Monday , May 21 2018
Home / مضامین / تھوڑا وکاس ، باقی نراش

تھوڑا وکاس ، باقی نراش

مذہبی سبسیڈی پر دوہرا طرز عمل
حج سبسیڈی ختم، کمبھ میلہ کیلئے دوگنی رقم

محمدنعیم وجاہت
چائے پر چرچا، سب کا ساتھ سب کا وکاس، ہر ہر مودی گھر گھر مودی، جیسے نعروں نے نریندر مودی کو 2014 میں اقتدار تو دلادیا لیکن تین سال بعد یہ نعرے تبدیل ہونے کی سمت تیزی سے رواں ہیں۔ بی جے پی نے چائے پر کی گئی چرچا کو ترقی دلاتے ہوئے پکوڑوں تک پہنچادیا ہے۔ اپنی محنت اور سود پر قرض حاصل کرتے ہوئے گلی کے نکڑ پر پکوڑوں کی ٹھیلہ بنڈی لگانے کو بھی مودی ۔ شاہ این ڈی اے کا کارنامہ قرار دیتے ہوئے روزگار فراہم کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے ملک میں ایک نئی بحث چھیڑدی ہے۔ اس طرح ’’ گھر گھر مودی ‘‘ کا نعرہ ’’ بائے بائے مودی‘‘ بننے لگا ہے۔ 2014 عام انتخابات کی مہم میں ’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ کے نعرہ نے ہندوستانیوں کی توقعات میں زبردست اضافہ کردیا تھا۔ نوجوان طبقہ یہ تصور کررہا تھا کہ حکومت کی تبدیلی سے زندگیوں میں انقلابی ترقی اور ملک میں خوشحالی آئے گی لیکن یہ نعرہ بھی مخصوص مذہب کے ماننے والوں تک محدود رہا اور دیگر طبقات کیلئے مایوسی کا سبب ثابت ہورہا ہے۔ حکومت ہند نے حج سبسیڈی برخواست کرتے ہوئے ملک کے عوام کو یہ پیغام دیا کہ وہ دولتمند افراد کو سبسیڈی دینے کے بجائے غریب مسلم لڑکیوں کو اعلیٰ تعلیم سے آراستہ کرنے کیلئے برخواست کردہ حج سبسیڈی استعمال کریں گے۔ لیکن بڑے ہی افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ بجٹ کے دوران ایسا کوئی اقدام نظر نہیں آیا۔ 35 کروڑ اقلیتوں کیلئے ملک کے 24 لاکھ کروڑ کے مجموعی بجٹ میں اقلیتی بجٹ میں صرف 505 کروڑ کا اضافہ کرتے ہوئے اقلیتوں کو مایوس کردیا۔ مرکزی حکومت نے 700 کروڑ روپئے کی حج سبسیڈی برخواست کرتے ہوئے اپنے فیصلے کی مدافعت کی اور کہاکہ سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل کیا جارہا ہے۔ دوسری جانب اُتر پردیش کی یوگی حکومت نے بجٹ میں کمبھ میلہ کیلئے 1500 کروڑ روپئے مختص کرتے ہوئے یہ ثابت کردیا ہے کہ وکاس صرف مخصوص طبقہ تک محدود ہے۔ ان فیصلوں سے واضح ہوگیا کہ تھوڑا وکاس باقی نراش حکومت کی درپردہ پالیسی کا حصہ ہے۔ مذہبی سبسیڈی کا معاملہ آتا ہے تو سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک ہونا چاہیئے۔ حج سبسیڈی کی برخواستگی کیلئے سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیا گیا مگر کمبھ میلہ کیلئے دوگنی رقم مختص کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے فیصلہ کو یکسر نظرانداز کردیا گیا۔

ماہرین نفسیات کی تحقیق میں کئی چونکا دینے والے انکشافات ہوئے ہیں۔ جن لوگوں پر شہرت کا جنون سوار ہوتا ہے وہ کسی بھی طرح سے خود کو مشہور بنانے کیلئے سب کچھ کرجاتے ہیںاس کے نتائج سے انہیں کوئی پرواہ ہی نہیں رہتی چاہے وہ مثبت ہو کہ منفی ، اپنے مقصد کو حاصل کرنے میں وہ مگن رہتے ہیں۔ لیکن چائے۔ پکوڑے، گھر۔ باہر، وکاس اور نہ کھاؤں گا نہ کھانے دوں گا ، جیسے اعلانات کرنے والے وزیر اعظم کس حد تک خود ستائی کا شکار ہیں اس کا اندازہ 10 لاکھ کے سوٹ نے کروادیا تھا لیکن اس کے باوجود شہرت کی بھوک نے انہیں وہیں رکھا جہاں سے ان کی سوچ شروع ہوتی ہے۔ کہا یہ جارہا ہے کہ نریندر مودی نے ہندوستان کی تاریخ میں اپنا نام درج کروانے کیلئے راتوں رات نوٹ بندی کا اعلان کرتے ہوئے ہندوستان کے 130 کروڑ عوام کی نیندیں اُڑادی۔ نوٹ بندی کے دیڑھ سال مکمل ہونے کے باوجود بینکوں اور اے ٹی ایم میں نوٹ نہیں ہیں۔ مودی کے اس فیصلے سے کئی افراد کی موت واقع ہوگئی۔ کئی غریب لڑکیوں کی شادیاں رُک گئیں، لاکھوں افراد روزگار سے محروم ہوگئے۔ مودی نے ملک کے عوام سے صرف چندماہ کی مہلت طلب کی تھی اور حالات سازگار نہ ہونے پر بیچ سڑک پر پھانسی پر چڑھادینے کا چیلنج دیا تھا لیکن حالات توجوں کے توں ہیں ان کے دیئے ہوئے چیلنج کی طرح۔

ملک کی جن ریاستوں میں انتخابات ہورہے ہیں وہاں بی جے پی کو اقتدار حاصل ہورہا ہے جس کے باعث یہ فیصلہ کرنے میں دشواری ہورہی ہے کہ عوام بی جے پی سے خوش ہیں یا سب کچھ بھول کر مذہبی جذبات کا شکار ہورہے ہیں۔ ہر ہر مودی کے نعرہ کو نہ جانے کتنے لوگوں نے سنجیدہ طور پر لیا ہے یا نہیں پتہ نہیں لیکن مودی نام رکھنے نے اس نام کو اتنا سنجیدہ لے لیا کہ وہ ہندوستان میں گھرگھر مودی کے بجائے دنیا بھر میں ملک ملک مودی مہم چلانے لگے ہیں خواہ بھگوڑے ہی کیو ں نہ قراردیئے گئے ہوں۔ مثال کے طور پر للت مودی اور نیروو مودی کے نام اخبارات میں شائع ہوتے ہی دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ کا ذہن نریندر مودی کی جانب متوجہ ہوگیا کیونکہ مودی نے شہرت کی خاطر صرف نوٹ بندی نہیں کی بلکہ دنیا کے بیشتر ممالک کا دورہ کرتے ہوئے اپنے نام کی چھاپ چھوڑی ہے۔
دہلی میں قتل کئے گئے انکت ڈکشت کے تعلق سے بتایا جاتاہے کہ وہ اسٹار بننے کا خواہشمند تھا اور دنیا میں شہرت حاصل کرنا چاہتا تھا ۔ انکت نے تو جان دے کر نام حاصل کرلیا لیکن ایک ایسا شخص مقتدر بن بیٹھا ہے جو 2002 میں کئی جانیں لیکر دنیا بھر میں مشہور ہوا ہے۔ تبدیلی کا نعرہ دینے والے وزیر اعظم نے کانگریسیوں پر کالا دھن بیرونی ممالک میں چھپانے کا الزام عائد کیا تھا اور بی جے پی کو اقتدار حاصل ہوتے ہی سارا کالا دھن ہندوستان کو واپس لاتے ہوئے ہر شہری کے بینک اکاؤنٹ میں فی کس 15 لاکھ روپئے جمع کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ بی جے پی کو ووٹ دینے والے عوام گزشتہ 4 سال سے بار بار اپنے بینک اکاؤنٹ چیک کررہے ہیں مگر انہیں نہ صرف مایوسی ہوئی بلکہ ان کی اپنی جمع پونجی کو بھی نوٹ بندی کے ذریعہ بینکوں تک پہنچاتے ہوئے انہیں کنگال بنادیا گیا ۔
جی ایس ٹی کے ذریعہ نئے نئے ٹیکس عائد کرتے ہوئے عوام سے سانس لینے تک کا ٹیکس وصول کیا جارہا ہے۔ یہ بات عام کردی گئی تھی کہ کانگریس کے دور حکومت میں بیرونی ممالک کے بینکوں میں کالا دھن جمع کرانے کی کھلی چھوٹ دی گئی تھی لیکن نریندر مودی حکومت کے دور میں اب یہ دیکھا جارہا ہے کہ کالا دھن بیرونی ممالک میں نہیں رکھایا جارہا ہے بلکہ لٹیرے ہندوستان کو لوٹ کر بیرونی ممالک میں پناہ لے رہے ہیں، اس فہرست میں پہلے للت مودی شامل ہوئے پھر وجئے مالیا اور اب نیرو مودی شامل ہوئے ہیں۔ پنجاب نیشنل بینک میں 11,500 کروڑ کی دھاندلی اور اس میں نیرو مودی کے ملوث ہونے کی اطلاع کے بعد اس بات سے پردہ اُٹھنے لگا ہے کہ کیوں ہندوستانی معصوم شہریوں کی دولت کو بینکوں میں جمع کرانے کیلئے مجبور کیا گیا۔ پنجاب نیشنل بینک کا اسکام ملک کے بڑے اسکامس میں شمار ہوتا ہے۔ بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے حکومت میں نریندر مودی سے بغلگیر ہونا، ملک کو لوٹ لینا اور بیرونی ممالک کو بھاگ جانا آسان ہوگیا ہے۔

وکاس کے نام پر اقتدار حاصل کرنے والی بی جے پی نے 4 سال کے دوران ہر سال ایک کروڑ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کا وعدہ پورا نہیں بلکہ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے ذریعہ روزگار سے وابستہ افراد کو بیروزگار کردیا۔ حج سبسیڈی کی برخواستگی کے بعد کمبھ میلہ کیلئے بجٹ میں 1500 کروڑ روپئے مختص کردیئے گئے ۔ دوسری طرف ناگالینڈ میں اسمبلی انتخابات کے پیش نظر عیسائی طبقہ کو یروشلم مفت روانہ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ بی جے پی کی پالیسی ملک بھر میں یکساں ہونی چاہیئے مگر وہ ہر ریاست کیلئے علحدہ پالیسی اختیار کرتے ہوئے پھوٹ ڈالو اور راج کرو کی پالیسی پر عمل آوری کررہی ہے۔مثال کے طور پر مہاراشٹرا میں گاؤ کشی پر امتناع ہے جہاں بی جے پی کی حکومت ہے۔ دوسری طرف گوا میں بھی بی جے پی کی حکومت ہے اور وہاں بھی گائے کے گوشت پر کوئی پابندی نہیں ہے۔گائے کے نام پر سارے ملک میں گاؤ رکھشکوں نے 28 مسلمانوں کو ہلاک کردیا لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی تک نہیں کی گئی۔
ملک کے قانون کا احترام کرنے والوں میں مسلمان سب سے آگے ہیں۔ مسلمانوں کی شریعت میں مداخلت ہوئی اور سپریم کورٹ نے طلاق ثلاثہ پر 6 ماہ تک امتناع عائد کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو نئی قانون سازی کرنے کا مشورہ دیا۔ مرکزی حکومت نے علماء و مشائخین اور مسلمانوں سے مشاورت کے بغیر طلاق کے بارے میں علم نہ رکھنے والوں پر کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے اس کو لوک سبھا میں منظور کروالیا لیکن راجیہ سبھا میں یہ بل رُکا ہوا ہے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلہ پر مسلمانوں نے سڑکوں پر کوئی احتجاج نہیں کیا اور نہ ہی اپنی برہمی کا اظہار کیا۔ دوسری طرف فلم ’’ پدماوت‘‘ پر اکثریتی طبقہ کے عوام نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا کوئی احترام نہیں کیا اور ملک کے مختلف مقامات پر پُرتشدد احتجاج کیا گیا۔
بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں نے سپریم کورٹ سے رجوع ہوکر ہندوؤں کے جذبات کا احترام کرنے کی اپیل کی لیکن طلاق ثلاثہ کے مسئلہ پر مسلمانوں کے جذبات کا کوئی احترام نہیں کیا گیا بلکہ یہ کہاگیا کہ بی جے پی مسلم خواتین کو ان کا جائزحق دلارہی ہے۔ حیدرآباد میں منعقدہ اجلاس میں مسلم پرسنل لاء بورڈ نے طلاق ثلاثہ اور بابری مسجد کے بارے میں جو فیصلہ کیا ہے وہ حق بجانب ہے۔ ہندوستان ایک جمہوری و سیکولر ملک ہے اس میں زبردستی کسی پر کوئی قانون نافذ نہیں کیا جاسکتا بلکہ مذاکرات اور شعور بیداری سے متفقہ رائے کے تحت فیصلے کئے جاسکتے ہیں۔ سرزمین حیدرآباد سے مسلم پرسنل بورڈ نے ملک کے عوام اور مسلمانوں کو اتحاد کا پیغام دیا ہے۔ اپنے آپسی مسائل کو آپس میں مل بیٹھ کر اتفاق رائے سے حل کرنے کا مشورہ دی ہے۔ کسی بھی مسئلہ پر کسی کو بھی نظر یاتی اختلاف ہوسکتا ہے۔ مگر جب مسئلہ ملت اور شریعت کا آجاتا ہے تو ب کو نظریاتی اختلافات کو فراموش کرتے ہوئے متفقہ پر فیصلہ کرنا چاہیئے۔ یہی مسلمانوں کیلئے بہتر اور مناسب ہوگا۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT