Monday , November 20 2017
Home / Top Stories / تھائی لینڈ میں نئے دستور پر استصواب عامہ کا آغاز

تھائی لینڈ میں نئے دستور پر استصواب عامہ کا آغاز

جمہوریت کی تحلیل کا اندیشہ ‘ تھائی لینڈ میں فوج کے اقتدار پر گرفت مضبوط کرنے کا حقوق تنظیم کا خدشہ
بینکاک ۔7اگست ( سیاست ڈاٹ کام ) تھائی لینڈ کے شہریوں نے آج فوج کی حمایت یافتہ دستور پر استصواب عامہ میں حصہ لیا جس کے نتیجہ میں آئندہ سال عام انتخابات کی راہ ہموار ہوسکتی ہے ۔ جب کہ اقتدار پر فوج کی گرفت مزید مستحکم ہونے کے اور جمہوریت کی تحلیل کے اندیشے بھی ظاہر کئے جارہے ہیں ۔ تقریباً پانچ کروڑ رائے دہندے سوال کا ’’ ہاں یا نہیں ‘‘ میں جواب دیں گے ۔ ان سے سوال کیا گیا ہے کہ کیا وہ دستور کے مسودہ کو قبول کرتے ہیں ‘ ضمنی سوال یہ بھی ہے کہ کیا وہ سینٹ کے قیام کی منظوری دیتے ہیں اور ایوان زیریں کو وزیراعظم کے انتخاب کی اجازت دیتے ہیں ۔ اگر رائے دہندوں کی اکثریت ہاں میںجواب دیں تو دستور کے مسودہ کو منظور کرلیا جائے گا جس سے فوجی حکومت کا جواز حاصل ہوجائے گا ‘ جب کہ وزیراعظم تریوت چاند اوچا جو 2014ء کی بغاوت کی قیادت کررہے تھے آئندہ سال انتخابات کے انعقاد کا تیقن دے چکے ہیں ۔ استصواب عامہ کے نتائج کا اعلان رائے دہی ختم ہونے کے فوری بعد کردیا جائے گا ۔ وزیراعظم تریوت اور دیگر اہم سرکاری عہدیدار ایک یا دو دن میں برسرعام اعلان کردیں گے کہ وہ آج کے استصواب کی تائید کرتے ہیں یا نہیں ۔ فوجی جنتا نے 2014 ء کی فوجی بغاوت کے بعد اقتدار سنبھالا ہے اور دستور دوبارہ تحریر کیا گیا ہے

 

تاکہ ملک میں صاف ستھری سیاست کو یقینی بنایا جاسکے ۔ امکان ہے کہ تھائی لینڈ کی سیاست میں ایک یا دو دن بعد یوم حساب مقرر ہوگا ۔ نہ صرف نئے مسودہ دستور کے حشر کا تعین ہوجائے گا بلکہ استصواب عامہ کے نتیجہ کی نمایاں اہمیت اس لئے بھی ہے کہ فوج نے قومی کونسل برائے امن و نظم و ضبط قائم کی ہے جس میں مختلف سیاسی پارٹیوں کے قائدین کو شامل کیا گیا ہو ‘ اگر دستور منظور نہ ہوسکے تو نتیجہ کیا نکلے گا یہ ہنوز غیر یقینی ہے ۔ ممکن ہے کہ فوجی حکومت اقتدار پر قابض رہے گی ۔ جس انداز میں فوجی عہدیداروں نے استصواب عامہ کروایا ہے اس پر بڑے پیمانے پر انسانی حقوق گروپس کی جانب سے تنقید کی گئی ہے کیونکہ انتخابی مہم چلانے پر امتناع عائد کردیا گیا تھا ‘ جس کی وجہ سے کئی افراد کو حراست میںلیکر ان پر مقدمہ دائر کئے گئے ۔ دستور کے مسودہ کے بارے میں عوام کی معلومات محدود ہیں ۔ اگر یہ مسودہ منظور ہوجائے تو فوجی حکومت نے آئندہ سال کے اواخر میں انتخابات منعقد کرنے اور جمہوری حکومت بحال کرنے کا تیقن دیا ہے لیکن ناقدین کی دلیل ہے کہ دستور کا مسودہ منظور کیا جائے تو اقتدار پر فوج کی گرفت مزید مضبوط ہوجائے گی۔

TOPPOPULARRECENT