Friday , June 22 2018
Home / Top Stories / توہین اسلام پر ہالینڈ کی کمپنیوں کیخلاف سعودی کی پابندی

توہین اسلام پر ہالینڈ کی کمپنیوں کیخلاف سعودی کی پابندی

ریاض۔ 17 مئی (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب نے ولندیزی کمپنیوں کو آئندہ اپنے ہاں کے تعمیراتی اور ترقیاتی منصوبوں میں شریک کرنے پر پابندی عاید کر دی ہے۔ یہ فیصلہ ولندیز کی انتہا پسند جماعت کی اسلام اور سعودی عرب کے بارے میں جاری منفی مہم کو روکے نہ جانے کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ سعودی حکام کی طرف سے اعلی ترین سطح پر کیے گئے اس فیصلے سے سعودی عرب

ریاض۔ 17 مئی (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب نے ولندیزی کمپنیوں کو آئندہ اپنے ہاں کے تعمیراتی اور ترقیاتی منصوبوں میں شریک کرنے پر پابندی عاید کر دی ہے۔ یہ فیصلہ ولندیز کی انتہا پسند جماعت کی اسلام اور سعودی عرب کے بارے میں جاری منفی مہم کو روکے نہ جانے کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ سعودی حکام کی طرف سے اعلی ترین سطح پر کیے گئے اس فیصلے سے سعودی عرب کے ایوان ہائے صنعت و تجارت کی کونسل کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔ تاکہ سعودی کمنیاں، تاجر اور سرمایہ کار آئندہ اس فیصلے کی روشنی میں ولندیزی کمپنیوں کو شامل کر کے کوئی منصوبے شروع نہ کریں۔ اس پابندی کے بعد سعودی کمپنیاں ولندیزی کمپنیوں کے ساتھ بالواسطہ طور پر بھی کوئی منصوبہ شروع نہیں کر سکیں گی۔ سعودی حکومت نے متعلقہ حکام کو ولندیزی سرمایہ کاروں اور تاجروں کیلیے ویزوں کی تعداد اور ویزوں کی مدت کم کرنے کی بھی ہدایت کی ہے،

تاہم جاری منصوبوں سے متعلق ولندیزی سرمایہ کاروں کے آنے جانے پر کوئی قدغن نہیں ہو گی۔ سعودی عرب کے ایوان ہائے صنعت و تجارت سے متعلق ذرائع نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب نے دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی مقاصد کے لیے دوروں کو بھی روک دیا ہے۔ سعودی عرب کی طرف سے اس انتہائی فیصلے کی وجہ ہالینڈ میں سعودی سفیر کی طرف سے سعودی وزارت خارجہ کو بھیجا گیا ایک مراسلہ بنا ہے جس میں بتایا گیا ہے

کہ ہالینڈ کی انتہا پسند مذہبی جماعت کے رہنما گیرت وائلڈرز نے اسلام اور سعودی عرب کی توہین کی ہے۔ خیال رہے ہالینڈ کی پارلیمنٹ کے رکن اور انتہا پسند مسیحی سیاستدان گیرت وائلڈر نے سعودی قومی پرچم پر کلمہ طیبہ لکھے ہونے پر بھی اعتراض کیا تھا، نیز سعودی عرب پر دنیا بھر میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے حوالے سے الزام لگایا ہے۔ سعودی انڈین بزنس کونسل کے صدر عبدالرحمان الربیہ نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ”اسلام اور سعودی عرب کو بلاجواز ہدف بنانے والوں کو سعودی عرب میں خوش آمدید نہیں کہا جا سکتا ہے۔ ” عبدالرحمان الربیہ کا یہ بھی کہنا ہے ”غیر ملکی ذمہ دار اداروں کو ایسے واقعات کے مضمرات کا اندازہ ہونا چاہیے۔” سعودی ذرائع کے مطابق اس وقت دونوں ملکوں کے درمیان 25 اعشاریہ 3 ارب ڈالر کی سالانہ تجارت ہو رہی ہے۔ 2008 کے اختتام تک ہالینڈ کی کمپنیوں کی سعودی عرب میں 119 سرمایہ کاری منصوبوں کیلیے ساڑھے سات ارب ڈالر کی سرمایہ کاری تھی۔

TOPPOPULARRECENT