Sunday , November 19 2017
Home / مضامین / تو دوست ہے تو نصیحت نہ کر خدا کیلئے

تو دوست ہے تو نصیحت نہ کر خدا کیلئے

 

محمد مصطفیٰ علی سروری
پنجاب کے شہر موہالی میں 25جولائی 2017ء سے ٹو وہیلر گاڑیاں کرایہ پر دی جانے لگی ہیں ۔ مشہور ٹیکسی سرویس دینے والی کمپنی UBER نے 100کے قریب بائیک ٹیکسی متعارف کروائی ۔ ان بائیک ٹیکسی چلانے والوں میں ایک 52برس کی بیوہ پرمجیت کور بھی شامل تھی ۔ اوبر کمپنی نے حکومت پنجاب کے تعاون سے اپنی گاڑی اپنا روزگار پروگرام کے تحت دو پہیوں کی گاڑیوں کو کرایہ پر دینے کا کام شروع کیا اور پرمجیت کور ایسا نہیں کہ حال ہی میں بیوہ ہوئی ہو اس کے تین بچے ہیں‘ بڑا لڑکا شادی شدہ ہے ۔دوسری ایک لڑکی ہے جس کی شادی شملہ میں ہوئی ہے اور ایک چھوٹا لڑکا ہے جو ابھی پڑھ رہا ہے ‘ اپنے تینوں بچوں کو پرمجیت نے خود محنت کر کے پرورش کا سامان کیاہے ۔ پرمجیت نے اپنی ضروریات کے لئے 10برس قبل ٹو وہیلر چلانا سیکھا تھا ‘ اب جب اوبر کمپنی نے ٹو وہیلر کرایہ پر دینے کا فیصلہ کیا تو پرمجیت نے بھی ایسی ہی کرایہ کی گاڑی چلانا شروع کیا ۔ حالانکہ پرمجیت کے پاس ایک کار بھی ہے جو Uber کمپنی میں کرایہ پر چلتی ہے مگر وہ کہتی ہیں کہ مجھے اب گھر پر کوئی خاص کام نہیں ہے اور میں ٹو وہیلر چلالوں تو آمدنی ہوجاتی ہے تو ایسے میںبرائی کیا ہے ۔
صرف پرمجیت جیسی بیوہ خواتین بھی ہی نہیں بلکہ ایسی عورتیں بھی جو اپنے شوہر کا ہاتھ بٹانا چاہتی ہیں اور چار پیسے کماکر شوہر کی مدد کرنا چاہتی ہیں ‘ وہ بھی Uberکی ایسی گاڑیاں کرایہ پر چلارہی ہیں ۔مدھو بالا کا شوہر خانگی ملازم ہے اور خود مدھو بالا ایل آئی سی کی ایجنٹ کا کام کرتی ہے ‘ اس کو گیارہ برس کا ایک لڑکا بھی ہے ‘ اپنی محنت کی کمائی میں اضافہ کی خاطر پنجاب کی یہ خاتون بھی Uberکی ٹو وہیلر کرایہ پر چلارہی ہیں ۔ وہ کہتی ہیں کہ ایسی سوچ غلط ہے کہ عورتیں صرف گھر کے کام ہی کرسکتی ہیں ۔ (بحوالہ ہندوستان ٹائمز 20جولائی 2017)
نارائن کھیڑ جے بی ایس سنگاریڈی روٹ پر ٹی ایس آر ٹی سی کا سفر کرنے والوں نے گذشتہ دنوں کے دوران دیکھا کہ بس کی ایک خاتون کنڈیکٹر نہ صرف مسافرین کو پیسے لیکر ٹکٹ کاٹ رہی ہے بلکہ اسے دوسرے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی بچی بھی سنبھال رکھی ہے ۔ ایک طرف وہ چھ مہینے کی چھوٹی بچی کو بھی سنبھال رہی ہیں تو دوسری طرف مسافرین کو باقاعدگی سے ٹکٹ بھی دے رہی ہیں ۔
انگریزی اخبار ’’تلنگانہ ٹوڈے ‘‘ میں شائع 17اگست 2017ء کی ایک خبر کے مطابق عالیہ اور رویندر نے پانچ سال قبل محبت کی شادی کرلی تھی جس سے ناراض ہوکر ان کے گھر والوں نے ان سے ناطہ توڑ لیا ‘ اب شادی کے بعد دونوں میاں بیوی محنت کر کے اپنے جینے کا سامان خود پیدا کررہے ہیں ۔ شوہر اسٹاف اسسٹنٹ کے طور پر کام کرتا ہے اور عالیہ بس میں کنڈیکٹر کا کام کرتی ہے ۔ عالیہ کو تین برس کا ایک لڑکا ہے جو آدھا دن اسکول جاتا جاتا ہے اور آدھا دن اپنے باپ کے ساتھ آفس میں گذارتا ہے اور عالیہ کی دوسری لڑکی کی پیدائش پر پہلے تو چھ مہینے وہ چھٹی پر تھی ‘ اب جب عالیہ کو چھٹی ختم ہونے پر دوبارہ ڈیوٹی پر جانا پڑرہا ہے تو اپنی چھ مہینے کی لڑکی کو بھی ساتھ لیکر جانا پڑرہا ہے ۔ عالیہ اپنے لئے اور اپنے شوہر کیلئے اور خاص کر اپنے بچوں کیلئے اتنی ساری محنت کرکے بڑی خوش دکھائی دے رہی ہے ۔ یہ تو وہ مثالیں ہیں کہ کس طرح سے گھر چلانے میں اپنے شوہروں کی مدد کرنے کے لئے ہندوستانی عورتیں محنت کر کے کامیابی حاصل کررہی ہیں ۔ بیوہ بھی ہوجائیں تو غیروں کے آگے ہاتھ پھیلانے کے بجائے اپنے بل پر محنت کے ذریعہ اپنی مدد آپ کا سامان کررہی ہیں ۔
حیدرآبادی خواتین کی سوچ ہی الگ ہے اگر وہ بچوں کی پرورش کیلئے اور اپنے شوہر اور گھر والوں کی مدد کیلئے کچھ کرنا چاہتی ہیں تو انہیں ایک ہی راستہ نظر آتا ہے کہ کسی باہر کے ملک کا رُخ کیا جائے اور نتیجہ کیا نکلتا ہے یا نکل رہا ہے وہ کسی سے چھپا بھی نہیں ۔ حضرت بی ایسی ایک خاتون ہے جس کا نکاح 19برس کی عمر میں ہوگیا تھا اور اس کے بعد ہی وہ مسلسل سسرال والوں کے مظالم کا نشانہ بنتی رہیں۔ تین لڑکیاں پیدا ہوئی ایک لڑکی کم عمری میں ہی انتقال کرگئی ۔ اس کے بعد شوہر کا بھی انتقال ہوگیا ۔ سسرال والوں نے گھر سے نکال دیا ‘ وہ ماں باپ کے پاس واپس چلی گئی ۔ بڑی لڑکی کی شادی کسی طرح کروائی مگر یہ عارضی راحت ثابت ہوئی، چند برسوں میں ہی بڑی لڑکی اپنے چھوٹے بچوں کو نانی کے بھروسے چھوڑ کر اس دنیا سے چلی گئی ۔ حضرت بی اب اپنے بچوں اور نواسوں کی پرورش کرنے لگی ۔ لوگوں کے گھروں میں کام کیا اور پھر کسی نے اس کو کپڑے سینے کے بارے میں بتایا ۔ حضرت بی نے کپڑوں کی سلوائی سیکھی اور آج اپنے پیروں پر خود کھڑی ہے ۔ 10اور عورتوں کے ساتھ مل کر حضرت بی نے کپڑوں کی سلوائی کا ایک کارخانہ چلانا شروع کیا ہے ۔ ابھی حالات سنبھلے بھی نہیں کہ حضرت بی کو کینسر کا عارضہ لاحق ہوگیا ۔ سال 2013ء کے بعد سے علاج چلتا رہا اور حضرت بی اب دوبارہ کام پر لوٹ آئی ہیں ۔ بہرام باڑہ ممبئی میں آج اس 43سالہ خاتون کا اسکول بیاگ سینے اور تیار کرنے کا ایک کارخانہ چل رہا ہے ۔ (بحوالہ Betterindia.com)
