Wednesday , July 18 2018
Home / Top Stories / توگاڑیہ 40 سال تک کہتے رہے کہ ’’ہندوتوا خطرہ میں ہے‘‘

توگاڑیہ 40 سال تک کہتے رہے کہ ’’ہندوتوا خطرہ میں ہے‘‘

لیکن اب وہ خود خطرہ میں ہیں، وجہ کیا ہے ؟ کانگریس لیڈر سنجے نروپم کے تیکھے سوال

ممبئی۔ 16 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) صدر ممبئی کانگریس سنجے نروپم نے آج وی ایچ پی لیڈر پروین توگاڑیہ کے اس الزام کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جس میں انہوں (توگاڑیہ) نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں قتل کردینے کی سازش کی گئی تھی۔ سنجے نروپم نے کہا کہ اگرچہ نظریاتی طور پر وہ پروین توگاڑیہ کے مخالف ہیں، تاہم انسانی بنیادوں پر وہ ان کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں۔ واضح رہے کہ پروین توگاڑیہ جو گزشتہ روز کچھ دیر کیلئے لاپتہ ہوگئے تھے، نے آج الزام لگایا کہ چند افراد ان کی آواز کو ہمیشہ کیلئے خاموش کردینے کی کوشش کررہے ہیں، اور وہ انہیں رام مندر، کسان اور گاؤ ذبیحہ جیسے موضوعات پر کچھ بولنے کی اجازت دینا نہیں چاہتے۔ 62 سالہ توگاڑیہ جو کافی مغموم نظر آرہے تھے، کہا کہ اس خدشہ کے تحت کہ پولیس انہیں انکاؤنٹر میں ہلاک کردے گی، وہ پولیس سے بچنے کی کوشش میں کچھ دیر کیلئے روپوش ہوگئے تھے۔ان کے الزام پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سنجے نروپم نے کہا کہ توگاڑیہ گزشتہ 30 ، 40 سال سے کہہ رہے ہیں کہ ہندوتوا خطرہ میں ہے اور یہ عجیب بات ہے کہ اب توگاڑیہ کہہ رہے ہیں کہ خود ان کی زندگی خطرہ میں ہیں۔آخر اس کی کیا وجہ ہوسکتی ہے کہ انہوں نے سوال کیا کہ ایک شخص جسے Z+ سکیورٹی حاصل ہے ، وہ 12 گھنٹوں تک لاپتہ ہوجاتا ہے اورپھر ایک پارک میں بے ہوشی کی حالت اچانک دستیاب ہوجاتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس بات کی تحقیقات کی جائے کہ کون ہے جو توگاڑیہ کو ہلاک کرنا چاہتا ہے۔ سابق رکن لوک سبھا نے اسے تشویش کا معاملہ قرار دیا۔ واضح رہے کہ پروین توگاڑیہ جو گزشتہ دنوں راجستھان پولیس کی جانب سے ایک 10 سالہ پرانے کیس کے سلسلے میں گرفتار کرنے کیلئے آنے پر غائب ہوگئے تھے ، تقریباً 12 گھنٹوں کے بعد ایک پارک میں بے ہوشی کی حالت میں پائے گئے جنہیں فوری طور پر دواخانہ میں شریک کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دواخانہ سے ڈسچارج ہونے کے بعد وہ اپنے آپ کو راجستھان کورٹ میں خودسپرد ہوجائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT