامران ، وجئے نگر کالونی
جواب :  مقتدی پر امام کی پیروی کرنا لازم ہے۔ اگر کوئی مقتدی امام سے قبل رکوع اور سجدہ سے ا پنا سراٹھالے تو فقہاء نے صراحت کی کہ اس کے لئے دوبارہ رکوع اور سجدہ میں چلے جانا مناسب ہے تاکہ امام کی اقتداء اور اتباع مکمل ہوسکے اور امام کی مخالفت لازم نہ آئے ۔ دوبارہ رکوع اور سجدہ میں جانے سے تکرار متصور نہیں ہوگی ۔ حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح ص : 171, 170 میں ہے : من الواجب متابعۃ المقتدی امامہ فی الارکان الفعلیۃ فلو رفع المقتدی رأسہ من الرکوع اوالسجود قبل الامام ینبغی لہ ان یعود لتزول المخالفۃ بالموافقۃ ولا یصیر ذلک تکرار!

TOPPOPULARRECENT