Thursday , December 14 2017
Home / Top Stories / توانائی کے شعبہ میں ایران قابل بھروسہ پارٹنر

توانائی کے شعبہ میں ایران قابل بھروسہ پارٹنر

سشما سوراج کو صدر حسن روحانی کی یقین دہانی، جواد ظریف اور دیگر سے ملاقات
تہران ۔17اپریل ( سیاست ڈاٹ کام )صدر ایران حسن روحانی نے وزیر امور خارجہ سشما سوراج کو یقین دہا نی کرائی کہ ہندوستان کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے معاملہ میں ایران قابل بھروسہ پارٹنر ہوسکتا ہے کیوں کہ دونوں ممالک کے مابین مختلف شعبوں بالخصوص تیل اور گیاس کے شعبوں میں باہمی روابط کافی وسعت اختیار کرگئے ہیں۔ سشما سوراج نے آج صدر ایران حسن روحانی اور ایرانی ہم منصب جواد ظریف کے علاوہ ایران کے رہنما سید علی خامنائی کے مشیر علی اکبر ولایتی سے ملاقات کی اور وسیع امور پر تبادلہ خیال کیا۔ آج کے اجلاس میں وزیر خارجہ سشما سوراج اور وزیر خارجہ ایران محمد جواد ظریف نے باہمی تعلقات کا تفصیل سے جائزہ لیا اور تبادلہ خیال کا مرکزی موضوع بحیثیت مجموعی تعلقات کو ایک نئی تحریک دینا تھا ۔ بات چیت کا مرکز توجہ ہندوستان کی برقی توانائی ‘ بندرگاہوں ‘ ایران میں رابطے وغیرہ میں دنیا کی بڑی معاشی طاقتوں سے سرمایہ کاری کا حصول تھا تاکہ جلد از جلد معاشی تحدیدات کے خاتمہ کے بعد ایران اپنے قدم جماسکے ۔ ایران کی معیشت تقریباً 400 ارب امریکی ڈالر مالیتی ہے اور مشرق وسطی میں سعودی عرب کے بعد سب سے بڑی معیشت ہے ۔ سمجھا جاتا ہے کہ ایران دنیا کا سب سے زیادہ پُرکشش سرمایہ کاری کا ملک ہے کیونکہ اس میں کئی شعبہ بشمول تیل اور گیس مشترکہ وینچرس اور غیر ملکی سرمایہ کاری کیلئے کھول دیئے ہیں ۔ چین ‘ جاپان ‘ امریکہ اور کئی یوروپی ممالک اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں ۔ ایران پر سے تحدیدات گذشتہ جنوری میں برخواست کی گئی ہیں ۔ ہندوستان برقی توانائی کے شعبہ میں ایران کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کرنا چاہتا ہے ۔ پہلے ہی 20ارب امریکی ڈالر مالیتی سرمایہ کاری تیل اور گیس کے علاوہ پٹرولیم کی مصنوعات اور کھادوں کے شعبوں میں کی جاچکی ہیں۔

ہندوستانی برادری کو تیقن
وزیر امور خارجہ سشما سوراج نے ہندوستانی برادری کو یقین دلایا کہ ان کے مسائل اور شکایات ایرانی حکام سے رجوع کئے جائیں گے۔ انہوں نے یہاں تہران میں گردوارہ کا دورہ کیا جو 1941ء میں تعمیر کیا گیا تھا۔ یہاں عوام سے خطاب کرتے ہوئے سشما سوراج نے کہا کہ ہندوستانی برادری کو درپیش مشکلات سے ایرانی حکام کو واقف کروایا جائیگا۔
ہندوستان ایران سے درآمدات میں اضافہ بھی کرنے سے گہری دلچسپی رکھتا ہے ۔ فی الحال تین لاکھ پچاس ہزار بیارل خام تیل روزآنہ برآمد کیا جارہا ہے ۔ حال ہی میں ایران نے خام تیل کی ہندوستان کو مفت بحری جہازوں کے سربراہی بند کردی ہے اور تین سالہ قدیم نظام ختم کردیا ہے ۔ تیل کے بقایا جات کا نصف روپیہ میں ادا کیا جائے گا اور باقی نصف کی ادائیگی کا مسئلہ سمجھا جاتا ہے کہ مذاکرات کا موضوع ہوگا ۔
ایران کا اصرار ہے کہ اُسے یوروس میں ادائیگی کی جائے ۔ وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ ایس آر آئیل اور منگلور ریفائنری کو جو پٹرولیم مصنوعات 6ارب 50کروڑ امریکی ڈالر مالیتی ماضی میں فراہم کی گئی ہیں ان کی بقایا جات کی ادائیگی بھی یورو میں ہی ہو ۔ ایران اپنی تیل کی پیداوار میں اضافہ اور اسے ماقابل تبدیل کی سطح تک لانے کا منصوبہ رکھتا ہے اور ہندوستان کیساتھ تیل کے شعبہ میں مشترکہ وینچرس بھی قائم کرنا چاہتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT