Thursday , November 15 2018
Home / Top Stories / تونس میں ایک ہفتہ طویل بے چینی کے بعد اصلاحات کا احیاء

تونس میں ایک ہفتہ طویل بے چینی کے بعد اصلاحات کا احیاء

غرباء کی مالی امداد میں اضافے اور بہتر حفظان صحت کا تیقن ‘ غریب علاقوں کا دورہ
تونس ۔14جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) حکومت تونس نے آج مستحقہ افراد کی امداد میں اضافہ کا اعلان کیا اور تیقن دیا کہ سماجی اصلاحات کے ایک حصہ کے طور پر حفظان صحت کی سہولت کو بہتر بنایا جائے گا ۔ قبل ازیں ایک ہفتہ تک تونس میں ملک گیر بے چینی پھیلی ہوئی تھی جس کا آغاز اخراجات میں تخفیف کے اقدامات کے ساتھ ہوا تھا ۔ وزیر برائے سماجی اُمور محمد طرابلسی نے کہا کہ مستحقہ خاندانوں کو 150دینار ماہانہ امداد دی جاتی تھی ‘ جسے اب 180 تا 210 دینار ماہانہ کردیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اصلاحات میں کئی ماہ تک جاری رہنے والا پائپ لائن کا کام بھی جاری ہے جس کے نتیجہ میں ہر گھرانے کو گیس اور ایندھن فراہم کیا جاسکے گا ۔ انہوں نے کہا کہ تمام تونسیوں کو حفظان صحت کی بہتر سہولتیں فراہم کی جائیں گی ‘ تاہم انہوں نے اس کی تفصیلات کا انکشاف نہیں کیا ۔ انہوں نے تیقن دیا کہ تمام غریب خاندانوں کو رہائش گاہ کی ضرورت بھی فراہم کی جائے گی ۔ ان کا یہ اعلان صدر بیجی قید اسیبسی سے تمام سیاسی پارٹیوں ‘ یونینوں اور آجرین سے مشاورت کے بعد کیا گیا ہے ۔ شمالی افریقہ کا ملک تونس احتجاجی مظاہروں ‘ غربت اور بیروزگاری کے مسئلہ کی وجہ سے دہل کر رہ گیا تھا ۔ احتجاجی مظاہروں کے دوران ہزاروں افراد نے احتجاجی مظاہروں میں حصہ لیا تھا ۔ ایک ترقی یافتہ قانونی پراجکٹ شروع کیا گیا ہے ۔ وزیر سماجی اُمور نے کہا کہ مشاورت کے آغاز میں غیر ملکی ذرائع ابلاغ میں حوصلہ شکنی کا رویہ اختیار کیا تھا جس کے نتیجہ میں سماجی بے چینی پیدا ہوئی اور ملک گیر سطح پر احتجاجی مظاہروں کی وجہ سے عالمی سطح پر اس کی شبیہہ مسخ ہوئی ۔ صدر تونس نے کہا کہ وہ تونس کے پڑوس میں واقع غریب عوام کے علاقوں کا دورہ کریں گے جہاں پر سڑکوں پر احتجاجی مظاہرے اب بھی جاری ہیں ۔ تونس کی معیشت سیاحت کے شعبہ میں انحطاط کی وجہ سے اپنی آمدنی سے جس کی مالیت 2 ارب 90 کروڑ امریکی ڈالر تھی محروم ہوگئی اور اسے 2ارب 40کروڑ یورو قرض حاصل کرنا پڑا ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT