Wednesday , September 26 2018
Home / ہندوستان / تپس پال کا بیان مغربی بنگال میں دہشت کے ماحول کا عکاس

تپس پال کا بیان مغربی بنگال میں دہشت کے ماحول کا عکاس

نئی دہلی 3 جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ تپس پال کی جانب سے خواتین کی عصمت ریزی کے تعلق سے کئے گئے ریمارکس کو مغربی بنگال میں دہشت گردی اور دھمکانے کی سیاست سے تعبیر کرتے ہوئے سی پی ایم نے کہا کہ وہ تپس پال کے خلاف کارروائی کیلئے پارلیمنٹ سے رجوع ہوگئی ۔ سینئر پارٹی لیڈر سیتا رام یچوری نے لوک سبھا کی اسپیکر سم

نئی دہلی 3 جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ تپس پال کی جانب سے خواتین کی عصمت ریزی کے تعلق سے کئے گئے ریمارکس کو مغربی بنگال میں دہشت گردی اور دھمکانے کی سیاست سے تعبیر کرتے ہوئے سی پی ایم نے کہا کہ وہ تپس پال کے خلاف کارروائی کیلئے پارلیمنٹ سے رجوع ہوگئی ۔ سینئر پارٹی لیڈر سیتا رام یچوری نے لوک سبھا کی اسپیکر سمترا مہارجن کو ایک مکتوب روانہ کیا ہے اور کہا کہ تپس پال نے جو ریمارکس کئے ہیں وہ واضح طور پر اخلاقی گراوٹ ہے جس کے نتیجہ میں ارکان پارلیمنٹ کا امیج متاثر ہوا ہے اور یہ پارلیمنٹ کے کسی رکن کیلئے ذیب نہ دینے والا طرز عمل ہے ۔ مسٹر یچوری نے خواتین اور اپوزیشن کے تعلق سے مسٹر تپس پال کے ریمارکس کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے مکتوب میں کہا کہ ایسے حالات میں مسٹر تپس پال کی جانب سے کئے جانے والے ریمارکس کو اخلاقیات سے متعلق کمیٹی سے رجوع کیا جانا چاہئے اور رکن موصوف کے خلاف مناسب کارروائی کی جانی چاہئے ۔ سی پی ایم کے ترجمان پیپلز ڈیموکریسی کے آئندہ شمارہ میں ایک علیحدہ اداریہ تحریر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک طرح سے مسٹر تپس پال نے جو کچھ بھی کہا ہے

وہ در اصل مغربی بنگال میں جو حالات درپیش ہیں ان کی عکاسی کیلئے کافی ہے ۔ انہوں نے تحریر کیا ہے کہ ترنمول کانگریس نے مغربی بنگال میں بہیمانہ تشدد اور دہشت کا دور شروع کردیا ہے اور وہ ریاست میں اپنے اقتدار کو مستحکم کرنے اور انتخابی تائید حاصل کرنے کیلئے یہی طریقہ کار اختیار کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں پارلیمنٹ کو ہی یہ فیصلہ کرنا چاہئے کہ ایسا افراد کو اس طرح کے بہیمانہ اور غیر قانونی ریمارکس کرتے ہیں انہیں قانون سازی کے عمل کا حصہ برقرار رکھنا چاہئے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یقینی طور پر یہ درست نہیں ہے کہ جو لوگ خود قانون کی خلاف ورزیاں کریں وہی پوری مراعات کے ساتھ ملک کے قانون ساز کی حیثیت میں بیٹھے رہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2011 کے اسمبلی انتخابات کے بعد سے گذشتہ مہینے تک سی پی ایم کے 157 کارکنوں اور قائدین کا قتل کردیا گیا ہے ۔ صرف حالیہ لوک سبھا انتخابات کے دوران ہی 12 ورکرس کو ہلاک کیا گیا ہے اور 8,785 کارکن حملوں کے واقعات میں شدید زخمی ہوئے ہیں۔ یہ سب کچھ خوف کی سیاست پر مبنی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT