Tuesday , November 21 2017
Home / ہندوستان / توہین مذہب پر سزائے موت صادر کی جائے

توہین مذہب پر سزائے موت صادر کی جائے

جنرل سکریٹری جمیعتہ العلماء ہند مولانا محمود مدنی کا مطالبہ
میرٹھ ۔ 15 ۔ فروری (سیاست ڈاٹ کام) جمیعتہ العلماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے آج ان لوگوں کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا ہے جو کہ کسی شخص کے مذہبی جذبات مجروح یا مذہبی رہنما کی بے حرمتی کا ارتکاب کرتے ہیں۔ فیض عام کالج میں تنظیم کے زیر اہتمام منعقدہ ’’جلوس انصاف‘‘ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے یہ حیرت انگیز ریمار ک کیا اور کہا کہ تقسیم ملک کے بعد بھی یہ حب الوطنی کا جذبہ ہی تھا کہ ہم نے ہندوستان میں قیام کو ترجیح دی ، ورنہ کسی کے رحم و کرم پر رہنے کی کوئی مجبوری نہیں تھی ۔ مولانا مدنی نے حکومت اترپردیش سے یہ بھی مطالبہ کیا اکہ سال 2011 ء کے اسمبلی انتخابات کے دوران مسلمانوں کو 18 فیصد تحفظات کے وعدہ کی تکمیل کرے اور کہا کہ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اقلیتی کردارکو برقرار رکھاجائے ۔ جیلوں میں بند بے قصور مسلمانوں کو رہا کردیا جائے۔ مذکورہ کانفرنس میں شریک ہندو اور عیسائی رہنماؤں نے عوام کو مشورہ دیا کہ ذات  پات اور مذہب کے قطع نظر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے ساتھ زندگی گزاریں۔ اس موقع پر صدر جمیعتہ العلماء ہند مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ آگ سے آگ بجھائی نہیں جاسکتی جس کیلئے پانی کی ضرورت ہوتی ہے اور تمام مذاہب کے عوام کو ہم آہنگی کے ساتھ زندگی گزارنا چاہئے اور تخریب پسند عناصر سے ملک کا تحفظ کرنا چاہئے۔ آچاریہ پر مدو کرشنم نے کہا کہ اخلاق احمد (دادری واقعہ) کے قتل نہ تو ہندو دھرم کا وصف قرار دیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اے کے 47 سے بے قصور افراد کا خون بہانے والے کو مسلمان قرار دیا جاسکتا ہے۔جمیعتہ العلماء کے ایک اور لیڈر مولانا عثمان نے کہا کہ حق انصاف کا گلا گھوٹنے والوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے کی ضرورت ہے ۔ فادر منیش جانس نے کہا کہ وقت کا تقاضہ ہے کہ ہم سب محبت کے ساتھ زندگی گزاریں اور نفرت کا خاتمہ کردیں۔ آخر میں مذہبی پیشواؤں نے ذات پات اور مذہب کے بالاتر ہوکر انسانیت کی خدمت کرنے کا عہد کیا۔

TOPPOPULARRECENT