Wednesday , December 13 2017
Home / اداریہ / توجہ ہٹانے کی حکمت عملی

توجہ ہٹانے کی حکمت عملی

درد باقی ہے تو احساس بھی باقی ہے ابھی
میٹھی باتوں سے کہاں درد کا درماں ہوگا
توجہ ہٹانے کی حکمت عملی
گذشتہ دنوں اپوزیشن جماعتوں کو حکومت اور خاص طور پر بی جے پی صدر امیت شاہ کو نشانہ بنانے کا ایک اہم موقع دستیاب ہوا تھا جب نیوز پورٹل کی جانب سے انکشاف کیا گیا تھا کہ امیت شاہ کے فرزند جئے امیت شاہ کی کمپنی میں مبینہ طور پر منی لانڈرنگ ہوئی تھی ۔ یہ ایسا مسئلہ تھا جس سے بی جے پی کے سیاسی امکانات پر شدید اثرات مرتب ہوسکتے تھے ۔ شائد یہی وجہ تھی کہ ساری بی جے پی امیت شاہ کے دفاع میں اتر آئی تھی اور یہاں تک کہ خود حکومت نے امیت شاہ کے فرزند کی عدالت میں مدافعت اور پیروی کیلئے اعلی ترین سرکاری وکیل تک فراہم کرنے کا اعلان کردیا تھا ۔ سرکاری وکیل کے ذریعہ ہی امیت شاہ کے فرزند نے عدالت میںنیوز پورٹل اور اس کے بعض ذمہ داران کے خلاف مقدمہ بھی دائر کردیا تھا ۔ یہ کارروائی اتنی تیزی سے ہوئی کہ لوگ سوچتے رہ گئے ۔ تاہم ایک جانب اپوزیشن نے انہیں نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا تھا اور کرپشن سے پاک حکومت فراہم کرنے کے بی جے پی کے دعووں کی قلعی کھل گئی تھی ۔ عوام میں کرپشن کے خلاف بی جے پی کے دعووں پر سوال اٹھنے شروع ہوگئے تھے اور خود بی جے پی کو بھی محسوس ہونے لگا تھا کہ یہ مسئلہ اس کی پاک صاف امیج پیش کرنے کی کوششوں پر اثر انداز ہوسکتا ہے ۔ ایسے میں رابرٹ وارڈرا کا مسئلہ اٹھایا گیا ۔ انہیں بھی کرپشن کے الزامات کا سامنا ہے ۔ واڈرا کے خلاف الزامات کچھ بھی نئے نہیں ہیں۔ یہ الزامات اس وقت سے عائد کئے جا رہے ہیں جبکہ کانگریس اقتدار میں تھی ۔ کانگریس کے اقتدار سے محروم ہوجانے کے بعد بی جے پی کو ساڑھے تین سال کا وقت دستیاب ہوا تھا اور اب تک واڈرا کے خلاف مختلف تحقیقات ہوئیں ۔ کئی انکوائریز کروائی گئیں اس کے باوجود ایک بھی معاملہ میں حکومت واضح ثبوت کے ساتھ کوئی کارروائی نہیں کرسکی ہے ۔ اس حقیقت کے باوجود رابرٹ واڈرا کا مسئلہ اٹھایا گیا اور جئے امیت شاہ کے مسئلہ سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی گئی ۔ یہ کوشش حالانکہ اثر انداز رہی اور اس میں میڈیا نے اپنا رول بھی ادا کیا تاہم بی جے پی کو یہ ناکافی لگی اور اس نے اپنے ایک رکن اسمبلی کے ذریعہ تاج محل کا مسئلہ چھیڑ دیا ۔ تاج محل کے تعلق سے بکواس کی گئی اور نت نئے دعوے پیش کرنے کا عمل شروع ہوگیا ۔
تاج محل قومی اہمیت کی حامل تاریخی یادگار ہے اور اس کے تہذیبی ورثہ سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ۔ اس کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے ہی بی جے پی نے یہ مسئلہ اٹھایا اور اس کے در پردہ حلیفوں نے ضرورت سے زیادہ رد عمل ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی کو اس کے مقاصد میں کامیاب بنانے میں اہم رول ادا کیا ۔ بی جے پی تاج محل اور رابرٹ واڈرا کے مسائل کو عوام کے ذہنوں پر مسلط کرتے ہوئے جئے شاہ کے مسئلہ سے عوام کی توجہ ہٹانے میں کامیاب ہوگئی ۔ یہ اس کی حکمت عملی رہی ہے ۔ ابتداء ہی سے وہ اسی حکمت عملی پر عمل پیرا رہی ہے اور میڈیا اور سیاسی حلقوں میں اس کے حواری اس حکمت عملی کو کامیاب بنانے میں ہمیشہ بی جے پی کی مدد کرتے آئے ہیں۔ حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا ‘ جھوٹ کو بار بار دہراتے ہوئے سچ ثابت کرنے کی کوشش کرنا ‘ بالکل غیر متعلق مسائل کے ذریعہ اہم مسائل سے عوام کی توجہ مبذول کروانا بی جے پی کا وطیرہ رہا ہے ۔ اس کی ساری سیاست کا انحصار اسی طرح کے مسائل پر ہے اور وہ مسلسل اس میں کامیاب بھی ہوتی جا رہی ہے ۔ میڈیا میں خاص طور پر اس تعلق سے حکومت کی مدد کرنے اور اسے مشکل ترین صورتحال میں بھی نت نئے جواز پیش کرتے ہوئے بچانے کا رجحان چل پڑا ہے اور یہ رجحان حکومت کے اور جمہوری اصولوں کے مغائر ہے اور انہیں نقصان پہونچانے کا باعث بن رہا ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت کے حواری میڈیا اور خود حکومت کو اس کی کوئی فکر نہیں رہ گئی ہے اور وہ صرف اپنے اقتدار کو جاری رکھنے عوام کی توجہ کو اصل مسائل سے ہٹاکر انہیں گمراہ کرنے میں ہی مصروف ہے ۔
موجودہ صورتحال میں یہ اپوزیشن جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اصول پسند میڈیا گھرانوں کی حوصلہ افزائی کرے اور انہیںنشانہ بنانے حکومت کی کوششوں کے مقابلہ میں ڈھال فراہم کرے ۔ اس کے علاوہ خود پر ہونے والی تنقیدوں یا عائد ہونے والے الزامات کا جواب دینے ہی میں وقت ضائع کرنے کی بجائے حکومت اور برسر اقتدار پارٹی اور اس کے ڈھکے چھپے حواریوں کو بے نقاب کرنے پر توجہ مرکوز کرے ۔ جس طرح عوام کو درپیش مسائل اور ان سے کئے گئے وعدوں کو بڑے پیمانے پر بہار اسمبلی انتخابات میں پیش کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی گئی تھی اسی حکمت عملی کو قومی سطح پر اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ چاہے وہ کالا دھن واپس لانے کی بات ہو یا نوٹ بندی کے منفی اثرات ہوں ‘ جی ایس ٹی کی مشکلات ہو ں یا مہنگائی کی مار ہو ‘ پٹرولیم قیمتیں ہوں یا روزگار کی فراہمی کے وعدہ کی عدم تکمیل ہو ان سب کو منظم انداز میں عوام میں پیش کرنے کی ضرورت ہے ۔

 

TOPPOPULARRECENT