Saturday , November 18 2017
Home / پاکستان / توہین مذہب کے الزام پر طالبعلم کے قتل کا مقدمہ درج، آٹھ ملزمان گرفتار

توہین مذہب کے الزام پر طالبعلم کے قتل کا مقدمہ درج، آٹھ ملزمان گرفتار

اسلام آباد ۔ 14 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے شہر مردان میں پولیس کا کہنا ہے کہ عبدالولی خان یونیورسٹی میں مشتعل طلبا کے ہاتھوں توہین مذہب اور توہینِ رسالت کے الزام پر قتل ہونے والے طالب علم مشعل خان کی ہلاکت کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور نامزد ملزمان میں سے آٹھ کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔مردان میں پولیس کے ضلعی سربراہ ڈاکٹر میاں سعید احمد کے مطابق مشعل خان کی ہلاکت کا مقدمہ شیخ ملتون تھانے میں درج کیا گیا ہے اور اس میں قتلِ عمد کے علاوہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ سات بھی شامل کی گئی ہے۔عبدالولی خان یونیورسٹی کے شعبہ امتحانات کے سربراہ فیاض علی شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعرات کو ہی مشعل خان کے علاوہ دو اور طالبعلم، عبداللہ اور زبیر پر نظم و ضبط کی خلاف ورزی کے الزامات تھے جس کے لیے یونیورسٹی کی انتظامیہ نے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی اور تینوں طلبہ کو غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دیا تھا۔ فیاض علی شاہ نے کہا کہ کمیٹی کا اجلاس 18 اپریل کو ہونا تھا۔فیاض علی شاہ کے مطابق طالبعلم عبداللہ اس وقت پولیس کی نگرانی میں ہسپتال میں زیر علاج ہیں جبکہ طالبعلم زبیر کل سے لاپتہ ہے۔خیال رہے کہ یونیورسٹی کی جانب سے 13 اپریل کو جاری ہونے والے سرکاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ ’طالب علم مشعل خان، عبداللہ اور زبیر کی توہین مذہب سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔‘ڈی پی او کے مطابق مشعل خان کی ہلاکت کا مقدمے میں 20 ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے جن میں سے آٹھ کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ملزمان کی شناخت ویڈیوز کے ذریعے کی گئی اور بقیہ ملزمان کی گرفتاری کیلئے پولیس کی تین ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ادھر ہلاک ہونے والے طالبعلم مشعل خان کو جمعے کی صبح صوابی میں ان کے گاؤں زیدہ میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔صوابی سے ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ مشعل خان کے جنازے میں 400 سے 500 افراد شریک تھے۔

TOPPOPULARRECENT