Monday , November 20 2017
Home / مذہبی صفحہ / تکبر و غرور کی گمراہیاں

تکبر و غرور کی گمراہیاں

تکبر و غرور کی گمراہیاں اور تباہ کاریاں انسانی زندگی کے آغاز حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے سے ہی موجود رہی ہیں۔دنیا میں صرف مذہب اسلام ہی واحد مذہب ہے جو اس گناہِ عظیم سے بچنے کا راستہ بتاتا ہے،اور وہ راستہ ، اللہ کی فرماں برداری کا راستہ ہے۔آج کل دنیا میں جو فسادات برپا ہورہے ہیں تکبر اور بے جا احساس برتری اس کی خاص وجہ ہے ، اسلامی تعلیمات کی طرف واپسی و عمل ہی اس کا واحد علاج ہے ۔تکبر میں مبتلا شخص اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت و انعام کو اپنا ذاتی کمال و وصف (خوبی) سمجھنے لگتا ہے ۔ قرآن کریم میں ابلیس کا قصہ بار بار ذکر ہوا ہے ،اسے اللہ تعالیٰ نے آگ سے پیدا کیا ،ظاہر ہے اس میں اس کا کوئی ذاتی کمال نہ تھا ،لیکن اس نے اسی کو وجہہ افتخار (گھمنڈ) بنالیا جس سے مغلوب ہو کر اللہ کے حکم سے سرتابی (سرکشی ، نا فرمانی) کر بیٹھا اور بندگی کے حق کو ادا نہ کر سکا، گھمنڈی لوگ اپنی خواہشات کو اپنا آلہ بنالیتے ہیں ،اللہ کا حکم جہاں اپنی مرضی کا ہوتا ہے اسے مان لیتے ہیں اور اس کی پیروی کرتے ہیں ،لیکن جہاں ان کی مرضی کے خلاف ہوتا ہے وہاں یہ لوگ یا تو محض اپنی خواہشات کے بندے بن جا تے ہیںاور اللہ کے حکم کے خلاف کرتے ہیں جو آخرت سے غفلت تکبر و غرور و گھمنڈ پیدا ہونے کی ایک خاص وجہہ ہے۔اللہ رب العزت فرماتا ہے : ’’بے شک اللہ کو کوئی تکبر کرنے والا پسند نہیں اور کسی سے بات کرنے میں اپنا چہرہ کج نہ کر (گال نہ پھلا گردن نہ ٹیڑھی کر)اور زمین مین اتراتا نہ چل بے شک اللہ کو کوئی تکبر کرنے والا پسند نہیں ‘‘۔ اندرونی عظمت پر اکڑنا فخر وغرور ہے ،جیسے (۱) علم (۲) حسن (۳) خوش آوازی (۴) حسب و نسب (۵) وعظ کہنا ۔ بیرونی عظمت پر اکڑنا اختال ہے (حد غرور) جیسے مال جائیداد لشکر نوکر چاکر وغیرہ ،نہ ذاتی کمال پر اترانا ،نہ بیرونی فضائل پر اترانا کیونکہ یہ چیزیں تیری اپنی نہیں ہیں رب کی جانب سے ہیں ،جب چاہے لے لے، اس لئے تکبر نہ کر اور لوگوں کو حقیر نہ سمجھ۔

TOPPOPULARRECENT