عورتیں چاہتی ہیں تو دنیا کا ہر کام ممکن ہوسکتا ہے ۔ 15اگست 2017ء کو تسنیم ذرا کی شادی مقرر تھی ‘ تسنیم نے اپنی شادی کے موقع پر اپنی دادی کی کاٹن کی ساڑی پہننے کا فیصلہ کیا اور تسنیم نے نہ تو میک اپ کیا اور نا ہی زیورات پہنے ۔ تسنیم کے اس فیصلے کو پہلے تو خود اس کے خاندان والوں نے آسانی سے قبول نہیں کیا لیکن تسنیم جب اپنے فیصلہ پر ڈٹی رہی تو بالآخر سب کو قبول ہی کرنا پڑا جو لوگ تسنیم کی شادی کو اتنی سادگی سے ہوتا ہوا دیکھ کر خوش نہیں تھے ‘ انہوں نے تسنیم کے ساتھ کوئی تصویر نہیں کھنچوائی ۔ تسنیم ایسا بھی نہیں کہ اپنی شادی کیلئے ایسا جوڑا ‘ زیورات اور میک اپ کا خرچہ برداشت نہیں کرسکتی تھی ‘ تسنیم کے حوالے سے اخبار ’’ ہندوستانی ٹائمز ‘‘ نے 17اگست 2017ء کو لکھا کہ دلہن کے اچھے کپڑے پہننے یا خوب زیورات لادنے سے اس کی معاشی پوزیشن اچھی نہیں ہوجاتی ‘ ہم کیوں دنیا کے دکھاوے کیلئے دلہنوں کو سجاتے سنوارتے ہیں ‘ ہمیں یہ اختیار خود لڑکیوں کو دے دینا چاہیئے کہ وہ اپنے لئے کس طرح کا خرچ پسند کرتی ہیں ۔ تسنیم نے سوال اٹھایا کہ کیا رنگ کو گورا کرنے والی لوشن سے ہی دلہن خوبصورت ہوجاتی ہے ‘ کیا لڑکی ایک مہنگا نکلس پہنے تو ہی دلہن کے طور پر قبول ہوگی ‘ کیا مہنگی ساڑی پہننے سے ہی شادی ہوگی ۔ میں نے تو اپنی دادی کی ساڑی شادی میں پہننے کا فیصلہ کیا ہے اور لوگوں کیلئے تویہ عام لباس ہے میرے یہ ایک بہت ہی خاص لباس ہے ۔ میرے دل و دماغ میں یہی بات ہے ‘ اب لوگ کیا کہتے ہیں ‘ مجھے اس سے غرض نہیں ۔ شادیوں کو سادگی سے انجام دینے کی کوئی بھی تحریک اس وقت تک کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکتی جب تک خود خواتین اور لڑکیاں اس ضمن میں آگے نہ آئیں ۔ شوہر کی پریشانیوں میں عورت ٹھان لے تو کمانے میں اس کا ہاتھ بٹاسکتی ہے ‘ مسائل کے باوجود اپنے بچوں کو آگے بڑھانے اور پڑھانے کا کام بھی عورت ہی بخوبی انجام دے سکتی ہے اور جب عورت ٹھان لے کہ اپنے گھروں میں اپنی بہوؤں کا وہ گھر کے کام کاج میں ہاتھ بٹائیں گی تو ہمارے گھر بھی جنت کا نمونہ بن سکتے ہیں ۔ کتنے افسوس اور تکلیف کی بات ہے کہ صحت مند اور چاق و چوبند رہنے کے باوجود ہمارے خاندانوں کی بزرگ خواتین چولھے اور گھر کے کام کاج میں اپنی بہوؤں کا ہاتھ بٹانے سے کتراتی ہیں ۔
آندھراپردیش کے ضلع کرشنا کے ایک گاؤں کی 106 سالہ ضعیف خاتون مستان اماں ہے جو اپنی عمر کے اس حصے میں بھی اپنے گھر کے سارے کام خود کرتی ہے ۔ جھاڑو برتن سے لیکر پکوان تک ۔ مستان اماں کا نام تو آج کل دنیا بھر میں مشہور ہوگیا ہے ۔ انٹرنیٹ خاص کر Youtube نے اس بزرگ خاتون کو ایک ہیرو کا درجہ دے دیا ہے ۔ اس ضعیف خاتون کی جانب سے پکوان کی مختلف ویڈیوز جب انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کئے گئے تو دنیا بھر میں کروڑوں لوگوں نے ان کو پسند کیا ‘ یہاں تک کہ بی بی سی جیسے عالمی نشریاتی ادارہ نے بھی مستان اماں کی اسٹوری نشر کی ۔
مستان اماں کو مقبولیت صرف اس کے پکوان کے سبب ملی ۔ اس خاتون کے پکوان کا ایک ایک ویڈیو تقریباً 10لاکھ لوگوں نے دیکھا ہے ۔ انٹرنیٹ کی دنیا سے واقف لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ 10لاکھ کی تعداد کتنی بڑی ہوتی ہے ۔ مستان اماں کے پکوان کے ایک ویڈیو کوایک گھنٹے میں کم سے کم دو ہزار لوگ دیکھنا پسند کرتے ہیں ۔ مستان اماں اپنے پکوان سے دنیا بھر کے دل جیت سکتی ہے اور کیا ہماری بزرگ خواتین اپنے ہی گھر میں اپنی بہوؤں کے ساتھ چولھے اور گھر کا کام کرتے ہوئے اپنے گھروں کے پکوان میں لذت اور گھر میں چین و سکون کے لئے اپنا گرانقدر رول نہیں نبھا سکتی ہیں ۔
اب میں زیادہ کیا کہوں‘ اگر آج ہمارے سماج کی خواتین عہد کرلیں تو کیا نہیں ہوسکتا ہے مگر خدا نیک توفیق دے ۔ ہمارے اکثر گھروں کا یہ عالم کہ ساس یا بزرگ خواتین چاہے کتنے ہی صحت مند ہوں چولھے میں یا گھر میں بہو کا ہاتھ بٹانا معیوب سمجھا جاتا ہے اور ہم نے ہٹلر کے زمانہ کو تو نہیں دیکھا مگر یہ ضرور سنا ہے کہ آج بھی بعض ساسیں ایسی ہیں جو چاہتی ہیں کہ بہو کو صبح سورج کے نکلنے سے لیکر سورج کے غروب ہونے تک ایک مشین کی طرح کام کرتی رہے ‘ پھر چاہے اتنی ہی یا اس سے کم یا زیادہ عمر کی نندیں گھر میں بیٹھ کر آرام کریں ‘ خدا نیک توفیق دے ہمارے ماؤں ‘ بہنوں اور خاص کر ہم مردوں کو جو اس طرح کی بے ایمانی اور بے اعتدالی پر خاموش بیٹھے رہتے ہیں ۔ کاش کے ہماری خواتین خود کہیں ۔
میرا ضمیر بہت ہے مجھے سزا کے لئے
دوست ہے تو نصیحت نہ کر خدا کے لئے
[email protected]

TOPPOPULARRECENT