Tuesday , November 21 2017
Home / مذہبی صفحہ / توبہ کرنے والے بندوں کی مقبولیت

توبہ کرنے والے بندوں کی مقبولیت

انبیاء کرام علیہم السلام کے علاوہ دنیا میں کوئی انسان نہیں جس سے گناہ نہ ہوتا ہو۔ ہر شخص میں نیکی و طاعت کے ساتھ معصیت اور نافرمانی کا مادہ رکھا گیا ہے۔ انبیاء کرام اپنی امت کے لئے نمونہ اور آئیڈیل ہوتے ہیں، اس لئے انسان ہونے کے باوجود گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں، جو اللہ تعالیٰ کا خاص فضل و احسان ہے۔
نفس اور شیطانی فریب کا اثر تو ہر شخص پر ہوتا ہے، خواہ کم ہو یا زیادہ، اسی لئے قرآن و حدیث میں جگہ جگہ گناہوں سے پاک صاف ہونے کی تدبیریں اور طریقے بتائے گئے ہیں۔ اسلام نے گناہ کرنے والوں کو نہ ہی دھتکارا ہے اور نہ ہمیشہ کے لئے ملعون قرار دیا ہے، بلکہ گناہوں سے پاک صاف ہونے کے لئے توبہ کا راستہ بتایا ہے، تاکہ بندہ اس کے ذریعہ رحمتِ خداوندی حاصل کرسکے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ناپسندیدہ شخص وہ ہے، جو گناہ پر گناہ کرتا جائے اور اپنے رب کی گرفت اور آخرت کی ہولناکیوں کا اُسے ذرا بھی احساس نہ ہو۔ ایسے بندے دنیا میں بے برکتی کا شکار ہوتے ہیں اور آخرت ان کی تباہ ہو جاتی ہے، لیکن خوش نصیب ہیں وہ بندے جنھوں نے گناہ تو کئے، لیکن خوفِ خدا سے ان کے دل کانپ اُٹھے۔ گناہوں میں ڈوب کر بھی ایمان بیدار ہو اور بندہ سوچنے لگے کہ میں نے یہ گناہ کرکے خود کو ہلاک کرڈالا اور میرا مالک مجھ سے ناراض ہوگیا۔ اگر میں اسی حال میں دنیا سے چلا گیا تو قبر اور بعد کی منزلیں میرے لئے سخت دشوار ہوں گی۔ اس طرح کی فکر پیدا ہونے کے بعد خدا سے رجوع ہوکر اپنے گناہوں پر نادم ہو اور رو روکر اپنے مالک حقیقی سے گناہوں کی بخشش و مغفرت طلب کرے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ رحیم و کریم ہے، اسے اپنے بندوں کا گڑگڑانا بے حد پسند ہے، اس کے سارے گناہوں کو معاف کرکے اپنے محبوب بندوں میں شامل کرلیتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’بے شک اللہ کو پسند آتے ہیں توبہ کرنے والے اور پسند آتے ہیں گندگی سے بچنے والے‘‘۔ (سورۂ بقرہ) (مرسلہ)

Top Stories

TOPPOPULARRECENT