Thursday , November 23 2017
Home / مضامین / تھے تو آباء وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہو

تھے تو آباء وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہو

 

محمد مبشر الدین خرم
ملک کی تقسیم کے ذمہ دار ہندستان میں دوبارہ شورش پیدا کرتے ہوئے صورتحال کو مزید ابتر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ہندستان کے حقیقی دشمن کون ہیں اور ان کا مقصد کیا ہے۔ملک کی ترقی اور شہریوں سے انصاف کے ساتھ ان کے حقوق کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے لیکن موجودہ حکومت اپنے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کے اقدامات کر رہی ہے جو کہ ملک کے مستقبل کے حق میں نہیں ہے لیکن اس کے باوجود برسراقتدار طاقتوں کو پنے اقدامات پر فخر ہے اور وہ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ ان کے اقدامات کو ملک کے عوام بلا چوں و چرا قبول و منظور کرنے لگیں گے لیکن ایسا نہیں ہے کہ جو باتیں حکومت کی جانب سے مسلط کردی جائیں انہیں عوام قبول کرتے چلے جائیں گے بلکہ حکومت کے تسلط کے خلاف برہم عوام کو اگر قیادت میسر نہ آئے تو ایسی صورت میں صورتحال اور دھماکو ہو سکتی ہے کیونکہ کسی بھی تحریک کی قیادت اگر کسی کے ہاتھ میں ہو تو حالات کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے لیکن جب بغیر رہبر و رہنماء کے تحریکیں شروع ہو تی ہیں تو ان میں ہر شخص اپنی جگہ قائد بن جاتا ہے اور اپنے طور پر فیصلہ کرنے لگتا ہے جو کہ بسا اوقات حکومتوں کے لئے خطرناک ثابت ہونے لگتا ہے کیونکہ قائدین پر کنٹرول کے ہنر سے حکومتیں خوب واقف ہیں لیکن شہریوں پر کنٹرول حکومت کے بس کی بات نہیں ہوتی تاوقتیکہ شہریوں کو ان کے حقوق اور انصاف کی فراہمی کے ساتھ تمام کو مساوی اختیار نہ دیا جائے۔ لیکن ہندستان کے حالات میں تیزی سے جو تبدیلی لانے کی کوشش کی جا رہی ہے وہ نہ ملک کے مفاد میں ہے اور نہ ہی حکومت کے عزائم کو کامیاب کرسکتی ہے جس کے نتیجہ میں شورش پیدا ہونے کے خدشات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

2014عام انتخابات کے بعد سے ملک کی دوسری بڑی آبادی مسلمانو ںمیں پیدا ہونے والی مایوسی کے بادل اب چھٹنے لگے ہیں اور مسلمان بخوبی اس بات کا اندازہ کر چکے ہیں کہ حکومت کس طرح سے انہیں کچلنے اور انہیں اکسانے کی کوشش کر رہی ہے اور اس مقصد کیلئے کسے استعمال کیا جا رہا ہے ۔ مسلمان ہندستان اپنے حقوق کے ساتھ جینے کے ہنر سے واقف ہیں لیکن ان میں احساس مایوسی اور تنفر کو فروغ دینے کی جو کوشش کی جا رہی ہے ان کوششوں کو ناکام بنانے کیلئے عام شہریوں نے کمان سنبھالنی شروع کردی ہے اور اب یہ دیکھا جانے لگا ہے کہ ہندستانی مسلمان شعور کا ثبوت دیتے ہوئے ان تمام قائد نما بہروپیوں کے چہروں سے نقاب اتارنے تیار ہیں جو اب تک مسلمانو ںکو گمراہ کرتے آئے ہیں اور انہیں ان کے ذیلی مسائل میں الجھا کر رکھنے کی کوشش کر تے رہے ۔طلاق ثلاثہ مسئلہ پر سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد جو ردعمل سامنے آیا اسے دیکھنے کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہندستانی مسلمانوں کو اب اپنے ذمہ داروں پر اعتماد باقی نہیں رہا اور وہ اپنے طور پر حکمت عملی تیار کرنے میں مصروف ہو چکے ہیں کیونکہ عدالت نے جو فیصلہ دیا اس کا جائزہ لیا جائے تو عدلیہ نے دو فریقین کے درمیان مسئلہ کو سلجھانے اور کسی ایک کے حق میں فیصلہ صادر کرنے کے بجائے مقدمہ کے ایک فریق کو اس بات کا اختیار دیا ہے کہ وہ مسئلہ کی یکسوئی کیلئے قانون سازی کرے اور اس فیصلہ پر فریق ثانی کا رد عمل انتہائی افسوسناک بلکہ امت کو افیون کی گولی دینے کے مترادف رہا ہے۔

قانون سازی کا اختیار موجودہ حکومت کو حاصل ہونے کے بعد ہندستانی مسلمان جو اب تک اپنے مذہبی امور اور شرعی قوانین پر عمل آوری کے سلسلہ میں کسی کی رائے کے پابند نہیں تھے اب ان میں کئی ترامیم کے مطالبات شروع کردیئے جائیں گے۔ حکومت جب اندرون 6ماہ طلاق ثلاثہ کے سلسلہ میں قانون سازی کا عمل شروع کرے گی تو اس کے ساتھ ہی حکومت کے اشاروں پر ناچنے والی ٹولیوں سے تعلق رکھنے والے اس قانون کے ساتھ ساتھ دیگر ترامیم کے بھی مطالبات شروع کردیں گے اور شرعی قوانین کی کھل کر مخالفت کی جانے لگے گی ۔ تیونس میں لڑکیوں کو میراث میں مساوی ترکہ دیئے جانے کے مطالبہ کے ساتھ تحریک چلائی جارہی ہے لیکن اللہ ان علماء کو سلامت رکھے جو حکومت کو ایسا کرنے سے باز رکھے ہوئے ہیں اور یہ تحریک ہندستان کے ان آزاد خیال گوشوں میں بھی فروغ پانے لگی ہے جو شریعت کے اصولوں سے واقف نہیں ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ قوانین نعوذ باللہ وقت اور حالات کے اعتبار سے مناسب نہیں ہیں۔ طلاق ثلاثہ قانون سازی کے دوران یہ مطالبہ بھی اٹھا یا جا سکتا ہے اور اس کے ساتھ یہ بھی مطالبہ کرنے کی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے کہ اگر خاتون خلع طلب کرے تو فوری شوہر کو طلاق دینے کا پابند بنایاجائے کیونکہ اکثر خلع طلب کرنے کے باوجود طلاق دینے سے انکار کرتے ہوئے نبھانے کی کوشش کی جاتی اور یہ حقیقت ہے کہ بعض شرپسند صرف اس لئے طلاق نہیں دیتے تاکہ وہ خاتون کو ہراساں کرسکیں ۔
آزاد ہندستان کی تاریخ میں علماء و اکابرین نے جس جرأ ت و ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے تحفظ شریعت کے لئے حکومت کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کی اس طرح کی گفتگو موجودہ دور میں کرنے کی ہمت کسی میں نظر نہیں آرہی ہے اور یہ بات عوام کے سمجھ میں آنے لگی ہے کہ اب ہندستانی مسلمانوں کو شرعی معاملات میں رہبری کا مجاز تصور کیا جانے والا ادارہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ مولانا منت اللہ رحمانیؒ ‘ مولانا قاری محمد طیب قاسمی ؒ ‘ مولاناعلی میاں ندوی ؒ‘مولانا حمید الدین عاقل حسامی ؒ ‘ مولانا محمد عبدالرحیم قریشی ؒ ‘ جیسی عظیم المرتبت شخصیات سے محروم ہونے کے ساتھ ان کے انتقال کے سبب پیدا شدہ خلاء کو پر نہیں کرپایا ہے ان کے علاوہ مولانا سید اسعد مدنی ؒ ‘ اور غلام محمود بنات والا‘ سلطان صلاح الدین اویسی ‘ابراہیم سلیمان سیٹھ جیسی سیاسی قیادت کی کمی کو بھی ہندستانی مسلمان محسوس کرنے لگے ہیں ۔سپریم کورٹ کے طلاق ثلاثہ پر فیصلہ نے قیادت پر ایقان کو کمزور کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے جس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں کیونکہ ان حالات میں قوم اپنے معاملات کی باگ ڈور اگر اپنے ہاتھ میں لینے لگ جاتی ہے تو ایسی صورت میں حالات قابو میں لایا جانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوجاتاہے ۔ مظالم پر آہ و بکا کرنا فطرت انسانی ہے لیکن جب مظالم حد سے گذر جاتے ہیں اور طوطا چشم قیادت ان پر خاموشی اختیار کر جاتی ہے تو قوموں کی حالت بند کمرے میں حملہ کا شکار بلی کی طرح ہو جاتی ہے جو اپنے بچاؤ کیلئے حملہ آور کے گلے پر شیر کی طرح وار کر بیٹھتی ہے۔

سپریم کورٹ کے طلاق ثلاثہ پر فیصلہ سے قبل کرنل پروہت کی ضمانت کا فیصلہ آیا اوراس فیصلہ میں بم دھماکوں کے ملزم پروہت کو بے قصور قرار نہیں دیا گیا بلکہ اسے ضمانت دی گئی تھی لیکن اس کے باوجود اسے ہندستانی افواج پورے احترام کے ساتھ لے گئے جبکہ ابھی مقدمہ زیر دوراں ہے۔ اسی طرح اگر ملک کے دیگر معاملات کا جائزہ لیاجائے تو یہ بات واضح ہوگی کہ حکومت مخصوص طبقہ کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی اختیار کی ہوئی ہے اور ملک میں فرقہ وارانہ منافرت کے ماحول کو فروغ دینے کے لئے چند ایسے لوگوں کا بھی استعمال کیا جانے لگا ہے جواپنے مفاد کیلئے ملک کا شیرازہ بکھیرنے سے بھی گریز نہیںکرتے۔ گاؤکشی کا معاملہ ہو یا فرقہ وارانہ کشیدگی کے واقعات یا پھر گائے کے گوشت کے نام پر بھیڑ کی جانب سے کی جانے والی ہلاکتوں پر حکومت کی خاموشی تمام حالات کی عکاسی کر رہے ہیں اور حکومت کا ریموٹ جن ہاتھوں میں ہے وہ ملک سے محبت کے ثبوت اکٹھا کرنے میں اور اسناد کی تقسیم کے علاوہ مسلمانوں کی صفوں میں موجود کالی بھیڑوں کواپنے ساتھ کرنے میں مصروف ہیں اور اس بات کا اندازہ ہونے کے باوجود بھی لوگوں میں دیکھی جانے والی خاموشی سنگین طوفان کا پیش خیمہ ہے اور اس بات کو حکومت بھی محسوس کرنے لگی ہے۔ملک کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد اس بات کا اندازہ لگانا دشوار نہیں ہے کہ ملک کے حالات انتہائی سنگین ہوتے جا رہے ہیں چاہے کشمیر کے معاملات ہوں یا پھر تمل ناڈو میں افرا تفری کی صورتحال ہو ان تمام کی پردہ پوشی میں حکومت کب تک کامیاب ہو سکتی ہے یہ کہنا مشکل ہے ۔

قومی سطح پر جو مسائل ملک کے عوام کو درپیش ہیں ان میں سب سے اہم بے روزگاری‘ معاشی عدم استحکام‘ سیلاب سے متاثرہ ریاستیںاورکسانوں کی مشکلات کے علاوہ بیرون ملک میں خدمات انجام دے رہے ہندستانیوں کی ملک واپسی اور ان کی باز آبادکاری ہے لیکن حکومت ان تمام مسائل کو پس پشت ڈال کر مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہوئے پراگندہ ذہن ہندستانیوں کو متحد کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ ان کا اتحاد برسراقتدار جماعت کی حکومت کو برقرار رکھ سکے لیکن جب عوام سے انصاف نہ ہو اور عدم مساوات کے معاملات بہت زیادہ ہونے لگتے ہیں تو عوام میں شعور اجاگر کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی بلکہ عوام اپنا انتقام خود لینے لگتے ہیں ۔ موجودہ حالات میں قیادت سے مایوسی خواہ وہ مذہبی ہو یا سیاسی تیزی سے فروغ پائی جانے لگی ہے ۔ حکومت ہنداب جبکہ طلاق ثلاثہ مسئلہ پر قانون سازی کرے گی تو اس وقت انتہائی چوکسی اختیار کئے جانے کی ضرورت ہے کیونکہ سابق میں کی گئی غفلت کا خمیازہ بھگت چکے ہیں اور اگر دوبارہ غفلت کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں شرعی معاملات میں ہونے والی مداخلت کو روکا نہیں جا سکے گا۔

بھارتیہ جنتا پارٹی نے ملک میں اقتدار حاصل کرتے ہی یکساں سیول کوڈ کی بات کی اور جب اسے اس بات کا اندازہ ہوا کہ یکساں سیول کوڈ کا نفاذ ہندستان میں ممکن نہیں ہے کیونکہ ہندستان میں بسنے والے اکثریتی طبقہ میں ہی کئی تہذیبیں ہیں جو ان کے رواج میں اور بعض مقامات پر مذہبی امور میں شامل ہیں تو اس نظریہ کو بالواسطہ طور پر ترک کرتے ہوئے طلاق ثلاثہ کے راستہ سے شرعی امور میں مداخلت کی راہ ہموار کر نے میں کامیابی حاصل کر لی گئی ہے اور یکساں سیول کوڈ کا تذکرہ بند کردیا گیا ہے ۔ ہندستان کی شناخت میں سیکولر ازم‘ فرقہ وارانہ یکجہتی ‘ ہمہ لسانی کے ساتھ سب سے اہم ملک میں موجود کثرت میں وحدت کا نظریہ انتہائی اہم ہے اور حکومت کسی بھی صورت یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کو ممکن نہیں بنا سکتی کیونکہ حکومت کو اکثریتی طبقہ کے ہی مختلف طبقات کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اسی لئے یہ راہ اختیار کرتے ہوئے مسلمانو ںکے عائلی قوانین کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ان حالات میں مسلم قیادت بالخصوص مذہبی قیادت و ذمہ داران کو چوکس رہتے ہوئے آزاد خیالی سے اجتناب کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اس ملک میں انہیں حاصل اپنے تشخص کے تحفظ کی ضمانت کے استعمال سے نہیں چوکنا چاہئے۔
@infomubashir

TOPPOPULARRECENT